صحت

دماغی رسولی کی 87 فیصد درست تشخیص کرنے والا بلڈ ٹیسٹ

برمنگھم:: خون کی بدولت بہت سے امراض کی تشخیص کی جاتی ہے لیکن اب ایک سادہ بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے دماغی سرطان کی درست ترین شناخت کرنا ممکن ہے جس میں درستی کی شرح 87 فیصد ہے۔

گلاسگو میں واقع یونیورسٹی آف اسٹریچ کلائیڈ کے پروفیسر میتھیو جے بیکر اور ان کے ساتھیوں نے یہ اختراع  کی ہے اور اس کا مقالہ نیچر کمیونی کیشن میں شائع ہوا ہے۔

پروفیسر میتھیو کا کہنا ہے کہ ’ ہم پہلی مرتبہ کلینکل مطالعے کے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں اور اس کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ خون کا یہ ٹیسٹ تجربہ گاہ میں کام کرسکتا ہے،‘۔

برین کینسر پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیل رہا ہے لیکن اس کی شناخت بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کی عام وجوہ میں یادداشت کی کمی ، دردسر اور چکر وغیرہ شامل ہیں لیکن عین یہی علامات دیگر کئی امراض کی بھی ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر دماغی سرطان کئی مرتبہ نظر انداز ہوجاتا ہے۔

ہر مریض میں اس کی ظاہری علامات مختلف ہوتی ہیں اور کبھی کبھی بہت دیر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ دوسری جانب اگر علاج نہ کرایا جائے تو 33 فیصد مریض ہی مرض کے پانچ سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

یہ ٹیسٹ کم خرچ ہے اور آسان ہے جس میں خون کے نمونے پر انفراریڈ روشنی ڈال کر بایو سگنیچرز تلاش کیے جاتے ہیں اور اس میں مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب اسے 104 افراد پر آزمایا گیا تو اس نے کئی بار 87 فیصد درست نتائج دیئے جس کا مطلب ہے کہ 100 میں سے 87 فیصد مریضوں میں یہ دماغی کینسر کو درست طور پر بھانپ سکتا ہے۔

زیادہ تفصیل میں جائیں تو یہ کسی درد یا دماغ کو نقصان پہنچائے بغیر ایسا عمل ہے جسے اے ٹی آر ایف ٹی آئی آر اسپیکٹرو اسکوپی کے ذریعے انجام دیا گیا ہے جس میں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہے۔

محض 3 منٹ میں خود ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات تشخیص کرنے کا طریقہ

’بریسٹ کینسر‘ پاکستانی خواتین میں پایا جانے والا عام موضی مرض ہے جس سے تقریبا ہر 20 میں سے ایک خاتون متاثر ہے۔

پاکستان میں بریسٹ کینسر کے خلاف کام کرنے والی سماجی تنظیم ’پنک ربن‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی ایک کروڑ 20 لاکھ خواتین کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر ہیں۔

پاکستان میں ’بریسٹ کینسر‘ کی وجہ سے سالانہ 40 ہزار زندگیاں بھی ضایع ہوجاتی ہیں جب کہ اس کا شکار ہونے والی خواتین میں انتہائی نوجوان خواتین بھی شامل ہیں۔

عام طور پر نوجوان خواتین اس بات سے بے خبر ہوتی ہیں کہ ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات کیا ہیں۔

تاہم اب نوجوان خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے لیے فیشن برانڈ ’جنریشن‘ نے آسانی پیدا کرتے ہوئے ایک ویڈیو ریلیز کی ہے جس میں انہیں ’بریسٹ کینسر‘ کی ابتدائی علامات کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔

’جنریشن‘ کی جانب سے شیئر کی گئی مختصر ویڈیو میں انتہائی آسان انداز میں اردو زبان میں کم عمر لڑکیوں و خواتین کو بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح محض 3 منٹ میں ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات تشخیص کر سکتی ہیں۔

مختصر دورانیے کی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی چھاتی کا جائزہ لینا چاہیے اور کسی طرح کے بھی مشکوک دانے یا داغ چھاتی میں نظر آنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ویڈیو میں بتایا گیا کہ محض چند منٹ میں خواتین اپنی چھاتی کا جائزہ لے کر آسانی سے موضی مرض کی ابتدائی علامات سے آگاہ ہو سکتی ہیں۔

