صحت

بھاپ اُڑاتی تیز گرم چائے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

تہران: محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بھاپ اُڑاتی گرما گرم چائے پینے کے عادی افراد غذا کی نالی کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

امریکن کینسر سوسائٹی نے سائنسی جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف کینسر‘ میں شائع ہونے والی اپنی تحقیقی رپورٹ میں 60 سینٹی گریڈ تک گرم چائے کے 2 کپ پینے والے افراد کے غذا کی نالی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے بھی 65 سینٹی گریڈ تک گرم چائے پینے سے باز رہنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی تحقیقی مقالوں میں تیز گرم چائے اور کینسر کے درمیان تعلق کا تذکرہ کیا جاچکا ہے تاہم پہلی بار اُس خطرناک درجہ حرارت کا تعین کیا گیا ہے جو کینسر کا سبب بن سکتا ہےجو کہ 60 سینٹی گریڈ ہے۔

یہ تحقیقی مقالہ تہران یونیورسٹی برائے طبی سائنس کی مدد سے ایران میں مکمل کیا گیا ہے جہاں امریکا میں کئی گنا زیادہ درجہ حرارت والی چائے پینے کا رجحان عام ہے۔ سائنس دانوں نے 2004 سے 2017 کے درمیان 50 ہزار ایرانیوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

Cancer

تحقیق میں 40 سے 45 سال کی عمر کے 50 ہزار افراد کو رکھا گیا تھا، مطالعے کے دوران خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کے کینسر کے 317 نئے کیس سامنے آئے۔ ان افراد میں بار بار تیز گرم چائے پینے سے غذا کی نالی میں خراشیں پڑ جاتی ہیں اور زخم گہرا ہوتے ہوتے کینسر میں تبدیل ہو گیا تھا۔

سائنس دانوں نے تجویز دی ہے کہ روزانہ 700 ملی لیٹر سے زیادہ اور 60 سینٹی گریڈ تک گرم چائے پینے سے اجتناب برتیں کیوں کہ اس مقدار اور درجہ حرارت کی چائے پینے والوں میں 90 فیصد تک کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

چاول فوڈ پوائزنگ کا سبب بھی بن سکتے ہیں!

چاول دنیا بھر میں رغبت سے کھائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ فریج میں رکھے ہوئے بچے کچھے چاول بھی اتنے ہی شوق سے کھا لیے جاتے ہیں۔ بچے ہوئے چاولوں کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا اس لیے کھانے میں برے بھی محسوس نہیں ہوتے۔

چاول کھانے والوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ باسی چاول فوڈ پوائزنگ کی ایک بڑی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ اس کا تعلق باسی چاولوں کو گرم کرنے کے طریقہ کار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہے بچے ہوئے چاولوں کو محفوظ کرنے کے طریقے سے۔

کچے چاولوں میں دوبارہ بن جانے کی صلاحیت رکھنے والا ‘بیسی لس سیروس’ نامی ایک سیل ہوتا ہے۔ یہی سیل فوڈ پوائزنگ کی وجہ بنتا ہے، یہ سیل چاولوں کے پک جانے کے باوجود بھی موجود رہتا ہے۔

 چاول پکنے کے فوراً بعد کمرے کے درجہ حرارت پر رکھ دیئے جانے سے اصل مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ درجہ حرارت پر جتنا زیادہ عرصہ چاول رہے گا اتنا ہی اس میں فوڈ پوائزنگ پیدا کرنے والا عنصر نشوونما پانا شروع کر دے گا اور اس کا شکار آپ اگلے دن باسی چاول کھانے پر بن سکتے ہیں۔

اب اصل مسئلہ سمجھ میں آگیا ہوگا کہ جتنی زیادہ دیر چاول باہر رہیں گے اتنا ہی زیادہ ان میں فوڈ پوائزنگ پیدا کرنے والا جزو نمو پاتا رہے گا۔ ماہرین غذائیت کے مطابق پکے ہوئے چاولوں کو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے فریج سے باہر رکھا جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بچے ہوئے چاولوں کو جلد سے جلد فریج میں رکھ دیا جائے۔

