صحت

چکن کے گوشت میں یہ سفید لکیریں کیوں ہوتی ہیں؟

چکن کا کچا گوشت عام طور پر گلابی ہوتا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آپ کو اکثر اس پر سفید لکیریں نظر آئیں۔

اگر آپ نے کبھی ان کو دیکھا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ذہن میں خیال آیا ہو کہ یہ کیوں موجود ہیں۔

اٹلی کی بلونیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اس حوالے سے عندیہ دیا گیا ہے کہ چکن کے گوشت میں ان لکیروں کی موجودگی ہمارے اندازوں سے زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔

جریدے اٹالین جرنل آف انیمیل سائنس میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جس چکن کے گوشت میں یہ لکیریں ہوتی ہیں، اس میں چربی عام معمول سے زیادہ ہوتی ہے بلکہ معمول کی چربی سے 224 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔

محققین کا ماننا تھا کہ یہ لکیریں مرغیوں کو پالنے کی نئی تیکنیکس کا نتیجہ ہوسکتی ہیں جس کے ذریعے چکن کی تیز ترین نشوونما کو یقینی بنایا جاتا ہے جبکہ معمول سے زیادہ جسامت بڑھائی جاتی ہے۔

یہ پائیبرڈ پرندوں میں مسلز کے عارضے کی بھی ایک نشانی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق 50 سال کے مقابلے میں اب چکن کا وزن لگ بھگ ڈھائی کلو زیادہ ہونے لگا ہے اور اس مقصد کے لیے پرندوں کو بہت زیادہ توانائی والی غذا کا استعمال کرایا جاتا ہے جس میں اکثر سپلیمنٹل پولٹری آئل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

چونکہ چکن کے سینے کا گوشت بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے تو اس لیے ان تیکنیکس کا استعمال بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پرندوں میں مسلز کی بیماری کا مسئلہ عام ہوتا ہے جس سے گوشت گھٹ جاتا ہے جبکہ چربی بڑھ جاتی ہے جو سفید لکیروں کی شکل میں نظر آتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گزرے برسوں کے دوران چکن کے گوشت میں غذائیت کی کمی آئی ہے اور ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ یہ سفید لکیریں بتدریج پروٹین کی مقدار کم کرتی ہیں، تاہم محققین اس حوالے سے یقینی طور پر کچھ کہنے سے قاصر رہے۔

ویسے سفید لکیروں والا گوشت کھانے کے لیے محفوظ مانا جاتا ہے مگر اس کا ذائقہ بہت زیادہ اچھا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ گوشت زیادہ سخت ہوتا ہے، ذائقہ کم اور زیادہ اچھی طرح میرنیڈ بھی نہیں ہوپاتا۔

اعضا کی پیوندکاری میں جسمانی مزاحمت ختم کرنے والا خلیاتی انجکشن تیار

منی سوٹا: دنیا بھر میں مریضوں میں کسی صحت مند یا مردہ فرد کی آنکھ ، جگر، دل، گردے اور دیگر عضو منتقل کیے جاتے ہیں لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ آتا ہے کہ مریض کا جسم اس عضو کو غیر سمجھتے ہوئے اس کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے مجبوراً مریض کو بسا اوقات پوری زندگی امنیاتی (قدرتی جسمانی دفاعی) نظام کو بے عمل کرنے والی دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔

اس ضمن میں ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ اگر آپریشن سے قبل عطیہ کرنے والے شخص کے خلیات (سیلز) کا ایک ٹیکہ مریض کو لگا دیا جائے تو بعد میں اس کا جسم پیوند شدہ عضو کو اپنا سمجھے گا لیکن یاد رہے کہ یہ عمل صرف ایسے زندہ لوگوں کے لیے ہے جو ایک گردہ، جگر یا لبلبے کے خلیات کسی دوسرے مریض کو دیں گے یعنی مردہ شخص کے عضو کے لیے یہ طریقہ مفید نہیں۔