ویڈیو میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر خواتین کو اپنی چھاتی کے ارد گرد اور ’نپل‘ کی حالت و ساخت میں تبدیلی محسوس ہو تو وہ فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

’جنریشن‘ کی جانب سے ’بریسٹ کینسر‘ کی علامات کی تشخیص کی انتہائی سادہ اور آسان ویڈیو کو کئی خواتین و افراد نے سراہا اور کہا کہ یہ ویڈیو کئی خواتین کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔

ٹماٹر کھانے والے مرد کے اسپرم طاقتور ہوتے ہیں، تحقیق

اگرچہ ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور پھل متعدد امراض میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، تاہم ایک تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ٹماٹر میں پائی جانے والی خاص غذا مرد حضرات کے ’اسپرم‘ کو طاقتور بناتی ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ٹماٹر سمیت دیگر پھلوں اور سبزیوں میں پائی جانے والی غذا لائیکوپین سے مرد حضرات کے اسپرم طاقتور بنتے ہیں جس وجہ سے وہ مرد دیگر مردوں کے مقابلے زیادہ زرخیز ہوتا ہے۔

یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق کے مطابق جو مرد حضرات یومیہ بنیادوں پر ٹماٹر کا پیسٹ یا کیچپ کھاتے ہیں ان کے اسپرم ٹماٹر نہ کھانے والے افراد سے مختلف، بڑے اور تیز ہوتے ہیں۔

ماہرین نے تین ماہ کی تحقیق کے بعد اسپرم کا جائزہ لیا—فوٹو: یونیورسٹی آف شیفلڈ
ماہرین نے تین ماہ کی تحقیق کے بعد اسپرم کا جائزہ لیا—فوٹو: یونیورسٹی آف شیفلڈ

برطانیہ کی یونیورسٹی آف شیفلڈ کے ماہرین کی جانب سے 60 رضاکار مرد حضرات پر تین ماہ تک کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ جو مرد حضرات یومیہ محض 2 کھانے کے چمچ ٹماٹر کا کیچپ یا ساس استعمال کرتے ہیں ان کے ’اسپرم‘ طاقتور بنتےہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے تین ماہ تک 19 سے 30 سال کے مرد حضرات کو 2 مختلف گروپس میں تقسیم کرکے ایک گروپ کو لائکوپین والی دوائی دی جب کہ دوسرے گروپ کو دوائی کے نام پر عام چیز دی گئی اور آخر میں ان کے ’اسپرمز‘ کا جائزہ لیا گیا۔

اسپرمز کے جائزے سے معلوم ہوا کہ مرد یومیہ 2 کھانے کے چمچ یا محض 15 گرم تک لائیکوپین بھی کھاتے ہیں تو ان کے اسپرم مضبوط، تیز اور بڑے ہوتے ہیں جس وجہ ایسے مرد حضرات جلد والد بننے کے قابل بن جاتےہیں۔

ماہرین کے مطابق لائیکوپین کا مرد حضرات کی زرخیزی اور بانجھ پن سے تعلق ہے اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ٹماٹر میں وافر مقدار میں پائی جانے والی لائیکوپین مرد حضرات کے لیے فائدہ مند ہے۔

لائیکوپین کھانے والے مرد میں بانجھ پن کا خطرہ نہیں ہوتا—فوٹو: شٹر اسٹاک
لائیکوپین کھانے والے مرد میں بانجھ پن کا خطرہ نہیں ہوتا—فوٹو: شٹر اسٹاک

تحقیق کے مطابق لائیکوپین کھانے والے مرد حضرات کے اسپرم اس غذا کو نہ کھانے والے مرد حضرات سے 40 سے 50 فیصد طاقتور، بڑے اور تیز ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لائیکوپین کھانے سے خواتین کی صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں یا پھر لائیکوپین کا جنسی طاقت یا بیماریوں سے بھی کوئی تعلق ہے۔

تحقیق میں صرف اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ لائیکوپین کھانے سے مرد حضرات کے اسپرم طاقتور بنتے ہیں اور یہ خاص غذا ٹماٹر میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔

اس تحقیق سے قبل بھی مختلف تحقیقات میں ٹماٹر کے فوائد بتائے جا چکے ہیں،بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹماٹر انسان کے مختلف سیلز کو نقصان پہنچانے سے محفوظ رکھتے ہیں۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لائیکوپین جو ٹماٹر میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے وہ پروسٹیٹ کینسر سمیت دل کے امراض کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

