صحت

کیا الٹراساؤنڈ سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا علاج ممکن ہے؟

واشنگٹن: ذٰیابیطس کا مرض اتنا عام ہے کہ اب دنیا دو طرح کے لوگوں میں بٹ گئی ایک وہ جو ذیابیطس کے شکار ہیں اور دوم وہ جو اس مرض سے آزاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے علاج کےلیے کئی میدانوں پر کام ہورہا ہے جن میں سے ایک نئی پیشرفت الٹراساؤنڈ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر الٹراساؤنڈ لہروں کو لبلبے پر ڈالا جائے تو اس سے لبلبے کو بی ٹا خلیات (سیلز) کی پیداوار کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح غیرمضراور دوا سے پاک ایک ایسا طریقہ وضع ہوسکے گا جس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا علاج کیا جاسکے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں لبلبہ شکر گھلانے والا اہم جزو انسولین کم کم خارج کرنے لگتا ہے جس سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو تمام جسم اور اعضا کو متاثر کرنا شروع کردیتی ہے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانا ایک معمول بن جاتا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حالیہ ایک میٹنگ میں کہا ہے کہ  انہوں نے چوہے کے بدن میں لبلبے کے رخ پر الٹراساؤنڈ ڈال کر لبلبے کو تحریک دی کہ وہ بی ٹا خلیات بناسکے۔ اس عمل میں جلد اور لبلبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بی ٹا خلیات میں انسولین بنتی ہے، جمع رہتی ہے اور ضرورت کے وقت خارج ہوتی رہتی ہے اور خون میں شکر کے لحاظ سے اپنا ردِ عمل ظاہر کرتی ہے۔

پہلے ایک تجرباتی ڈش میں بی ٹا خلیات رکھ کر اس پر الٹراساؤنڈ ڈالی گئی تو وہ انسولین بنانے لگے ۔ اس کے بعد زندہ چوہوں میں اس کے تجربات کئے گئے اور ایک میگا ہرٹز فری کوئنسی کی الٹراساؤنڈ پانچ منٹ تک لبلبے کی جانب پھینکی گئی۔ تجربے سے پہلے اور بعد میں چوہوں کے خون کے نمونے لیے گئے۔ حیرت انگیز طورپر الٹراساؤنڈ کے عمل سے گزرنے والے چوہوں کےلبلبے سے انسولین کی خاطرخواہ مقدار خارج ہوئی جس کی نشاندہی خون کے نمونوں میں نوٹ کی گئی۔

اس کام کی نگراں ڈاکٹر تانیہ سنگھ نے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ انسولین کے اخراج کے باوجود خون میں شکر کی مقدار کم نہیں ہوئی اور یہ وہ معمہ ہے جسے سمجھنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ سائنسدانوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انسولین دیگر بہت سے کام بھی کرتا ہے جن میں ہاضمے کے خامرے (اینزائم) اور دیگررس کا اخراج بھی شامل ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ لبلبہ دیگر کئی اہم کام بھی کرتا ہے۔

مائیں بچوں کو دودھ پلائیں اور امراضِ قلب سے محفوظ رہیں

ایتھنز: ماں اور بچے کا ساتھ ایک فطری تحفہ ہے اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ مائیں جو اپنے بچوں کو باقاعدگی سے اپنا دودھ پلاتی ہیں اور دیگر خواتین کے مقابلے میں دل کے امراض سے دوررہتی ہیں۔

یہ تحقیقات یورپی سوسائٹی آف اینڈوکرائنالوجی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو خواتین اپنے بچوں کو مقررہ مدت تک دودھ پلاتی ہیں ان میں دل کے عارضوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے جس کے بعد ماہرین نے تمام خواتین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ خود پلائیں جس کے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

اس سے قبل ماہرین ثابت کرچکے ہیں کہ دودھ پلانے کا عمل بچے کی ولادت کے بعد خواتین میں ایک قسم کی ڈپریشن اور کئی اقسام کے سرطان سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی رہیں تو اس سے ان کے خون میں شکر کی مقدار برقرار رہتی ہے اور جسمانی وزن بھی صحتمند رہتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں میں ایک خاص قسم کا ہارمون ’پرولیکٹِن‘ زیادہ ہوجاتا ہے جو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتا ہے اور یوں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی کم تر ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے دودھ پلانے اور اس کے درمیان صحتمند دل کے تعلق پر بھرپور تحقیق کی ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایتھنز کی پروفیسر آئرین لیمبرینوداکی اور ان کے ساتھیوں کی ہے جس میں سن یاس (مینوپاز) والی خواتین، ان میں دودھ پلانے کا رحجان اور دل کے والو اور شریانوں کی صحت کا جائزہ لیا گیاہے۔ ساتھ ہی باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، کولیسٹرول اور سگریٹ نوشی کا رحجان بھی نوٹ کیا گیا ہے۔