بندروں پر آزمائش

اس عمل کو پانچ مکاک بندروں پر آزمایا گیا۔ لندن میں واقع گائے اینڈ سیٹ تھامس ہسپتال کے ماہر کرِس کیلاگن نے اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے بندروں میں لبلبے کے خلیات کا تبادلہ کرایا اور دوسال تک بندر کے جسم نے عضو کو مسترد نہیں کیا۔

ہم جانتے ہیں کہ جسم دوسرے شخص کے عضو کو مسترد نہ کردے اس کے لیے تمام عمر خاص ’امیونو ریجیکشن‘ دوائیں کھانا پڑتی ہیں جس کے سنگین منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف مِنی سوٹا کے ماہرین نے ایک اور طریقہ دریافت کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پوری زندگی نئے خلیات پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ مرنے کا عمل ایپوپٹوسس کہلاتا ہے۔ اس عمل میں خلیات کی باقیات خون میں شامل ہوجاتی ہیں۔ پھر امنیاتی خلیات انہیں تلی کے اندر دھکیل دیتے ہیں جہاں جسم انہیں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں یاد رکھتا ہے لیکن ایک کیمیکل ای سی ڈی آئی سے خلیات میں ایپوٹوپسِس شروع ہوجاتا ہے۔

اسی طریقے کو آزماتے ہوئے پہلے پانچ بندروں کو ٹائپ ون ذیابیطس کا مریض بنایا گیا۔ اس کے بعد ان میں لبلبے کے خلیات ایک سے دوسرے بندر کو دیئے گئے لیکن ان خلیات کو پہلے ای سی ڈی آئی سے گزارا گیا اور تین ہفتے تک اینٹی ریجیکشن دوا بھی دی جاتی رہی پھر عضو مسترد کرنے کی دوائیں بند کردی گئیں۔

ماہرین نے نوٹ کیا کہ ایک بندر کا لبلبہ دوسال اور دوسرے بندر کا لبلبہ ایک سال تک انسولین بناتا رہا اور یوں اس طریقے کی افادیت سامنے آئی۔

دن کے وہ اوقات جب پانی پینا صحت کو فائدہ پہنچائے

پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جو جسم کے خلیے میں بلاک بنانے کام کرتا ہے۔

درحقیقت انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی کمی کے لاتعداد نقصانات ہوتے ہیں۔

یہ جوڑوں کو لبریکنٹ فراہم کرتا ہے، پورے جسم میں آکسیجن فراہم کرتا ہے، جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے، زہریلا مواد خارج کرتا ہے اور بھی اس کے متعدد فوائد ہیں۔

دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے، اس بارے میں کوئی واضح رائے تو موجود نہیں، بس یہ جسمانی ضروریات اور موسم کو مدنظر رکھ کر ہونی چاہئے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دن کے کچھ اوقات ایسے بھی ہوتے ہیں جب پانی پینا جسم کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے؟

جی ہاں واقعی یہ درست ہے اور درج ذیل میں وہ اوقات دیئے گئے ہیں، جن میں پانی پینا صحت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

صبح اٹھ کر نہار منہ

اپنے دن کا آغاز پانی کے گلاس سے کرنا جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں مدد دیتا ہے جبکہ دن بھر کے لیے جسمانی توانائی بھی فراہم کرتا ہے، نہار منہ سادہ یا نیم گرم پانی پینا چاہیے جبکہ بہت زیادہ ٹھنڈے پانی سے گریز کرنا چاہیے۔

کھانے سے پہلے

کھانے سے پہلے پانی پینے کی عادت زیادہ کھانے سے روکتی ہے، کھانے سے 30 منٹ پہلے ایک یا 2 گلاس پانی پینا حس ذائقہ کو بیدار کرکے معدے کو نمی فراہم کرتی ہے جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر اس عادت کے نتیجے میں توند سے بچنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔

جب بھوک لگے

کئی بار جب ہم کو بھول محسوس ہوتی ہے تو وہ بھوک نہیں بلکہ پیاس ہوسکتی ہے، اگر دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان بھوک محسوس لگے تو ایک گلاس پانی پی لیں، اگر بھوک غائب ہوجائے تو سمجھ لیں کہ آپ پیاسے تھے۔

ورزش سے پہلے اور بعد میں

جسم کو پانی کی کمی سے بچانے کے لیے ورزش سے پہلے اور بعد میں 2 سے 3 گلاس پانی پی لیں، اس سے جسم میں سیال کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے، مگر بہت کم وقت میں بہت زیادہ پانی پینے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے پیٹ میں مروڑ کا سامنا ہوسکتا ہے۔

بیماری کے دوران

جب آپ کو موسمی بیماریوں کا سامنا ہو تو پانی کا استعمال بڑھا دیں، اس سے نہ صرف جسم میں پانی کی مقدار مناسب سطح پر رہے گی بلکہ اس سے زہریلے مواد کے اخراج ہوگا اور بیماری سے جلد نجات ممکن ہوگی۔

جب تھکاوٹ کے شکار ہوں

اگر آپ بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کررہے ہوں اور آرام کے لیے وقت نہ ہو تو ایک گلاس پانی پی لیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر اکثر تھکاوٹ جسم میں پانی کی کمی کی ایک علامت بھی ہوتی ہے، پانی پینے سے دماغ کو کچھ طاقت ملتی ہے، جس سے تھکاوٹ کا احساس کم ہوجاتا ہے۔

پنیر بوٹی ذیابیطس کے مرض میں مؤثر ثابت

سنگاپور: پاکستان اور ہندوستان میں عام استعمال کی جانے والی ایک بوٹی کے بارے میں سائنسی ثبوت ملے ہیں کہ وہ ذیابیطس کنٹرول کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اسے پنیربوٹی یا پنیر ڈوڈی کہا جاتا ہے اور اس کا سائنسی نام Withania coagulans ہے۔ سینکڑوں برس سے یہ بوٹی روایتی ادویہ میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اگر اس بوٹی کا سفوف کیپسول کی صورت میں کھایا جائے تو اس کے زیادہ فوائد سامنے آتے ہیں۔ اسے تخمِ حیات بھی کہا جاتا ہے۔

سنگاپور میں واقع ننیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے کہا ہے کہ پنیربوٹی کے پھلوں سے ایک خاص اسٹیرائیڈ ملا ہے جسے چوہوں پر آزمایا گیا ہے۔ تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کے دوران جب اسے چوہوں کے لبلبے کے زندہ خلیات پر آزمایا گیا تو وہاں سے انسولین کے اخراج میں اضافہ ہوا۔ ہم جانتے ہیں کہ انسولین ہی خون میں شکر کی مقدار کو قابو رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاہم پنیربوٹی بہت کڑوی ہوتی ہے اور اسے کھانا محال ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہمت کرکے اسے کھا بھی لے تب بھی اس کے اہم اجزا ہاضمے کے عمل میں ضائع ہوجائیں گے اور معدے کے تیزابیت اس کی تاثیر ختم کردے گی۔

اسی لیے ماہرین نے ایک سمندری مخلوق کے خول سے بنے نینو ذرات استعمال کیئے ہیں اور ان کے اندر دوا کو رکھا ہے۔ اس طرح پنیر بوٹی کے اجزا جسم کے اندر گہرائی تک پہنچتے ہیں اور وہاں جاکر شفا دینے والے اسٹیرائیڈز خارج کرتے ہیں۔

اس کے بعد کیپسول کو ذیابیطس کے مریض چوہوں کو دیا گیا جس سے خون میں گلوکوز کی شرح میں 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ چوہوں کا لبلبہ انسولین بنانے لگا تھا۔ یہ تحقیق اے سی ایس اومیگا میں شائع ہوئی ہے۔