یہ خاص طرح کی غذا دیگر قدرتی سبزیوں اور پھلوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

لائیکوپین سے تیار سپلیمنٹ بھی مارکیٹ میں موجود ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
لائیکوپین سے تیار سپلیمنٹ بھی مارکیٹ میں موجود ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

دماغی شریان پھٹنے کی وجوہات اور علامات جانتے ہیں؟

دماغی شریان پھٹ جانا یا برین ہیمرج ایسا عارضہ ہے جس میں موت کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو یا نہ ہو مگر فالج کی 2 اقسام ہوتی ہیں، ایک قسم میں دماغی ٹشوز کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے جسے Ischemic اسٹروک کہا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم برین ہیمرج ہے جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے۔

اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں intracranial ہیمرج، جس میں سر کے اندر خون بہنے لگتا ہے جبکہ دوسری cerebral ہیمرج، جس میں دماغ کے اندر یا ارگرد خون بہنے لگتا ہے یا Subarachnoid ہیمرج جس میں دماغ اور دماغ کو کور کرنے والے ٹشوز کے درمیان خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

عام طورپر فالج کے 13 فیصد کیسز برین ہیمرج کے ہوتے ہیں اور اس کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ریکوری ممن ہوسکے، جبکہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو کنٹرول میں رکھنا بھی اس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

علامات

برین ہیمرج کو intracerebral ہیمرج بھی کہا جاتا ہے اور اس کی علامات ہر مریض میں مختلف ہوتی ہیں، مگر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو فالج کے حملے کے ساتھ ہی ہمیشہ نظر آتی ہیں۔

یہ ممکنہ علامات درج ذیل ہیں:

مکمل یا جزوی ہوش کھودینا

دل متلانا

قے ہونا

اچانک اور شدید سردرد

جسم کے ایک حصے میں چہرے، ٹانگ یا بازو میں کمزوری یا سن ہونے کا احساس

seizures

سر چکرانا

توازن کھو دینا

بولنے یا نگلنے میں مشکلات

الجھن یا ماحول کا احساس ختم ہوجانا

وجوہات

دماغی شریان پھٹنے کی 2 ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں زیادہ عام شریان کا پھیلنا یا aneurysm ہے، یعنی خون کی شریان کا کوئی حصہ ہائی بلڈ پریشر یا خون کی شریان کی کمزوری کی وجہ سے پھیل جائے، غبارے کی طرح پھول جانے والا یہ حصہ شریان کی دیوار کمزور بناتا ہے اور پھٹنے پر مجبور کردیتا ہے۔

دوسری وجہ کو اے وی ایم کہا جاتا ہے جس کے دوران شریانیں اور رگیں غیرمعمولی طریقے سے آپس میں مل جاتی ہیں، یہ پیدائشی ہوسکتا ہے مگر یہ موروثی نہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کچھ افراد میں اس کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔

برین ہیمرج جان لیوا ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے دوران دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جس سے دماغ کو نقصان پہنچتا ہے اور بچنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کھوپڑی کے اندر سوجن اور خون بہنے کو کتنی جلد کنٹرول کیا جاتا ہے، یعنی کچھ لوگوں پر تو اس کے اثرات مستقل ہوسکتے ہیں جبکہ کچھ مکمل طور پر صحت یاب ہوسکتے ہیں۔

اس کا خطرہ کیسے کم کریں؟

برین ہیمرج کا خطرہ بڑحانے والے چند مخصوص عناصر ہیں جیسے ہائی بلڈ پریشر اس کی بڑی وجہ ہے اور اسے کنٹرول میں رکھ کر برین ہیمرج کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے جس کے لیے تمباکو نوشی سے گریز بھی ضروری ہے۔

الکحل اور منشیات کا استعمال بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔

مریض کے لیے کیا کریں؟

برین ہیمرج کے حملے کے بعد فوری اور ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد کی فراہمی انتہائی ضروری ہوتی ہے، ڈاکٹر اس حوالے سے دماغ میں خون کے بہاﺅ کو کنٹرول کرنے اور خون بہنے سے پیدا ہونے والے دباﺅ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خون کے دباﺅ یا بہاﺅ کو سست کرنے کے لیے ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، مگر خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں اور برین ہیمرج کا سامنا ہو تو اس سے خون کے زیادہ بہاﺅ کا خطرہ بڑھتا ہے، مگر ڈاکٹر اس حوالے سے زیادہ بہتر تجویز کرسکتے ہیں۔