آنکھوں کے زخم دور کرنے کیلئے ’’جیلی نما گوند‘‘ ایجاد

بوسٹن: آنکھوں میں زخم اور دیگر نقصانات کی صورت میں ایک سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم اب ماہرین نے حیاتیاتی طور پر ایک ایسا جیل (گوند) تیار کیا ہے جو آنکھوں کی چوٹ کو ٹھیک کرسکتا ہے بلکہ اس کی بدولت آنکھوں کے قرنیہ کی منتقلی کے آپریشن کی ضرورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک ایک رپورٹ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی ’جیل کور‘ کے بارے میں لکھا ہے جو ایک گوند نما جیل پر مبنی ہے اور روشنی سے متحرک ہوکر جیل قرنیہ کے زخم بھرکر زخم اور کٹنے کے عمل کو دور کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ جیل قرنیہ کی بافتوں (ٹشوز) کو افزائش کرتا ہے۔ تاہم اسے انسانوں پر نہیں آزمایا گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے جلد یا بدیر یہ ایجاد قرنیے کے سرجری سے بھی نجات دلائے گی جن میں قرنیہ کی منتقلی جیسے پیچیدہ آپریشن بھی شامل ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کلائس ایچ دولمان اور اور میساچیوسیٹس آنکھ اور کان ہسپتال کے محقق رضا دانا نے امید ظاہر کی ہے یہ بایومٹیریل ہے جو قرنیہ کے زخم سے چپک جاتا ہے اور وہاں خلیات کی افزائش کرتا ہے اور قرنیے کی بڑھوتری عین قدرتی عمل کی طرح ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال متاثر قرنیے سے نابیناپن کے 15 لاکھ سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فی الحال قرنیے میں سوراخ ، کمزوری، زخم اور پتلے پن سمیت دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے لیزر اور دیگر طریقوں سے جراحی کی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ گوند ایک بہترین بصارت دوست متبادل ہے۔ پھر قرنیے کی منتقلی میں انفیکشن اور مسترد کرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

تجرباتی طور پر اس جیل کو بہت ہی مؤثر قرار دیا گیا ہے ۔ جب متاثرہ قرنئے پر اسے لگایا گیا تو 3 ملی میٹر کا زخم اس نے درست کردیا۔ چند دنوں بعد آنکھ بہتر اور ہموار ہوگئی اور جلن کے آثار بھی نہیں دیکھے گئے۔ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جب اس جیل پر روشنی ڈالی جاتی ہے تب ہی یہ سرگرم ہوتا ہے اور یوں روشنی قابو کرکے اسے بھی اپنے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔

انسان صحیح معنوں میں 30 سال میں بالغ ہوتا ہے، نئی تحقیق

اگرچہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کسی بھی انسان کے بالغ ہونے کی قانونی عمر 18 برس ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اسی عمر میں انسان صحیح معنوں میں بالغ نہیں ہوتا۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں 18 سال کے بعد تمام افراد کو نہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا کیا جاتا ہے، بلکہ انہیں شادی کرنے، ووٹ کاسٹ کرنے، کوئی بھی ملکیت خریدنے اور فروخت کرنے سمیت انہیں قانونی طور پر بالغ سمجھا جاتا ہے۔

اگر کوئی بھی شخص 18 سال سے چند ماہ پہلے بھی کسی جرم کے الزام میں گرفتار کیا جائے تو اس کے خلاف نابالغ افراد یعنی بچوں کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔

تاہم 18 سال کے ہوتے ہی ہر شخص کی قانونی حیثیت تبدیل ہوجاتی ہے۔

لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے دماغی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل انسان صحیح معنوں میں 30 سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے۔

18 سال کے بعد انسان بہتر بالغ ہونا شروع ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: ون میڈ ڈائریکٹ
18 سال کے بعد انسان بہتر بالغ ہونا شروع ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: ون میڈ ڈائریکٹ

ماہرین کا کہنا تھا کہ انسان کا بالغ ہونا بھی دنیوی نظام تعلیم یا اس طرح کے دیگر نظاموں کی طرح ہوتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی 6‘ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے مثال دی کہ اگرچہ 18 سال کے افراد کو پولیس بالغ افراد کے طور پر گرفتار کرتی ہے اور عدالتیں بھی ان کے خلاف بالغ افراد کے طور پر ہی مقدمہ چلاتی ہیں۔

تاہم اگر عدالت میں 18 برس اور 30 برس کے ملزموں کو پیش کیا جائے تو ججز دونوں کی عمر کی وجہ سے 18 سال کی عمر کے ملزم کو منظم جرائم پیشہ نہیں مانتے اور 30 سال والے شخص کو عادی مجرم مانا جاتا ہے۔

بالغ ہونے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، ماہرین—فوٹو: ایڈلٹ ارنر
بالغ ہونے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، ماہرین—فوٹو: ایڈلٹ ارنر

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ 18 سال کی عمر کو پہنچے ہی انسان جسمانی و قانونی طور پر بالغ ہوجاتا ہے اور اسے کئی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں، تاہم وہ سنجیدہ شخص نہیں بنتا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان سنجیدہ ہوجاتا ہے اور وہ صحیح معنوں میں بالغ بنتا ہے۔

