- الإعلانات -

ہندوستان: خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کےخلاف احتجاجی مظاہرے

نئی دہلی: ہندوستان میں خواتین پر تشدد کے حالیہ واقعے میں ریپ کا شکار ایک کم عمر لڑکی کو ہسپتال میں علاج کے دوران دوبارہ ریپ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

15 سالہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اتوار کو ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ نے اسے ریپ کا نشانہ بنایا.

مذکورہ لڑکی کو ریاست جھارکنڈ کے شہر جمشید پور کے ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کیا گیا تھا.

پولیس سپرنٹنڈنٹ جندن جا کا کہنا تھا ‘لڑکی کی شکایت کے بعد ہم نے مقدمہ درج کرکے نجی ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کرلیا جبکہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کے آنے کا انتظار کیا جارہا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘لڑکی کو مزید طبی سہولیات اور بحالی کے لیے شہر کے سب سے اچھے ہسپتال منتقل کردیا گیا’۔

خیال رہے کہ لڑکی نے اس سے قبل پولیس کو بتایا تھا کہ شہر کے مضافات میں اُسے اس کے ایک کم عمر پڑوسی نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد علاج اور بحالی کے لیے لڑکی کو ایم جی ایم ہسپتال میں داخل کروایا گیا.

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ‘لڑکی کے ساتھ ریپ کرنے والا پہلا فرد کیونکہ کم عمر تھا اس لیے اسے گرفتار کرکے بچوں کی جیل منتقل کردیا گیا ‘۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں گزشتہ کئی سالوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے تاہم 2012 میں دہلی میں بس میں سفر کے دوران ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ اور بعدازاں دورانِ علاج لڑکی کی ہلاکت نے عالمی توجہ ہندوستان میں خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات کی جانب مبذول کروائی۔

اس واقعے کے بعد ہندوستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ریپ میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے قانون سازی کی جائے تاہم ان سب کے باوجود ریپ کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