جب برین ہیمرج کے بعد مریض کو بچانے میں کامیابی مل جاتی ہے تو مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں، جس کا انحصار دورے کی شدت پر ہوتا ہے کہ وہ ادویات یا تھراپی وغیرہ سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے یا آپریشن کرانے کی ضرورت ہے۔

فاسٹ فوڈ کھانے کا یہ نقصان آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا

کیلوریز سے لے کر نمک، چینی اور دیگر اجزا تک، متعدد وجوہات ایسی ہیں جو فاسٹ فوڈ کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہیں، مگر اب ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان غذاﺅں کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے میٹریل میں ایک زہریلا کیمیکل موجود ہوتا ہے جو ہمارے جسموں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

درحقیقت جو لوگ گھر کے پکے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے جسموں میں ہارمونز کی سطح کو متاثر کرنے والے پی ایف ایس اے کیمیکلز کی سطح ہوٹلوں سے کھانے کے شوقین افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران امریکا کے طویل عرصے تک ہونے والے سروے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزمنیشن سروے کے ڈیٹا کو دیکھا گیا جس میں 2003 سے 2014 کے دوران کھانے سے پہلے اور بعد میں خون کے نمونوں میں پی ایف ایس اے کیمیکل کی مقدار کو جانچا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ تازہ غذا خصوصاً گھر میں پکے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے خون میں پی ایف ایس اے کیمیکلز کی سطح فاسٹ فوڈ یا دیگر ریسٹورنٹس کی غذاﺅں کو پسند کرنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

جریدے انوائرمینٹل ہیلتھ پرسیکٹیوز میں شائع تحقیق میں فاسٹ فوڈ کھانے والوں اور گھر کے کھانوں کو پسند کرنے والوں کے جسموں میں پی ایف اے ایس کی سطح کو دیکاھ گیا تھا۔

پی ایف اے ایس کی 5 عام اقسام سروے میں شامل 70 فیصد افراد کے خون میں دریافت کی گئی اور یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو لوگ فاسٹ فوڈ زیادہ کھاتے ہیں، ان میں 24 گھنٹے بعد بھی پی ایف اے ایس کی سطح کافی زیادہ ہوتی ہے۔

درحقیقت اکثر اس طرح کے کیمیکل انسانی جسم سے تیزی سے گزر جاتے ہیں مگر پی ایف اے ایس برسوں تک موجود رہ سکتا ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ فاسٹ فوڈ کا شوق جسم میں اس کی سطح کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

یہ کیمیکل عام طور پر فاسٹ فوڈ کے ڈبوں اور ریپرز پر ہوتا ہے اور چکنائی کی بدولت غذا میں شامل ہوکر جسم میں چلا جاتا ہے۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز جسم کے ہارمونز کے قدرتی نظام میں مداخلت کرکے بانجھ پن کے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ بچوں کی نشوونما اور سیکھنے کے مسائل کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

یہ کیمیکلز ممکنہ طور پر مدافعتی نظام میں مسائل کا باعث بھی بنتے ہیں کیونکہ یہ ویکسینز پر جسمانی ردعمل عمل کم کردیتے ہیں اور کچھ تحقیقی رپورٹس میں انہیں کولیسٹرول لیول میں اضافے اور کینسر سے بھی جوڑا گیا ہے۔

یہ کیمیکلز جسمانی وزن میں اضافے یا موٹاپے کا باعث بھی بن سکتے ہیں، گزشتہ سال ہارورڈ اور پیننینگٹن بائیومیڈیکل ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ جن لوگوں میں پی ایف اے ایس کی سطح زیادہ ہوتی ہے ان میں موٹاپے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ میٹابولک ریٹ میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

اس نئی تحقیق کو کرنے والی ٹیم کا کہنا تھا کہ پیک اور پراسیس غذاﺅں کا کم استعمال کرکے لوگ اس کیمیل کے اثرات سے خود کو بچاسکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم میں شامل لورل شیڈلر کا کہنا تھا کہ ہم سب جاتے ہیں کہ گھر میں پکی غذائیں متعدد وجوہات کی وجہ سے صحت کے لیے بہتر ہوتی ہیں، اس تحقیق کے نتائج سے ایک اور وجہ سامنے آئی ہے کہ تازہ اور گھر میں پکی غذا کو ترجیح دی جائے۔