ثابت ہوا کہ جن خواتین نے اپنے بچوں کو پابندی سے دودھ پلایا تھا ان میں امراضِ قلب اور اس سے وابستہ دیگر بہت سے خطرات دیگر کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ ماؤں نے جتنے عرصے بچوں کو دودھ پلایا ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ اتنا ہی کم دیکھا گیا۔

اگلے مرحلے میں پروفیسر آئرین اور ان کی ٹیم پرولیکٹِن ہارمون اور اس کے اثرات کی سائنسی وجوہ معلوم کریں گے تاکہ نہ صرف دودھ پلانے والی خواتین بلکہ دیگر خواتین میں بھی اس کے فوائد کا جائزہ لیا جاسکے۔

افطار کے دوران کیچپ کا زیادہ استعمال نقصان دہ

ہم پاکستانی ہر ڈش کے ساتھ کیچپ کھانا پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان میں کیچپ کے استعمال میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

افطار کے دوران جیسے سموسے اور پکوڑے ضروری سمجھے جاتے ہیں ایسے ہی کیچپ کی موجودگی بھی کھانے کی ٹیبل پر اہم ہوتی ہے۔

چاہے فرنچ فرائز ہوں، برگر ہو، گوشت کے پکوان یا چائنیز کھانے، پاکستانیوں کو ہر ڈش کا مزہ بڑھانے کے لیے کیچپ کی ضرورت پڑتی ہے۔

ایسا کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ اگر فروٹ چاٹ کے ساتھ کیچپ کھانے کی کوئی بہترین ترکیب سامنے آجائے تو یقیناً لوگ پھلوں کے ساتھ بھی کیچپ کا استعمال شروع کردیں گے۔

اس ماہ میں کیچپ کے استعمال میں اضافہ تو ہوجاتا ہے جس کے فائدے بھی ہیں لیکن ساتھ ساتھ اس کے کچھ نقصانات جاننا بھی ضروری ہیں۔

کیچپ کے نقصانات

کیا کبھی آپ نے کیچپ کی بوتل پر لکھے اجزاء پر غور کیا ہے؟ آئیے سب سے پہلے ان کے بارے میں جانتے ہیں:

ٹماٹو کنسنٹریٹ (Tomato concentrate) — اس عمل میں ٹماٹر کو بہت زیادہ پکایا جاتا ہے، جس کے بعد اس کے بیج اور چھلکا ہٹا کر اسے دوبارہ پکاتے ہیں جس کے نتیجے میں اس میں موجود وٹامن اور منرلز ختم ہوجاتے ہیں۔

ہائی فرکٹوز کارن سیرپ (High fructose corn syrup) — یہ اجزاء صرف کیچپ نہیں بلکہ کولڈ ڈرنکس اور اجناس وغیرہ میں موجود ہوتا ہے، جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا رہتا ہے۔

کارن سیرپ (Corn syrup) — یہ ہائی فرکٹوز کارن سیرپ جیسا ہی ایک اور سیرپ ہوتا جس کی وجہ سے کیچپ میں مزید مٹھاس پیدا ہوتی ہے جو صحت کے لیے بہتر نہیں۔

نیچرل فلیورز (Natural flavors) — یہاں یہ بیان نہیں کیا جاتا کہ کون سے نیچرل فلیورز کا استعمال کیچپ میں کیا جارہا ہے، تاہم ایسی کئی تحقیق سامنے آچکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اجزاء میں نیچرل فلیورز شامل کرنے کے باعث مختلف طرح کی فوڈ الرجیز پیدا ہوسکتی ہیں۔

کیچپ میں مختلف طریقوں سے چینی کا بےحد استعمال کیا جاتاہے، جس سے اس کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے اور بے انتہا مٹھاس ہماری صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند نہیں، اس لیے اس رمضان اپنے کھانوں میں کیچپ کا استعمال کم کرنا ہی بہتر ہے۔

