- الإعلانات -

فضائی حملوں نے داعش کی کمر توڑ دی ہے

واشنگٹن: امریکا کی ایک نئی ان ٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے عراق اور شام میں مسلح ارکان کی تعداد پچیس ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔اس سے پہلے ان کے جنگجوؤں کی تعداد اکتیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔امریکی انٹیلی جنس حکام کے مطابق میدان جنگ میں ہلاکتوں اور جنگجوؤں کے منحرف ہوجانے یا راہ فرار اختیار کرجانے کی وجہ سے داعشیوں کی تعداد میں 20 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف مہم پیش رفت کررہی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے امریکا کی یہ انٹیلی جنس رپورٹ جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران جاری کی ہے اور کہا ہے کہ داعش کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور امریکا کے اتحادی شراکت کاروں کی برسرزمین کارروائیوں کے بھی داعش کے خلاف اثرات مرتب ہوئے ہیں۔جوش ایرنسٹ کا کہنا تھا کہ امریکا کی حمایت یافتہ عراقی سکیورٹی فورسز اور قبائلی ملیشیاؤں اور شام میں اعتدال پسند حزب اختلاف نے داعش کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی طرح امریکا کی قیادت میں فضائی مہم نے بھی داعش کی کمر توڑ دی ہے۔امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے اس انتہا پسند گروپ پر دس ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ داعش کو اب اپنی صفوں میں جنگجو بھرتی کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور ہم ایک طویل عرصے سے غیرملکی جنگجوؤں کی خطے میں آمد کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زوردیتے رہے ہیں۔اس موقع پر امریکا کی قومی سلامتی کونسل کی خاتون ترجمان ایمائلی ہورن نے نئی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ”2014ء میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد قریباً پچیس سے اکتیس ہزار کے درمیان تھی لیکن اب یہ گھٹ کر انیس سے پچیس ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔داعشیوں کی میدان جنگ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں،ان کی بھرتی میں کمی واقع ہوئی ہے اور غیرملکی جنگجوؤں کو شام کے سفر میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند شام کا رْخ کرنے کے بجائے اب مرکزی قیادت کی ہدایت پرشورش زدہ لیبیا جارہے ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ میں داعش کے جنوبی ایشیا ،مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے علاقوں اور شمالی افریقا میں وابستگان کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔لیبیا میں داعش کے وابستگان کی تعداد کے بارے میں امریکی عہدے داروں نے مختلف اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔محکمہ دفاع کے عہدے داروں کے مطابق ان کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہے اور دوسرے امریکی حکام نے ان کی تعداد پانچ سے چھے ہزار بتائی ہے۔