تحقیق میں دریافت کای گیا کہ جو لوگ زیادہ مچھلی کھاتے ہیں، ان کے جسم میں بھی پی ایف اے ایس کی سطح میں اضافے کا امکان ہوتا ہے جبکہ مائیکرو ویو میں تیار پاپ کارن کھانے کی عادت سے بھی ان کیمیکلز کی سطح بڑھ سکتی ہے۔

ملک بھر میں ڈینگی کے 25 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق

اسلام آباد: ملک بھر میں اب تک 25 ہزار سے زائد افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے دو تہائی کیسز پوٹھوہار خطے میں رپورٹ ہوئے جبکہ اس مرض کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ملک میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد 2011 کا ریکارڈ ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے جب ملک میں 27 ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوئے تھے۔

اس سال 2011 کے مقابلے میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی اموات میں کمی کا امکان ہے جبکہ 2011 میں اس مرض کے نتیجے میں 3 سو 70 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ اب تک ڈینگی کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور ڈاکٹرز شرح اموات کی کمی کی وجہ علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی دستیابی کو قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے ڈان کو موصول سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس ملک بھر میں ڈینگی کے 25 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق کی گئی، جن میں اسلام آباد سے 6 ہزار 5 سو 37 کیسز، پنجاب سے 5 ہزار 6 سو 42، سندھ سے 4 ہزار 4سو 3 ، خیبرپختونخوا سے 4 ہزار 2 سو 76 اور بلوچستان سے 2 ہزار 7 سو 50 کیسز کی تصدیق ہوئی۔

علاوہ ازیں ڈینگی کے باقی کیسز دیگر علاقوں سے رپورٹ ہوئے جن میں آزاد جموں و کشمیر اور قبائلی اضلاع شامل ہیں جبکہ دو تہائی کیسز پوٹھوہار کے علاقے سے بھی سامنے آئے ہیں۔

ڈینگی کے نتیجے میں سندھ میں 15، اسلام آباد میں 13، پنجاب میں 10، بلوچستان میں 3 اور آزاد جموں کشمیر میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں ڈیزیز سرولینس ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ بڑی تعداد میں مرض کی تصدیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب نگرانی اور آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مریض ڈینگی کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ خود کرواتے ہیں۔

تاہم انہوں نے عوام کو نہ گھبرانے کی ہدایت کی کیونکہ 90 فیصد مریضوں کو علاج کی بھی ضرورت نہیں جبکہ ڈینگی سے متاثرہ زیادہ تر افراد ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔

ڈینگی کی تاریخ سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر نے بتایا کہ ڈینگی مچھر 1994 میں ٹائروں کی کھیپ کے ساتھ پاکستان آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وائرس 2005 میں کراچی سے ٹکرایا اور 2011 میں وبا کی صورت میں پھیلا جب 27 ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوئے تھے۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ ’دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈینگی کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، اس وقت 125 ممالک میں موجود آدھی سے زیادہ آبادی کو خطرہ ہے، عالمی ادارہ صحت نے 2019 کے آغاز میں ڈینگی کو عالمی سطح پر عوام کی صحت سے متعلق 10 بڑے خدشات میں شامل کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال 13 اگست تک فلپائن میں ڈینگی کے 2 لاکھ 92 ہزار 76 کیسز کی تصدیق اور ایک ہزار 84 اموات ہوئیں، 26 ستمبر تک ویتنام میں ایک لاکھ 24 ہزار 7 سو 51 کیسز رپورٹ ہوئے، 26 ستمبر تک ملائیشیا میں 98 ہزار ایک سو 84 کیسز، 10 ستمبر تک تھائی لینڈ میں 85 ہزار 5 سو 20 کیسز، 16 ستمبر تک بنگلہ دیش میں 81 ہزار 8 سو 39 کیسز کی تصدیق ہوئی۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ26 ستمبر تک سری لنکا میں ڈینگی کے 46 ہزار ایک سو 26، 26 ستمبر تک سنگاپور میں 12 ہزار 3 سو 71، بھوٹان میں 29 اگست تک 7 ہزار 6 سو 64 اور 4 ستمبر تک مالدیپ میں 3 ہزار 7 سو 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی 2019 میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافے کا سامنا ہے‘۔

