صحت

آنکھوں کے زخم دور کرنے کیلئے ’’جیلی نما گوند‘‘ ایجاد

بوسٹن: آنکھوں میں زخم اور دیگر نقصانات کی صورت میں ایک سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم اب ماہرین نے حیاتیاتی طور پر ایک ایسا جیل (گوند) تیار کیا ہے جو آنکھوں کی چوٹ کو ٹھیک کرسکتا ہے بلکہ اس کی بدولت آنکھوں کے قرنیہ کی منتقلی کے آپریشن کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک ایک رپورٹ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی ’جیل کور‘ کے بارے میں لکھا ہے جو ایک گوند نما جیل پر مبنی ہے اور روشنی سے متحرک ہوکر جیل قرنیہ کے زخم بھرکر زخم اور کٹنے کے عمل کو دور کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ جیل قرنیہ کی بافتوں (ٹشوز) کو افزائش کرتا ہے۔ تاہم اسے انسانوں پر نہیں آزمایا گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے جلد یا بدیر یہ ایجاد قرنیے کے سرجری سے بھی نجات دلائے گی جن میں قرنیہ کی منتقلی جیسے پیچیدہ آپریشن بھی شامل ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کلائس ایچ دولمان اور اور میساچیوسیٹس آنکھ اور کان ہسپتال کے محقق رضا دانا نے امید ظاہر کی ہے یہ بایومٹیریل ہے جو قرنیہ کے زخم سے چپک جاتا ہے اور وہاں خلیات کی افزائش کرتا ہے اور قرنیے کی بڑھوتری عین قدرتی عمل کی طرح ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال متاثر قرنیے سے نابیناپن کے 15 لاکھ سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فی الحال قرنیے میں سوراخ ، کمزوری، زخم اور پتلے پن سمیت دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے لیزر اور دیگر طریقوں سے جراحی کی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ گوند ایک بہترین بصارت دوست متبادل ہے۔ پھر قرنیے کی منتقلی میں انفیکشن اور مسترد کرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

تجرباتی طور پر اس جیل کو بہت ہی مؤثر قرار دیا گیا ہے ۔ جب متاثرہ قرنئے پر اسے لگایا گیا تو 3 ملی میٹر کا زخم اس نے درست کردیا۔ چند دنوں بعد آنکھ بہتر اور ہموار ہوگئی اور جلن کے آثار بھی نہیں دیکھے گئے۔ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جب اس جیل پر روشنی ڈالی جاتی ہے تب ہی یہ سرگرم ہوتا ہے اور یوں روشنی قابو کرکے اسے بھی اپنے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔

انسان صحیح معنوں میں 30 سال میں بالغ ہوتا ہے، نئی تحقیق

اگرچہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کسی بھی انسان کے بالغ ہونے کی قانونی عمر 18 برس ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اسی عمر میں انسان صحیح معنوں میں بالغ نہیں ہوتا۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں 18 سال کے بعد تمام افراد کو نہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا کیا جاتا ہے، بلکہ انہیں شادی کرنے، ووٹ کاسٹ کرنے، کوئی بھی ملکیت خریدنے اور فروخت کرنے سمیت انہیں قانونی طور پر بالغ سمجھا جاتا ہے۔

اگر کوئی بھی شخص 18 سال سے چند ماہ پہلے بھی کسی جرم کے الزام میں گرفتار کیا جائے تو اس کے خلاف نابالغ افراد یعنی بچوں کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔

تاہم 18 سال کے ہوتے ہی ہر شخص کی قانونی حیثیت تبدیل ہوجاتی ہے۔

لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے دماغی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل انسان صحیح معنوں میں 30 سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے۔

18 سال کے بعد انسان بہتر بالغ ہونا شروع ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: ون میڈ ڈائریکٹ
18 سال کے بعد انسان بہتر بالغ ہونا شروع ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: ون میڈ ڈائریکٹ

ماہرین کا کہنا تھا کہ انسان کا بالغ ہونا بھی دنیوی نظام تعلیم یا اس طرح کے دیگر نظاموں کی طرح ہوتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی 6‘ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے مثال دی کہ اگرچہ 18 سال کے افراد کو پولیس بالغ افراد کے طور پر گرفتار کرتی ہے اور عدالتیں بھی ان کے خلاف بالغ افراد کے طور پر ہی مقدمہ چلاتی ہیں۔