لمبی عمر چاہتے ہیں تو ایک آسان عادت اپنالیں

کیا آپ لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ تو ایک آسان عادت کو فوری اپنالیں جس کے لیے کسی خرچے کی ضرورت نہیں۔

جی ہاں بس تیز رفتاری سے چلنا اپنی عادت بنالینا لمبی زندگی کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لیسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 2006 سے 2016 کے درمیان اوسطاً 52 سال کی عمر کے 4 لاکھ 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ تیز رفتار سے چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی اوسط عمر 85 سے 88 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں سست رفتاری سے چلنے والے افراد کی اوسط عمر 64 سے 72 سال کے درمیان ہوتی ہیں وہ بھی اس صورت میں اگر وہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی نہ ہوں۔

تحقیق کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے والے چاہے موٹاپے کے شکار ہی کیوں نہ ہوں، ان میں لمبی عمر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مگر ایسا بھی نہیں کہ تیزرفتاری سے چلنے والے افراد کی عمر لمبی ہو مگر محققین کے مطابق چلنے کی رفتار سے کسی فرد کی عام صحت کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے مایو کلینک پروسیڈنگز میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ رمیانی عمر میں لوگ اگر تیز رفتاری سے چلنے کو عادت بنالیں تو وہ فالج یا ہارٹ اٹیک کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

15 سال تک چلنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے چلنے کی اوسط رفتار اگر 3 میل فی گھنٹہ ہو تو مختلف امراض سے موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

خصوصاً فالج یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین نے یہ دریافت کیا کہ تیز رفتار سے چلنا ہر عمر کے افراد کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمر کے افراد کی اوسط رفتار 3 سے 4 میل فی گھنٹہ ہو تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ آہستگی سے چلنے والوں کے مقابلے میں 53 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح 2017 میں ایک برطانوی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں کی چلنے کی رفتار سست ہوتی ہے ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ تیز رفتاری یا متوازن رفتار سے چلنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

وہ وجوہات جو پانی کو ہمارے لیے لازمی ثابت کرتی ہیں

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ پانی پینا صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے مگر کیوں ضروری ہے؟

جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند عادات میں سے ایک ہے کیونکہ موسم چاہے سردی کا ہو یا گرمی کا مگر مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت جسم کو ہر وقت ہوتی ہے جس کی کمی کی صورت میں آپ کو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پانی کی بیشتر مقدار مشروبات یا پانی سے ہی حاصل ہوجاتی ہے مگر غذاﺅں کے ذریعے بھی کسی حد تک پانی جسم کو ملتا ہے۔

تو وہ وجوہات جان لیں جو ہمارے جسم کے لیے پانی کو ضروری بناتی ہیں۔

گردوں کے امراض سے تحفظ اور جسم سے کچرے کا اخراج

جسم کو پانی کی ضرورت پسینے، پیشاب اور آنتوں کے افعال کے لیے ہوتی ہے، پسینہ کا خراج جسمانی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ پیشاب کے راستے جسم میں موجود کچرے کا اخراج ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کو موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ گردے کے امراض سے بچاتا ہے۔ درحقیقت پانی کی کمی کے نتیجے میں گردوں کے فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے بچنا بہت آسان ہے یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا، مگر درمیانی عمر میں اکثر افراد پانی کم پینے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لعاب دہن بنانے میں مدد دیتا ہے

پانی لعاب دہن کا مرکزی جز ہوتا ہے، لعاب دہن میں الیکٹرو لائٹس، انزائمے اور دیگر کی کچھ مقدار بھی ہوتی ہے جو ٹھوس غذا کے ٹکڑے کرنے اور منہ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم عام طور پر اس وقت مناسب مقدار میں لعاب دہن بناتا ہے جب پانی کو پیا جائے، مگر کچھ ادویات یا علاج کے نتیجے میں اس کے بننے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔ اگر منہ معمول سے زیادہ خشک ہو اور پانی پینے سے بھی مدد نہ ملے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے

ڈی ہائیڈریشن سے بچنا جسمانی درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پسینے کے اخراج سے جسم پانی سے محروم ہوتا ہے یا گرم موسم میں ایسا ہوتا ہے۔ پسینہ جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے تاہم پانی کی کمی پوری نہ کرنے پر جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے کیونکہ جسم الیکٹرولائٹس اور پازما سے محروم ہوتا ہے۔