ایک عام پھول میں کینسر کے خلاف اہم مرکب دریافت

برمنگھم: سدا بہار کے پھول میں کینسر کے خلاف اجزا ایک عرصہ قبل دریافت ہوچکے ہیں جس کی بنا پر بعض دوائیں بھی بنائی گئی ہیں۔ اب ایک اور پھول میں ایسے ہی خواص ملے ہیں اور یہ پھول بھی عام پایا جاتا ہے۔

عاقر قرحا یا فیورفیو پھول دیکھنے میں انتہائی خوشنما لگتا ہے۔ حکمت اور روایتی ادویہ سازی میں اسے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ پھول کئی اقسام کے درد اور بالخصوص دردِ سر میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہرین نے خاص طور پر اس کے پودے کے پتوں سے کینسر کے خلاف اہم جزو یا مرکب (کمپاؤنڈ) دریافت کیا ہے۔

اس مرکب کا نام پارتھینولائڈ ہے جو دیگر پودوں میں تو ہوتا ہے لیکن اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ فیورفیو کے پودے کے پھول دینے کے آخری مرحلے میں غیر معمولی طور پرزیادہ پیدا ہوتا ہے۔

محققین نے اسی پودے سے پارتھینو لائڈ کشید کرنے کی کوشش ہے۔ ان تھک محنت سے ماہرین نے اس مرکب سے مزید ذیلی اجزا یا ڈرائیویٹوز کشید کئے ہیں ۔ نکالے گئے کیمیکل کی تعداد 71 تھی جنہیں باری باری آزمایا گیا۔ ان میں سے ایک مرکب بہت کارآمد ثابت ہوا۔ پھر یہ مرکب زندہ خلیات کے ساتھ بہت سرگرم بھی دیکھا گیا جس میں بہتر ادویاتی خواص بھی دیکھے گئے۔

اس مرکب کوکرونِک لمفوسائٹک لیوکیمیا کے خلیات اورآزمائشی ڈشوں پر آزمایا گیا تو یہ انہیں ختم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مرکب ری ایکٹوو آکسیجن اسپیشیز (آراوایس) کی تعداد گھٹاتا ہے جو صحتمند خلیات کے لیے زہریلے ثابت ہوتے ہیں۔ آراوایس کینسرزدہ خلیات میں پہلے ہی دریافت ہوچکے ہیں۔

تاہم ابھی کسی دوا کی تیاری کا مرحلہ بہت دور ہے ۔ یہ تحقیق میڈ کیم کمیونکیشن جرنل میں شائع ہوئی ہے

یہ میٹھی سوغات صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند

چاکلیٹ ایسی میٹھی سوغات ہے جو لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتی ہے۔

خاص طور پر ڈارک چاکلیٹ تو صحت کے لیے بہت فائدہ مند مانی جاتی ہے کیونکہ اس سے جسم کو فلیونوئڈز حاصل ہوتے ہیں جو کہ مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر پروٹین بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس سوغات کے فوائد ہوسکتا ہے آپ کو حیران کردیں۔

یادداشت بہتر بنائے

اٹلی کی L’Aquila یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کوکا (چاکلیٹ کا بنیادی جز) کھانا معمول بنالینا طویل المعیاد یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں موجود فلیوونوئیڈز یا فلیونولز ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے ذہنی صحت خصوصاً یادداشت میں بہتری آتی ہے جبکہ بلڈ پریشر اور انسولین لیول بھی بہتر ہوتے ہیں۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے

پرتگال کے پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھانا ایک ماہ کے اندر بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق ڈارک چاکلیٹ اینٹی آکسائیڈنٹ فلیونوئڈز سے زیادہ بھرپور ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار جز ہے۔ تحقیق کے دوران رضاکاروں پر کیے گئے تجربات کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ کوکا والی چاکلیٹ کھانے والوں کے بلڈپریشر میں ڈرامائی حد تک بہتری دیکھنے میں آئی۔