تاہم اگر عدالت میں 18 برس اور 30 برس کے ملزموں کو پیش کیا جائے تو ججز دونوں کی عمر کی وجہ سے 18 سال کی عمر کے ملزم کو منظم جرائم پیشہ نہیں مانتے اور 30 سال والے شخص کو عادی مجرم مانا جاتا ہے۔

بالغ ہونے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، ماہرین—فوٹو: ایڈلٹ ارنر
بالغ ہونے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، ماہرین—فوٹو: ایڈلٹ ارنر

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ 18 سال کی عمر کو پہنچے ہی انسان جسمانی و قانونی طور پر بالغ ہوجاتا ہے اور اسے کئی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں، تاہم وہ سنجیدہ شخص نہیں بنتا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان سنجیدہ ہوجاتا ہے اور وہ صحیح معنوں میں بالغ بنتا ہے۔

دماغی ماہرین کے مطابق انسان کے بالغ ہونے اور سنجیدہ بالغ ہونے میں کسی تجربہ کار اور ناتجربہ کار انسان کی طرح کا فرق ہوتا ہے۔

ماہرین نے یہ باتیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈپیارٹمنٹ اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والی ایک تقریب میں کہیں۔

18 سال اور 30 کے بالغ میں فرق ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
18 سال اور 30 کے بالغ میں فرق ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

گرم چائے پینا جان لیوا مرض کا باعث

چائے کے شائقین زیادہ تر افراد گرما گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق نیم گرم یا ٹھنڈی چائے میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو گرم چائے میں ہوتا ہے۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت بھی گرما گرم چائے یا دیگر مشروب پینے سے روک چکا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی تھی کہ تیز گرم چائے صحت کے لیے نقصان کار ہوتی ہے۔

تاہم اب امریکی ماہرین کی جانب سے ایران میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تیز گرم چائے جان لیوا مرض یعنی گلے یا غذائی نالی کی کینسر کا باعث بنتی ہے۔

انٹرنیشل جرنل آف کینسر (آئی جے سی) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے غذائی نالی یا گلے کی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) کے ماہرین کی جانب سے ایران کے شمال مشرقی صوبے گلستان کے 5 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد 60 سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے پیتے ہیں ان میں گلے یا غذائی کینسر ہونے کے 90 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 40 سے 75 سال افراد کی جانب سے تیز گرم اور نیم گرم چائی پیے جانے کے نتائج کو 2004 سے 2017 تک مانیٹر کیا اور بعد ازاں رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لیا۔

جائزے کے نتائج سے معلوم پتہ چلا کہ جو افراد ابلتی ہوئی تیز گرم چائے پینے کے عادی ہیں ان میں غذائی نالی اور خصوصی طور پر گلے کی کینسر کے امکانات عام افراد یا پھر نیم گرم چائے پینے والے افراد کے مقابلے 90 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی تحقیق سے قبل بھی یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے، تاہم ان کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کتنی گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد یومیہ 700 ملی لیٹر یعنی چائے کے 2 بڑے کپ تیز گرم پیتے ہیں وہ جلدی سے کینسر کا شکار بنتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ چائے کے شوقین افراد کو نیم گرم چائے پینی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر چائے کے شوقین افراد تیز گرم چائے کے کپ کو محض 4 منٹ کے بعد پینا شروع کریں گے تو ان میں کینسر کے خدشات کم ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت بھی کہ چکا ہے کہ چائے یا دیگر گرم مشروب کو 65 سینٹی گریڈ سے زائد گرم صورت میں نہ پیا جائے۔

لندن میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نہ صرف چائے اور مشروب بلکہ ہر تیز گرم غذا کو کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور سے غذائی نالی، گلے، معدے اور اسی طرح کے دیگر کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

غذائی نالی یا گلے کے کینسر کا شمار کینسر کے 8 ویں بڑی قسم میں ہوتا ہے اور اس سے سالانہ 4 لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

رواں سال میں اب تک امریکا میں غذائی یا گلے کی کینسر کے مجموعی طور پر 16 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 ہزار کے قریب خواتین مریض ہیں۔

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

ہالینڈ:  نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

ہالینڈ میں نیشنل انسٹٰی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ اینوائرمنٹ نے یورپی کینسر اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت 35000 افراد کا 15سال سے زائد عرصے تک سروے کیا جن میں 20 سے لے کر 70 سال تک کے افراد شامل تھے۔ اس سروے کا مقصد غذا، صحت یا اس سے ہونے یا نہ ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔

تاہم تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف نارنجی کے جوس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ دیگر اقسام کے تازہ پھلوں کا رس بھی اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہفتے میں 8 مرتبہ نارنجی کا رس پیا جائے تو فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن یہ رس پینے سے فالج کا خطرہ 20 فیصد تک ٹلتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اورنج جوس دل کے امراض کے خطرے کو بھی دور کرتا ہے اور اس سے  دل کی شریانوں کے متاثر ہونےکا خدشہ 12 سے 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے رس میں پھل کے تمام اہم کیمیکلز اور فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کی شرح کم ہوتی ہے اور یوں فالج یا لقوے کا خطرہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔

فالج کے اکثر واقعات میں خون کا لوتھڑا جسم سے گھومتا ہوا دماغ کی باریک رگوں میں پھنس جاتا ہے اور یوں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے جس سے فوری موت واقع ہوجاتی ہے یا بچ جانے والے کسی نہ کسی معذوری کے شکار ہوجاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین نے کہا ہے کہ شکر سے پرہیز کرنے والے افراد نارنجی کا رس پینے سے دور نہ ہٹیں کیونکہ اس کے بے پناہ فوائد ہیں۔

آواز اور روشنی کی مدد سے دماغ کی صفائی میں اہم کامیابی

بوسٹن: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ روشنی اور آواز سے تحریک دینے سے دماغ سے وہ فاسد مواد خارج ہوجاتا ہے جو الزائیمر کی وجہ بنتا ہے۔ اسی عمل سے دماغی افعال کو درست کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔  

ہم ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ جیسے جیسے دماغ میں بی ٹا ایمائی لوئڈ نامی مادہ جمع ہوتا ہے تو وہ ایک اور زہریلے پروٹین ٹاؤ سے مل کر اعصابی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرتا ہے اور یوں الزائیمر جیسی بیماری سر اٹھانے لگتی ہے۔ اب حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ  الزائیمر کے شکار مریضوں کی دماغی لہروں میں بھی بے قاعدگی اور خرابی پائی جاتی ہے۔ دماغی خلیات یا نیورونز خاص طرح کی برقی تھرتھراہٹ خارج کرتے ہیں جنہیں دماغی امواج یا brain waves  کہا جاتا ہے۔

اس سے قبل تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ الزائیمر کے مریضوں میں سب سے بلند فری کوئنسی والی ’گیما‘ دماغی لہروں میں واضح خلل آتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں کیمبرج اور ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ بعض اقسام کی لائٹ تھراپی یا روشنی سے علاج کے بعد الزائیمر کے شکار چوہوں میں گیما لہریں دوبارہ بحال کی جاسکتی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ دماغ میں بیماری کی وجہ بننے والے بی ٹا ایمائی لوئڈ میں کمی واقع ہورہی ہے۔

اب اسی ٹیم نے بتایا ہے کہ روشنی اور آواز کی مدد سے بعض مریضوں میں دماغی بہتری پیدا کی جاسکتی ہے جس کی تفصیلات جرنل سیل میں شائع ہوئی ہیں۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر لائی ہوائی سائی اور ان کے ساتھیوں نے الزائیمر والے چوہوں کو روزانہ 40 ہرٹز کی روشنی میں ایک گھنٹے تک رکھا۔ اس سے چوہوں میں دماغ کا دشمن بی ٹا ایمائی لوئڈ کم ہوا اور ساتھ ہی زہریلے ٹاؤ پروٹٰین کی مقدار بھی کم ہوئی ۔

اس کے بعد چوہوں کو مسلسل سات روز تک 40 ہرٹز کی آواز ایک گھنٹے تک سنائی گئی تو اس کے بھی اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ اس سے نہ صرف دماغ میں آوازوں کے گوشے بلکہ یادداشت کے ایک اہم مرکز ’ہیپوکیمپس‘ سے بھی مضر کیمیکل اور پروٹین میں کمی دیکھی گئی ۔ اسی کے ساتھ دماغ میں خون کا بہاؤ بھی بہت بہتر ہوا جو ایک اضافی فائدہ ہے۔

اس کے بعد ماہرین نے آواز اور روشنی دونوں کو ملاکر مزید ایک ہفتے تک استعمال کیا تو امائی لوئڈ میں مزید کمی دیکھی گئی۔ جس کے مزید فوائد دیکھے گئے ہیں۔ یہ طریقہ انسانوں کے لیے بہت محفوظ اور مؤثر ثابت ہوسکتا اور توقع ہے کہ جلد ہی انسانوں پر اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔

بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو ہونے والے ڈپریشن کیلئے پہلی دوا کا استعمال منظور

واشنگٹن: امریکی حکومت نے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے پہلی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔

مذکورہ بیماری سے صرف امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک ماں ضرور متاثر ہوتی ہے۔

اس بارے میں سینٹر فار ڈرگ ایولوشن اینڈ ریسرچ کی عہدیدار ٹفنی فارچوائن کا کہنا تھا کہ ماؤں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک سنگین صورتحال ہے جو اگر شدید ہو تو اس سے زندگی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار خواتین کو اپنے آپ کو یا اپنے بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات آتے ہیں‘۔

اس مرض کا دوسرا سب سے بڑا اثر مریض پر غنودگی طاری ہونا اور منہ خشک ہوجانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منظوری سے پہلی بار کسی دوا کو خاص طور پر پوسٹ مارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے مختص کیا گیا جو علاج کا ایک نیا اور اہم طریقہ کار ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے جس دوا کی منظوری دی گئی اس کا نام بریگزانولون (brexanolone) جو سیگ تھراپیوٹکس کمپنی کی ہے۔

اس دوا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے فائدہ پہنچاتی ہے زیادہ سے زیادہ 2 دن میں جبکہ ڈپریشن دور کرنے کی روایتی ادویات کے اثر میں چند ہفتوں سے کچھ ماہ تک کا عرصہ لگتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ دوا کا تجارتی نام زُلریسو ہے جس کی منظوری فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دی۔

تاہم اس بات کی تاکید کی گئی کہ اس دوا کے استعمال کے بعد 60 گھنٹوں تک ہسپتال میں نگرانی کی جائے کیوں کہ کلینکل ٹیسٹس کے دوران کچھ خواتین میں بے ہوشی کا خطرہ پایا گیا۔

دوا بنانے والی کمپنی سیگ تھراپیوٹکس کا کہنا تھا کہ مذکورہ دوا جون کے اواخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

امریکی ذرائع بالاغ کے مطابق جن لوگوں کے پاس ہیلتھ انشورنس موجود نہیں ان کے لیے اس علاج کے اخراجات 34 ہزار ڈالر تک مہنگے ہوسکتے ہیں تاہم اس علاج کے لیے ہسپتال کی نگرانی ضروری ہے جس کے اخراجات اس رقم میں شامل نہیں ۔

اس بارے میں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کا کہنا تھا کہ 2012 میں تقریباً 11.5 فیصد نئی مائیں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوئیں۔

ہفتے میں 4 انڈے کھانے والے افراد میں قبل از وقت مرنے کے امکانات زیادہ

انڈوں کو اب تک کی طاقتور اور بہترین غذا سمجھا جاتا رہا ہے اور یہ تقریبا سب کی پسندیدہ غذا میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت یا اب تک کی سامنے آنے والی تحقیقات میں اگرچہ زیادہ انڈے کھانے کے تھوڑے سے نقصانات ضرور بتائے گئے تھے، تاہم انہیں کھانے کے کئی فائدے بتائے گئے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق انڈے نہ صرف جسم میں توانائی بڑھاتے ہیں بلکہ یہ جلد اور بالوں کی رونق بڑھانے سمیت دماغ، دانتوں، بینائی کو بھی بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

انڈوں کو بھوک سے جان چھڑانے والی غذا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

انہیں سردیوں میں انسانی جسم اور صحت کی حفاظت کا ضامن بھی سمجھا جاتا ہے، تاہم حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے سب کو حیران کردیا۔

امریکا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف ہوا کہ ہفتے میں 4 سے زیادہ اںڈے کھانے والے افراد عام لوگوں کے مقابلے قبل از وقت مرسکتے ہیں۔

سائنس جرنل ’جاما‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا میں کی جانے والی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ انڈے کھانا دل کی بیماریوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔

انڈوں کے غذائی فوائد یا نقصانات پر نئی تحقیق کی ضرورت ہے، ماہرین1فوٹو: ہیلتھ لائن
انڈوں کے غذائی فوائد یا نقصانات پر نئی تحقیق کی ضرورت ہے، ماہرین1فوٹو: ہیلتھ لائن

شکاگو کی یونیورسٹی آف فین برگ اسکول آف میڈیسن کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 31 سال سے زائد عمر کے 29 ہزار 615 افراد کی غذا اور صحت کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے گزشتہ ساڑھے 17 سال کے دورانیے کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ انڈے کھانے سے لوگوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ماہرین کو جائزے کے نتائج نے حیران کردیا۔

نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ہفتے میں 3 سے 4 انڈے کھانے والے افراد کو نہ صرف دل کی بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں بلکہ وہ قبل از وقت موت کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

نتائج کے مطابق اگر کوئی بھی شخص ہفتے میں 4 سے زائد انڈے یا یومیہ 300 ملی گرام کولیسٹرول پر مبنی غذا کھائے گا تو نہ صرف دل کی بیماریوں کا شکار ہوگا بلکہ وہ قبل از موت کا شکار بھی بن سکتا ہے۔

انڈوں کو کئی حوالے سے بہتر سمجھا جاتا ہےشٹر اسٹاک فوٹو
انڈوں کو کئی حوالے سے بہتر سمجھا جاتا ہےشٹر اسٹاک فوٹو

رپورٹ کے مطابق ایک انڈے میں 186 ملی گرام کولیسٹرول موجود ہوتا ہے اورہفتے میں 4 انڈے کھانے کا مطلب ہے کہ ہر شخص 700 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول حاصل کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق نتائج سے پتہ چلا کہ ہفتہ وار 4 سے زائد انڈے کھانے والے افراد عام لوگوں کے مقابلے جلد بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسے افراد میں دل کے امراض پیدا ہونے کے امکانات 6 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

اسی طرح ہفتے میں 3 سے 4 انڈے کھانے والے افراد میں مختلف وجوہات کی بناء پر قبل از وقت مرنے کے امکانات 8 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

زیادہ انڈے قبل از وقت موت کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیقی رپورٹ—فوٹو: ہیلتھ لائن
زیادہ انڈے قبل از وقت موت کا سبب بن سکتے ہیں، نئی تحقیقی رپورٹ—فوٹو: ہیلتھ لائن

ماہرین نے عام افراد پر زور دیا کہ انہیں ہفتے میں 4 سے زائد انڈے نہیں کھانے چاہیے۔

ساتھ ہی ماہرین کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت لوگوں کو یومیہ 300 ملی گرام کولیسٹرول پر مبنی غذا اور خصوصی طور پر انڈے نہیں کھانے چاہیے۔

ماہرین نے یہ تجویز بھی دی کہ انڈوں سے متعلق ماہرین کی جانب سے دیے گئے مشوروں کو بھی تبدیل کیا جائے، کیوں کہ ماہرین انڈے کھانے کے جو مشورے دے رہے ہوتے ہیں وہ کئی سال پرانی تحقیق پر مبنی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب انڈوں کی غذائیت کے حوالے سے جدید تحقیق کرنے اور انہیں کھانے کے مشوروں پر تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔

انڈوں کے حوالے سے سامنے آنے والی اس تحقیق کے نتائج کے بعد دنیا بھر میں ماہرین انڈوں پر بحث میں لگ گئے ہیں اور عام افراد اضطراب میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ماضی کی تحقیقات میں انڈوں کو دل کے امراض کے لیے بہتر قرار دیا گیا تھا—فوٹو: شٹر اسٹاک
ماضی کی تحقیقات میں انڈوں کو دل کے امراض کے لیے بہتر قرار دیا گیا تھا—فوٹو: شٹر اسٹاک

کینسر کا شکار کرنے والی چند عام عادات

کینسر دنیا بھر میں اموات کا باعث بننے والے بڑے امراض میں سے ایک ہے مگر ہر 3 میں سے ایک کیس کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کینسر سے خود کو بچانے کے لیے کوئی جادوئی گولی تو موجود نہیں مگر آپ اس کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔

کینسر اب لاعلاج مرض نہیں مگر اس کا علاج انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے جبکہ ایک مخصوص اسٹیج پر کوئی دوا کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی گزشتہ سال کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2018 میں دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 81 لاکھ کینسر کے نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 96 لاکھ اموات ہوئیں۔

اور اس مرض کا باعث بننے والی چند عادتوں کے بارے میں جانیں جن کو بدل کر آپ اس مرض سے بچ سکتے ہیں۔

جسمانی وزن پر کنٹرول نہ کرنا

دنیا بھر میں موٹاپے کے شکار افراد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ اضافی جسمانی وزن متعدد اقسام جیسے غذائی نالی، لبلبے، آنتوں، گردوں اور تھائی رائیڈ گلینڈ کے کینسر بڑھاتا ہے، درحقیقت جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا کینسر سے بچانے میں تمباکو نوشی سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