ٹشوز، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کو تحفظ

پانی پینے سے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی اور ٹشوز کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے جس سے جسمانی سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے جبکہ جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی کارکردگی بہتر ہوتی ہے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضرورت ہوتا ہے کیونکہ ہائیڈریشن جسمانی مضبوطی، طاقت اور کارکردگی پر اثرات مرتب کرتی ہے۔

قبض سے تحفظ

فائبر والی غذائیں ہی قبض سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پیا جائے کیوکہ تاکہ آنتوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے پانی مل سکے۔ مناسب مقدار میں پانی نہ پینا، میگنیشم اور فائبر کا کم استعمال قبض کا باعث بنتا ہے، اگر آپ قبض کے شکار ہیں تو پانی پینا اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

ہاضمے کے لیے مددگار

کچھ لوگوں کے خیال کے برعکس کھانے سے پہلے، درمیان یا بعد میں پانی پینا جسم کو غذا کو آسانی سے ٹکڑے کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے غذا کو زیادہ موثر طریقے سے جذب کیا جاسکتا ہے۔ ، اسی طرح اکثر پیٹ پھولنے کی شکایت کا سبب بھی پانی سے دوری ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق جو لوگ مناسب مقدار میں پانی پیتے ہیں، ان کی آنتوں کے افعال درست رہتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔

غذائی اجزا کو جذب کرنے کے لیے مددگار

غذا کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ساتھ پانی پینا وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے مددگار

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جسمانی چربی اور پانی پینے سے جسمانی وزن میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے، کھانے سے پہلے پانی کچھ ہفتوں میں جسمانی چربی گھلانے میں مدد دے سکتا ہے۔

بلڈ آکسیجن کی گردش میں بہتری

پانی پورے جسم میں آکسیجن اور ضروری اجزا کو پہنچانے میں مدد دیتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا اس گردش کو بہتر کرتا ہے جس سے مجموعی صحت پر مثبت اثر مرتب ہوتا ہے۔

امراض سے تحفظ

مناسب مقدار میں پانی پینا مخصوص امراض جیسے قبض، گردوں میں پتھری، دمہ، پیشاب کی نالی میں سوزش اور فشار خون سے بچاسکتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

جسم کے تمام خلیات کو اپنے افعال کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، پانی کی کمی کی صورت میں ان کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس سے ہارمونز اور غذائی اجزا کا بہاﺅ ہموار نہیں رہتا، جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی غائب ہوجاتی ہے جبکہ ہر وقت تھکاوٹ کا احساس باری رہتا ہے۔ ویسے کسی انسان کو کتنے گلاس پانی کی ضرورت ہوسکتی ہے، اس کا انحصار تو موسم اور اس کی ضرورت پر ہے مگر عام طور پر طبی ماہرین 6 سے 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

دماغی افعال بہتر کرے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی افعال کو بھی درست طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانی کم پینے سے توجہ مرکوز کرنے، ذہنی ہوشیاری اور مختصر المدت یاداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزاج خوشگوار بنائے

معمولی ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں سب سے پہلے ہمارے مزاج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چڑچڑا پن طاری ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں پانی پینا مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جلد کو جگمگانے میں مدد دے

مناسب مقدار میں پانی پینا جلد کی صحت کو بھی ٹھک رکھتا ہے، جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے جس کو نئے خلیات کے لیے پانی پر انحصار کرنا ہوتا ہے اور یہی سیال جلد کو جگمگانے میں بھی مدد دیتا ہے، اور جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے جلد کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی کمی کی صورت میں بڑھاپا جلد طاری ہوسکتا ہے۔

اس موسم میں یہ مزیدار جوس پینا عادت بنالیں

تربوز ایسا پھل ہے جو لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور اس میں کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز (اے اور سی)، پوٹاشیم جیسے فائدہ اجزا موجود ہوتے ہیں جبکہ چربی اور کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

یہ گرمیوں میں موسم کی شدت سے نجات دلانے کے لیے بہترین پھل مانا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا جوس بھی کتنا فائدہ مند ہوتا ہے؟

تربوز میں پانی کی مقدار 95 فیصد ہوتی ہے اور الیکٹرلائٹس کے ساتھ ساتھ فائبر کی موجودگی بھی اسے صحت کے لیے فائدہ مند بناتی ہے۔