اپنی بات جاری رکھتے انہوں نے کہا مچھر اپنی 20 روز کی زندگی میں 100 میٹر سے زیادہ نہیں اڑ سکتے، یہ گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اور قریبی مقامات پر انڈے دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی صورتحال کی نگرانی کے لیے این آئی ایچ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو فعال کیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کو رپورٹ ارسال کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ ’موسمیاتی آگاہی اور الرٹ لیٹر، ڈینگی سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے سے متعلق ایڈوائزری کو بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیرِ قیادت تشکیل دی گئی ٹاسک فورس ڈینگی سے متعقلق اقدامات کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے نجی و سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے علاج کے لیے بستر مختص کیے گئے ہیں اور علاج کے معیار کی بھی سخت نگرانی کی جارہی ہے۔

گنج پن کی شرح میں نمایاں اضافے کا سبب سامنے آگیا

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا بھر میں 35 سال سے کم عمر کروڑوں مردوں کو بالوں کے گرنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے اور ان میں سے 85 فیصد کے قریب افراد 50 سال کی عمر تک گنج پن کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔

بالوں کے گرنے کی وجوہات تو غیرواضح ہیں مگر تحقیقی رپورٹس کے مطابق جینز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر اب بھی متعدد ایسے ماحولیاتی عناصر نامعلوم ہیں جو اس خطرے کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

تاہم اب کم از کم ایک وجہ کو دریافت کرلیا گیا ہے اور وہ ہوائی آلودگی۔

کوریا کے فیوچر سائنس ریسرچ سینٹر کی اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ آلودگی کس طرح گنج پن کی جانب لے جاسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج 28 ویں یورپین اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی اینڈ وینرولوجی کانگریس میں پیش کیے گئے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ ہوائی آلودگی کے ذرات کس طرح بالوں کی جڑوں کے خلیات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

تحقیق میں پی ایم 10 جیسے مٹی اور ڈیزل کے ذرات کا اثر دیکھا گیا اور دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے مین بالوں کی نشوونما میں مدد دینے والے پروٹین کی سطح اس سے کم ہوجاتی ہے۔

اس پروٹین کو بیٹا کیٹینین کہا جاتا ہے اور محققین کے مطابق پی ایم 10 جیسے مٹی اور ڈیزل کے ذرات دیگر پروٹینز کی سطح بھی کم کردیتے ہیں جو بالوں کی نشوونما اور ان کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہوائی آلودگی اور سنگین امراض جیسے کینسر اور خون کی شریانوں کے امراض میں تعلق ثابت ہوچکا ہے مگر ان ذرات کے انسانی جلد اور بالوں پر زیادہ کام نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عام ہوائی آلودگی گنج پن کی جانب لے جانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

کھانے کے بعد سستی طاری کیوں ہوتی ہے؟ وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ دوپہر اور رات کو ذہنی طور پر مکمل بیداری اور متحرک ہونے کے باوجود کھانے کے بعد اچانک طبعیت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟

اگر آپ کو ایسا احساس ہوتا ہے تو آپ تنہا نہیں درحقیقت لاکھوں کروڑوں افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے جسے طبی زبان میں فوڈ کوما بھی کہا جاتا ہے جس کا سامنا مختلف جانوروں کو بھی ہوتا ہے۔

مگر اس کی وجہ کیا ہے؟ اب سائنسدانوں کے خیال میں انہوں نے جواب ڈھونڈ لیا ہے۔

درحقیقت کھانے کے بعد کی اس غنودگی یا سستی اور طویل المعیاد یادوں کی تشکیل میں تعلق ہوسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نیویارک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت بخش غذا کے بعد طبعیت میں سستی اور غنودگی کا سامنا ہر ایک کو ہوتا ہے اور درحقیقت انسان ہی نہیں بلکہ بیشتر جانوروں میں بھی یہ ردعمل نظر آتا ہے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل پروفیسر تھامس کریو نے بتایا کہ ہماری تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘آرام اور ہضم’ کرنے والا ردعمل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو طویل المعیاد یادوں کو بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے نے کیلیفورنیا سی سلگ نامی ایک سمندری جاندار کا جائزہ لیا کیونکہ یہ اس طرح کی تحقیق کے لیے بہت طاقتور جاندار ہے اور اس کے دماغی نیورون بیشتر جانداروں سے 10 سے 50 گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے کھانے اور دماغ کے تعلق کے حوالے سے ماضی کے کام کو بھی دیکھا۔