سرخ گوشت کا زیادہ استعمال

کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کے قتلوں کا زیادہ استعمال امراض قلب سے موت کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ 32 فیصد جبکہ کینسر جیسے مرض کا امکان 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزانہ سوگرام گوشت کھانے کو معمول بنالینا مثانے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ بالترتیب 19 اور 17 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں جبکہ بریسٹ کینسر کا امکان 11 فیصد بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس کی وجہ گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت میں پکانا ہوسکتا ہے جو ایک کیمیکل heterocyclic amines کی پروڈکشن کا باعث بنتا ہے جو کہ انسانوں میں مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق ہفتہ بھر میں 18 اونس سے زیادہ سرخ گوشت کھانے سے گریز کرنا اس مرض سے بچا سکتا ہے۔

سن اسکرین سے دوری

سورج کی خطرناک شعاعیں جلد جلانے سے ہٹ کر جلد کے کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہے، جو لوگ بہت زیادہ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں، ان میں اس مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر اس کینسر کی تشخیص جلد ہوجائے تو یہ قابل علاج ہوتا ہے تاہم جسم کے دیگر حصوں میں پھیل جائے تو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ سن اسکرین لوشن اس خطرے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

سبزیوں سے دوری

سبزیاں اور پھل متعدد اقسام کے کینسر سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان کا استعمال خلیات کو اس نقصان سے بچاتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتا ہے، روزانہ کم از کم ڈھائی کپ پھل اور سبزیوں کا استعمال اس مرض کو ہمیشہ دور رکھ سکتا ہے۔

سپلیمنٹس کو اہمیت دینا

سبزیاں، پھلوں اور اناج پر مشتمل غذا غذائی سپلیمنٹس کے مقابلے میں کینسر کا خطرہ کم کرنے کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں، سپلیمنٹس سے قدرتی غذاﺅں جیسے فوائد جسم کو نہیں ملتے، یہ سپلیمنٹس مخصوص عوارض کے لیے تو مدد دے سکتے ہیں مگر کینسر کی روک تھام میں زیادہ مددگار نہیں۔

میٹھے کا شوق

ایسی غذائیں یا مشروبات جن میں چینی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، ان میں کیلوریز بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی وزن بڑھتا ہے اور کینسر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ایسا نہیں کہ چینی کو بالکل زندگی سے نکال دیں مگر بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا ضروری ہے۔ میٹھے مشروبات یا سافٹ ڈرنکس سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے، ان مشروبات میں صرف چینی کی مقدار بہت زیادہ نہیں ہوتی بلکہ وہ کیمیکلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں، ان مشروبات سے دوری کینسر کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور دیگر متعدد امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اپنی جگہ سے نہ ہلنا

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مطالعے میں50 سے 71 سال کے 221000 افراد پر تحقیق کی گئی جو ریسرچ کے آغاز پر کسی دائمی بیماری کا شکار نہیں تھے۔ تحقیق کے بعد انسٹی ٹیوٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ زیادہ ٹی وی دیکھنے والے افراد میں کینسر اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسرچ میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کے ذیابطیس، انفلواینزا، پاکنسنز ڈیزیز اور جگر سے متعلق امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ مطالعے میں پایا گیا کہ جو افراد روزانہ تین، چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے کے 15 فیصدزیادہ امکانات ہوتے ہیں جبکہ جو افراد سات گھنٹے یا اس سے زائد ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں یہ امکانات 47 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

تمباکو نوشی

اگر تو آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں تو یہ عادت متعدد اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں جبکہ امراض قلب اور پھیپھیڑوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، درحقیقت اس عادت کو ترک کرنا متعدد امراض سے موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔

چیک اپ نہ کرانا

اگر کینسر کی انتباہی علامات نظر آئیں اور آپ ڈاکٹر سے رجوع نہ کریں تو علاج کی کامیابی کا امکان کم ہوسکتا ہے، مختلف اقسام کے کینسر کے ٹیسٹ بھی مختلف ہوتے ہیں جن کا تعین ڈاکٹر کرسکتا ہے۔

الکحل

الکحل کا استعمال دنیا بھر میں کینسر کے مرض کی دوسری بڑی وجہ ہے، یہاں تک کہ دن میں صرف ایک بار اس کا استعمال ہی منہ، غذائی نالی، جگر، آنتوں اور بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

Google Analytics Alternative