عام طور پر یہ پھل اسی موسم میں دستیاب ہوتا ہے اور اس کا جوس گھر میں بنانا بہت آسان ہوتا ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

دل کو صحت مند رکھے

تربوز میں لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو خون میں گردش کرنے والے مضر صحت فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتا ہے جس سے دل کے ٹشوز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین

چونکہ اس میں پانی اور منرلز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ فیٹ نہ ہونے کے برابر تو اس کا جوس جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین ہے، اس میں موجود الیکٹرلائٹس اور وٹامنز اس مقصد کے حصول میں مدد دیتے ہیں۔

ذہنی تناﺅ دور بھگائے

اس پھل میں وٹامن بی سکس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور جوس کی شکل میں اسے جزو بدن بنانا تھکاوٹ، تناﺅ اور ذہنی بے چینی سے نجات میں مدد دیتا ہے۔

بڑھتی عمر کے اثرات سست کرے

تربوز کے جوس کا ایک بڑا فائدہ عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کی رفتار کو سست کرنا ہے، اس میں موجود لائیکوپین جلد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور درمیانی عمر میں بھی جوانی کے تاثر کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی توانائی میں فوری اضافہ

تربوز کا جوس جسمانی توانائی کو فوری بڑھانے کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں الیکٹرولائٹس، پوٹاشیم، سوڈیم، منرلز اور کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی ہے جو کہ جسم کو ہائیڈریشن فراہم کرنے کے ساتھ توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔

فائبر سے بھرپور

جو پھل فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں وہ نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین ہوتے ہیں جبکہ اس میں موجود پانی کی مقدار زہریلے مواد کو خارج کرنے کے ساتھ قبض کو دور رکھتی ہے۔

جلدی مسائل سے نجات

یہ جوس جلد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور جلد میں موجود اضافی آئل کو خارج کرکے متعدد جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

چہرہ جگمگانے میں مدد دے

یہ جوس قدرتی موئسچرائزر کا کام کرتا ہے جس سے چہرے کی چمک بحال ہوتی ہے۔

جوڑوں کے امراض سے تحفظ

روزانہ ایک گلاس جوس پینے کی عادت مختلف امراض جیسے جوڑوں کے امراض اور دمہ وغیرہ کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

بلڈ پریشر مستحکم رکھے

اس میں موجود پوٹاشیم اور الیکٹرولائٹس بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور دوران خون کو معمول کے مطابق کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

شاخ گوبھی اب سرطان کے خلاف بھی مؤثر ثابت

بوسٹن: ایکسپریس نیوز کے انہی صفحات پر آپ شاخ گوبھی (بروکولی) کےلاتعداد فوائد کے متعلق پڑھ چکے ہیں اور اب اسی جادوئی سبزی میں ایک مرکب دریافت ہوا ہے جو کینسر کو روکنےمیں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

ہفت روزہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع رپورٹ میں بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر کے پروفیسر پیئر پاؤلو پینڈولفی نے ثابت کیا ہے کہ اگر بروکولی میں پائے جانے والے ایک مرکب سے ڈبلیو ڈبلیو پی ون جین کو ہدف بنایا جائے تو اس سے سرطانی رسولیوں کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے ۔ تجربہ گاہوں میں جب جانوروں پر اس کے تجربات کئے گئے تو اس سے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

’ ہم نے کینسر کی تشکیل کا ایک پیچیدہ راستہ دریافت کیا ہے اور اس میں شاخ گوبھی اور دیگر سبزیوں کے ایک اہم مرکب سے نہ صرف رسولی کو ختم کرنے کا راستہ معلوم کیا ہے بلکہ وہ نازک مقام ڈھونڈا ہے جسے نشانہ بناکر کینسر کو لگام دی جاسکتی ہے،‘ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ۔

یہ مرکب جب انسانی کینسر کے خلیات اور چوہوں پر آزمایا گیا تو معلوم معلوم ہوا کہ کینسر پھیلانے میں مدد دینے والا ایک جین ڈبلیو ڈبلیو پی ون بہت چالاکی سے ایک خاص اینزائم خارج کرکے کینسر سے لڑنے والے ایک اور جین پ ٹی ای این کو بھی بے اثر کرتا ہے تاکہ وہ آرام سے کینسر کی تباہی پھیلاسکے۔ ماہرین نے دیکھا کہ بروکولی میں موجود انڈول تھری کاربینول (آئی تھری سی ) نہ صرف پی ٹی ای این کو اپنا کام کرنے دیتے ہیں بلکہ ڈبلیو ڈبلیو پی ون کو بھی لگام ڈالتے ہیں۔