خون کی شریانوں کو تحفظ

ڈارک چاکلیٹ فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ دونوں اجزا خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جسمانی سوجن بڑھاپے اور اس سے متعلقہ امراض کا باعث بنتی ہے، لہذا سوجن پر قابو پانے والی غذا طویل زندگی کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے۔

جگمگاتی جلد

اگر آپ کو میٹھا کھانا پسند ہے تو چینی کے بجائے ڈارک چاکلیٹ کو کھانے کی عادت ڈال لیں، کوکا اور فلیونوئیڈز سے بھرپور یہ چاکلیٹ جلد کی ملائمت اور نمی کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

دماغی افعال بہتر بنائے

یہ میٹھی سوغات دماغی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے دوران 23 سے 98 سال کی عمر کے لگ بھگ ایک ہزار کے قریب افراد کی غذائی عادات اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ کو کھانا معمول بنالینے سے دماغی افعال میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ کے شوقین افراد دماغی آزمائش کے ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی کے ساتھ ساتھ، یاداشت اور دیگر دماغی کاموں میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

کھانسی سے نجات

اگر آپ کھانسی کے شکار ہیں تو کسی مہنگی دوا یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے قبل اس میٹھی سوغات کو استعمال کرکے دیکھ لیں ۔ جی ہاں چاکلیٹ، اسے اچھی طرح چبا کر کھانا کھانسی سے ریلیف فراہم کرتا ہے اور کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طبی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کھانسی کو دبانے میں سیرپ سے زیاہد بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس میٹھی سوغات کے استعمال سے کھانسی کی تکلیف میں کمی محض 2 دن میں ممکن ہوگئی۔ کھانسی کے اس علاج کے پیچھے 2 وجوہات ہیں، کوکا میں قدرتی طور پر ایک جز theobromine موجود ہوتا ہے جو کہ دائمی کھانسی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری وجہ چاکلیٹ کی ساخت ہے، جسے کھانے پر گلے میں ایک چپکنے والی کوٹنگ بن جاتی ہے جو کہ ان اعصاب کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو کھانسی کا باعث بنتے ہیں۔

مزاج پر مثبت اثرات

جب آپ مایوسی کا شکار ہو تو چاکلیٹ کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کا ذائقہ ذہن کو تحریک دیتا ہے اور آپ کو خوش باش بناتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چاکلیٹ کا ذائقہ، خوشبو یا بناوٹ بھی لوگوں کو خوش باش بنادیتی ہے، چاکلیٹ سے دماغ میں اچھا محسوس ہونے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان میں پہلی بار’ فوکل کرائیوابلیشن‘ سے دل کے مرض کا کامیاب علاج

کراچی: پاکستان میں پہلی بار قومی ادارہ برائے امراضِ قلب نے فوکل کرائیوابلیشن (دل کے تیز دھڑکن کی بیماری) کا عمل کامیابی سے سرانجام دے دیا۔

قومی ادارہ برائے امراضِ قلب نے پاکستان میں پہلی بار 60 سالہ خاتون کا کامیابی سے فوکل کرائیو ابلیشن (دل کے تیز دھڑکن کی بیماری) کا پروسیجر بالکل مفت سرانجام دیا گیا، مریضہ غلام فاطمہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے ہے جسکی عمر 60 سال ہے۔

یہ پروسیجر این آئی سی وی ڈی کی ٹیم نے الیکٹروفزیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر اعظم شفقت کی سربراہی میں 29 جولائی 2019 کو سرانجام دیا ہے۔ اس حوالے سے این آئی سی وی ڈی کے پروفیسر ڈاکٹر اعظم شفقت کا کہنا تھا کہ یہ پروسیجر ان مریضوں کے لئے ہوتا ہے جن کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔کامیابی سے یہ پروسیجر کیا گیا ہے، مریضہ 27 سالوں سے اِس مرض میں مبتلا تھی۔