تحقیقی ٹیم کے ایک اور رکن نکولائی کیکیوشکن نے بتایا ‘انسانوں میں کھانے کے بعد انسولین ہارمون کا اخراج ہوتا ہے، جس سے جسمانی خلیات غذائی اجزا کو دوران خون میں جذب کرتے ہیں اور چربی میں تبدیل کرکے طویل عرصے کے لیے محفوظ کرلیتے ہیں، مگر انسولین کا اثر دماغ پر بہت کم ہوتا ہے، اس کی جگہ ایک اور انسولین جیسے ہارمون کا اخراج ہوتا ہے جو دماغی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جس میں طویل المعیاد یاداشت کی تشکیل بھی شامل ہے، تاہم اس کا انحصار کیلوریز کو جزوبدن بنانے پر نہیں ہوتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم انسولین جیسے مرکبات کے انسانی جسم میں اخراج کے 2 فعال موڈیولز ہیں، ایک میٹابولک موڈیول جو انسولین کی نمائندگی کرتا ہے، جو غذا اور توانائی کے توازن کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ ایک دماغی موڈیول ہے، جو انسولین جیسے مرکب پر انحصار کرتا ہے اور یاداشت کی تشکیل کو کنٹرول کرتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جس جاندار پر انہوں نے تحقیق کی وہ ہارمون یعنی انسولین سسٹمز کے انسانوں جیسے فیچرز رکھتے ہیں، جو دونوں میں غذائیت، یاداشت اور رویوں کے ارتقا میں مددگار ثابت ہوئے، مگر سی سلگ میں یہ افعال اکٹھے رہے، جبکہ انسانوں میں یہ جزوی طورپر خودمختار ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ ابھی تعین کرنا باقی ہے کہ انسانوں میں فوڈ کوما ماضی کے ارتقائی عمل کا حصہ ہے یا یاداشت کی تشکیل کا ایک اہم حصہ، مگر یہ بات پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ انسانوں سمیت متعدد جانداروں میں نیند طویل المعیاد یادوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ان کا خیال تھا کہ کھانے کے بعد سستی یا غنودگی کا تجربہ بھی اس غذا کے حوالے سے یاد کو محفوظ کرنے کا ملتا جلتا ذریعہ ہوسکتا ہے جو مستقبل میں ذہن میں ابھر سکتی ہے، کیونکہ یادگار کھانا ہمیشہ ذہن میں زندہ رہتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر ریسرچ جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل رواں سال کے شروع میں امریکا کے اسریپپس ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانوں سمیت مختلف جانداروں میں سامنے آنے والا یہ رویہ عندیہ دیتا ہے کہ اس حوالے سے ضرور کچھ خاص ہے۔

محققین کے خیال مں انسانوں سمیت دیگر جانداروں میں ایک مخصوص سگنل بلٹ ان ہوتے ہیں جو بھوکا ہونے پر انہیں بیدار اور الرٹ رکھتے ہیں۔

یہ سگنل لوگوں کو خوراک کی تلاش میں مدد دیتے ہیں مگر جب کوئی پیٹ بھر کر کھالیتا ہے تو یہ سگنل غائب ہوجاتے ہیں اور اس کی جگہ تھکاوٹ اور غنودگی لے لیتی ہے۔

کچھ ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ کھانے کے بعد دوران خون میں آنے والی تبدیلیاں ہیں، کیونکہ کھانے کے بعد چھوٹی آنت میں دوران خون ڈرامائی حد تک بڑھ جاتا ہے۔

جب معدے میں خون کا دورانیہ ہاضمے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بڑھتا ہے تو دماغ کی جانب یہ شرح سست ہوجاتی ہے جس سے دماغی غنودگی محسوس کرنے لگتا ہے۔

ماضی میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چند مخصوص غذائیں دیگر کے مقابلے میں زیادہ غنودگی طاری کرتی ہیں۔

اسی طرح 2018 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ سبزیوں اور زیتون کے تیل وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انہیں کھانے کے بعد اس طرح کی غنودگی کا سامنا کم ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ صحت بخش غذا دن میں غنودگی کا امکان کم کرتی ہے جبکہ زیادہ چربی یا کاربوہائیڈریٹ والی غذاﺅں سے جسمانی گھڑی کا نیند کا ردہم متاثر ہوتا ہے جس سے غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔

Google Analytics Alternative