جوانی میں بالوں کی سفیدی کی وجہ یہ تو نہیں؟

بالوں کا سفید ہونا یا بالوں کا قدرتی رنگ ختم ہوکر سفید ہوجانا ایک قدرتی عمل ہے جس کا سامنا عمر بڑھنے کے ساتھ ہر ایک کو ہوتا ہے۔

تاہم اگر بالوں کی رنگت جوانی میں سفید ہوجائے تو یہ جسم میں کسی قسم کی غذائی کمی کی علامت ہوسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر وٹامن بی 12 ہمارے جسم کے لیے ایک بہت ضروری وٹامن ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کو بنانے میں مدد دیتا ہے، ڈی این اے بناتا ہے اور اعصابی نظام کو صحت مند رکھتا ہے۔

اور بالوں میں اچانک نمودار ہونے والی سفیدی جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

اگر بالوں کی سفیدی کے ساتھ اکثر شدید سردرد، کھانے کی خواہش ختم ہوجانے یا ہر وقت تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے تو یہ وٹامن بی 12 کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

عمر کے ساتھ بالوں میں سفیدی بالوں کی جڑوں سے میلانن نامی پروٹین کی بتدریج کمی کا نتجہ ہوتا ہے۔

ویسے 30 سال کی عمر کے بعد بالوں کی سفیدی آنے کا امکان ہر دہائی کے بعد 10 سے 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دیگر وجوہات میں ہارمونز، مختلف کیمیکلز کا استعمال، ماحولیاتی آلودگی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

وٹامن بی 12 کی کمی نہ صرف بالوں کو سفید ہی نہیں کرتی بلکہ ان کا گھنا پن بھی کم کرتی ہے۔

اگر بالوں کی رنگت میں عمر کی تیسری دہائی میں تبدیلی آنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بی 12 کی کمی دنیا بھر میں بہت عام ہے مگر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے۔

اس وٹامن کی کمی کی چند علامات تو اوپر درج ہوچکی ہیں جبکہ دیگر علامات میں خون کی کمی، ذہنی مسائل جیسے دماغی دھند، دائمی درد قابل ذکر ہیں جبکہ الزائمر امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

ویسے وٹامن بی 12 کے ساتھ ساتھ وٹامن بی سکس، وٹامن ڈی یا وٹامن ای کی کمی بھی بالوں میں سفیدی کا باعث بن سکتی ہے۔

بالوں کی سفیدی روکنے میں مددگار ٹوٹکا

یقیناً بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے ہیئر کلر کو استعمال کیا جاسکتا ہے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر یہ بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جو روکھے پن اور بے جان کرسکتے ہیں۔

یہاں آپ لیموں کے عرق اور ناریل کے تیل کا ایک گھریلو ٹوٹکا جان سکیں گے جو بالوں پر جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ نہ صرف بالوں کو چمکدار اور نرم کرتا ہے بلکہ قبل از وقت سفیدی کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

جیسا آپ کو معلوم ہوگا کہ ناریل کا تیل طاقتور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جس میں موجود دیگر اجزاءبالوں کی نشوونما اور مضبوطی میں مدد دیتے ہیں جبکہ اینٹی آکسائیڈنٹس پروٹین کی کمی کرکے بالوں کی سفیدی کو ریورس کرتے ہیں۔

اسی طرح لیموں وٹامن بی، سی اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو بالوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کہ طویل عرصے تک بالوں میں سفیدی کی روک تھام کرتا ہے۔

اجزا

تین چائے کے چمچ لیموں کا عرق

50 ملی لیٹر ناریل کا تیل

طریقہ کار

ان دونوں اجزاءکو اچھی طرح مکس کریں اور بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔

اس کے بعد دو سے تین منٹ تک سر کی مالش کریں اور اس مکسچر کو ایک گھنٹے کے لیے لگا رہنے دیں۔

اس کے بعد سر کو معمول کے مطابق شیمپو سے دھولیں۔

ہفتے میں ایک بار اس کو آزمائیں، اس کا نتیجہ آپ کو حیران کردے گا۔

Google Analytics Alternative