Pakistan first heart focal cryoablation Prof. Dr. Azem Shafqet main pic

ڈاکٹر اعظم شفقت

ڈاکٹر اعظم شفقت نے مزید بتایا کہ جب یہ مریضہ ہمارے پاس این آئی سی وی ڈی میں آئی تو یہ اندازہ ہوا کے اگر ہم اس کے دل کی دھڑکن کو نارمل طریقے سے جلانے کی کوشش کریں گے تو اس سے مریضہ کے دل کی  دھڑکن غیر معمولی کمی ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس اب جلانے کے بجائے اس کو فریز کرنے کی سہولت موجود ہے، آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دل کے اس متاثر حصے کو اتنا  ٹھنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ مرض جڑ سے ختم ہوجاتا ہے، اس سے قبل دل کی متاثرہ بافتوں (ٹشوز) کو بعض طریقوں سے جلایا جاتا تھا لیکن منجمد کرکے ختم کرنے کا طریقہ قدرے جدید اور مؤثر ہے۔

Pakistan first heart focal cryoablation patient Ghualm Fatima

مریضہ غلام فاطمہ

ڈاکٹر اعظم شفقت کا کہنا تھا کہ اس مریضہ کا ہم نے کامیابی سے کرائیو ابلیشن پروسیجر کیا، اس مریضہ کے دل کی دھڑکن جو پہلے مہینے میں کئی مرتبہ 200 منٹ فی رفتار پر  چلی جاتی تھی اب وہ بالکل نارمل ہے۔

این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر نے این آئی سی وی ڈی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج این آئی سی وی ڈی نے پاکستان میں پہلی بار کرائیو ابلیشن پروسیجر سرانجام دے کر ایک اور سنگِ میل عبور کیا ہے۔ این آئی سی وی ڈی، امراضِ قلب کا جدید علاج فراہم کرنے میں دنیا کا بہترین ادارہ بن چکا ہے۔

کمر درد کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دور کرنا بہت آسان

کمر کا درد دنیا بھر کا مسئلہ ہے اور لگ بھگ ہر کسی کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ درد پسلی سے نیچے شروع ہوتا ہے اور نیچے تک پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ہوتا ہے، تاہم اس کو ہمیشہ کے لیے دور کرنے کے لیے دردکش ادویات کی بجائے کسی اور چیز سے مدد لیں۔

جی ہاں آپ کو ادویات کی بجائے یوگا سے مدد لینی چاہیے جو دائمی کمردرد کے مسئلے کو بھی ختم کرنے کے لیے مددگار ہے۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں 320 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو دائمی کمردرد کے شکار تھے۔

ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ یوگا کلاسز لیتا تھا، دوسرا فزیکل تھراپی سیشن جبکہ تیسرا گروپ وہ تھا جن کو ایک تعلیمی کتاب اور نیوزلیٹرز ملے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یوگا کی ورزشیں کمردرد کے لیے فزیکل تھراپی جتنی ہی موثر ہیں اور اس سے معیار زندگی اور اطمینان کی سطح میں بھی اضافہ ہوا۔

بوسٹن میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق مین بتایا گیا کہ یوگا کو کمردرد سے ہمیشہ نجات کے لیے ایک تھراپی کی حیثیت دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

امریکن کالج آف فزیشن بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کمردرد کے مریضوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ دردکش ادویات کی بجائے متبادل قدرتی طریقہ علاج جیسے یوگا یا مالش وغیرہ کا انتخاب کریں۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دردکش ادویات کو فوری طور پر ہی چھوڑ دیں بلکہ یوگا ورزشوں کے ساتھ ان کا استعمال اس مسئلے سے بہت جلد نجات میں مدد دے سکتا ہے، تاہم یوگا ورزش یا آسن کا انتخاب کسی ماہر یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کریں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

Google Analytics Alternative