دماغی ماہرین کے مطابق انسان کے بالغ ہونے اور سنجیدہ بالغ ہونے میں کسی تجربہ کار اور ناتجربہ کار انسان کی طرح کا فرق ہوتا ہے۔

ماہرین نے یہ باتیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈپیارٹمنٹ اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والی ایک تقریب میں کہیں۔

18 سال اور 30 کے بالغ میں فرق ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
18 سال اور 30 کے بالغ میں فرق ہوتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

گرم چائے پینا جان لیوا مرض کا باعث

چائے کے شائقین زیادہ تر افراد گرما گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق نیم گرم یا ٹھنڈی چائے میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو گرم چائے میں ہوتا ہے۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت بھی گرما گرم چائے یا دیگر مشروب پینے سے روک چکا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی تھی کہ تیز گرم چائے صحت کے لیے نقصان کار ہوتی ہے۔

تاہم اب امریکی ماہرین کی جانب سے ایران میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تیز گرم چائے جان لیوا مرض یعنی گلے یا غذائی نالی کی کینسر کا باعث بنتی ہے۔

انٹرنیشل جرنل آف کینسر (آئی جے سی) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے غذائی نالی یا گلے کی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
تیز گرم چائے کے کپ کو 4 منٹ کے بعد پیا جائے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) کے ماہرین کی جانب سے ایران کے شمال مشرقی صوبے گلستان کے 5 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد 60 سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے پیتے ہیں ان میں گلے یا غذائی کینسر ہونے کے 90 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 40 سے 75 سال افراد کی جانب سے تیز گرم اور نیم گرم چائی پیے جانے کے نتائج کو 2004 سے 2017 تک مانیٹر کیا اور بعد ازاں رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لیا۔

جائزے کے نتائج سے معلوم پتہ چلا کہ جو افراد ابلتی ہوئی تیز گرم چائے پینے کے عادی ہیں ان میں غذائی نالی اور خصوصی طور پر گلے کی کینسر کے امکانات عام افراد یا پھر نیم گرم چائے پینے والے افراد کے مقابلے 90 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی تحقیق سے قبل بھی یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے، تاہم ان کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کتنی گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد یومیہ 700 ملی لیٹر یعنی چائے کے 2 بڑے کپ تیز گرم پیتے ہیں وہ جلدی سے کینسر کا شکار بنتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ چائے کے شوقین افراد کو نیم گرم چائے پینی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر چائے کے شوقین افراد تیز گرم چائے کے کپ کو محض 4 منٹ کے بعد پینا شروع کریں گے تو ان میں کینسر کے خدشات کم ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت بھی کہ چکا ہے کہ چائے یا دیگر گرم مشروب کو 65 سینٹی گریڈ سے زائد گرم صورت میں نہ پیا جائے۔

لندن میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نہ صرف چائے اور مشروب بلکہ ہر تیز گرم غذا کو کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور سے غذائی نالی، گلے، معدے اور اسی طرح کے دیگر کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

غذائی نالی یا گلے کے کینسر کا شمار کینسر کے 8 ویں بڑی قسم میں ہوتا ہے اور اس سے سالانہ 4 لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

رواں سال میں اب تک امریکا میں غذائی یا گلے کی کینسر کے مجموعی طور پر 16 ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں سے 4 ہزار کے قریب خواتین مریض ہیں۔

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

ہالینڈ:  نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

ہالینڈ میں نیشنل انسٹٰی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ اینوائرمنٹ نے یورپی کینسر اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت 35000 افراد کا 15سال سے زائد عرصے تک سروے کیا جن میں 20 سے لے کر 70 سال تک کے افراد شامل تھے۔ اس سروے کا مقصد غذا، صحت یا اس سے ہونے یا نہ ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔

تاہم تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف نارنجی کے جوس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ دیگر اقسام کے تازہ پھلوں کا رس بھی اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہفتے میں 8 مرتبہ نارنجی کا رس پیا جائے تو فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن یہ رس پینے سے فالج کا خطرہ 20 فیصد تک ٹلتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اورنج جوس دل کے امراض کے خطرے کو بھی دور کرتا ہے اور اس سے  دل کی شریانوں کے متاثر ہونےکا خدشہ 12 سے 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے رس میں پھل کے تمام اہم کیمیکلز اور فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کی شرح کم ہوتی ہے اور یوں فالج یا لقوے کا خطرہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔

فالج کے اکثر واقعات میں خون کا لوتھڑا جسم سے گھومتا ہوا دماغ کی باریک رگوں میں پھنس جاتا ہے اور یوں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے جس سے فوری موت واقع ہوجاتی ہے یا بچ جانے والے کسی نہ کسی معذوری کے شکار ہوجاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین نے کہا ہے کہ شکر سے پرہیز کرنے والے افراد نارنجی کا رس پینے سے دور نہ ہٹیں کیونکہ اس کے بے پناہ فوائد ہیں۔

آواز اور روشنی کی مدد سے دماغ کی صفائی میں اہم کامیابی

بوسٹن: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ روشنی اور آواز سے تحریک دینے سے دماغ سے وہ فاسد مواد خارج ہوجاتا ہے جو الزائیمر کی وجہ بنتا ہے۔ اسی عمل سے دماغی افعال کو درست کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔  

ہم ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ جیسے جیسے دماغ میں بی ٹا ایمائی لوئڈ نامی مادہ جمع ہوتا ہے تو وہ ایک اور زہریلے پروٹین ٹاؤ سے مل کر اعصابی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرتا ہے اور یوں الزائیمر جیسی بیماری سر اٹھانے لگتی ہے۔ اب حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ  الزائیمر کے شکار مریضوں کی دماغی لہروں میں بھی بے قاعدگی اور خرابی پائی جاتی ہے۔ دماغی خلیات یا نیورونز خاص طرح کی برقی تھرتھراہٹ خارج کرتے ہیں جنہیں دماغی امواج یا brain waves  کہا جاتا ہے۔

اس سے قبل تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ الزائیمر کے مریضوں میں سب سے بلند فری کوئنسی والی ’گیما‘ دماغی لہروں میں واضح خلل آتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں کیمبرج اور ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ بعض اقسام کی لائٹ تھراپی یا روشنی سے علاج کے بعد الزائیمر کے شکار چوہوں میں گیما لہریں دوبارہ بحال کی جاسکتی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ دماغ میں بیماری کی وجہ بننے والے بی ٹا ایمائی لوئڈ میں کمی واقع ہورہی ہے۔

اب اسی ٹیم نے بتایا ہے کہ روشنی اور آواز کی مدد سے بعض مریضوں میں دماغی بہتری پیدا کی جاسکتی ہے جس کی تفصیلات جرنل سیل میں شائع ہوئی ہیں۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر لائی ہوائی سائی اور ان کے ساتھیوں نے الزائیمر والے چوہوں کو روزانہ 40 ہرٹز کی روشنی میں ایک گھنٹے تک رکھا۔ اس سے چوہوں میں دماغ کا دشمن بی ٹا ایمائی لوئڈ کم ہوا اور ساتھ ہی زہریلے ٹاؤ پروٹٰین کی مقدار بھی کم ہوئی ۔

اس کے بعد چوہوں کو مسلسل سات روز تک 40 ہرٹز کی آواز ایک گھنٹے تک سنائی گئی تو اس کے بھی اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ اس سے نہ صرف دماغ میں آوازوں کے گوشے بلکہ یادداشت کے ایک اہم مرکز ’ہیپوکیمپس‘ سے بھی مضر کیمیکل اور پروٹین میں کمی دیکھی گئی ۔ اسی کے ساتھ دماغ میں خون کا بہاؤ بھی بہت بہتر ہوا جو ایک اضافی فائدہ ہے۔

اس کے بعد ماہرین نے آواز اور روشنی دونوں کو ملاکر مزید ایک ہفتے تک استعمال کیا تو امائی لوئڈ میں مزید کمی دیکھی گئی۔ جس کے مزید فوائد دیکھے گئے ہیں۔ یہ طریقہ انسانوں کے لیے بہت محفوظ اور مؤثر ثابت ہوسکتا اور توقع ہے کہ جلد ہی انسانوں پر اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔

بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو ہونے والے ڈپریشن کیلئے پہلی دوا کا استعمال منظور

واشنگٹن: امریکی حکومت نے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے پہلی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔

مذکورہ بیماری سے صرف امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک ماں ضرور متاثر ہوتی ہے۔

اس بارے میں سینٹر فار ڈرگ ایولوشن اینڈ ریسرچ کی عہدیدار ٹفنی فارچوائن کا کہنا تھا کہ ماؤں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک سنگین صورتحال ہے جو اگر شدید ہو تو اس سے زندگی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار خواتین کو اپنے آپ کو یا اپنے بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات آتے ہیں‘۔

اس مرض کا دوسرا سب سے بڑا اثر مریض پر غنودگی طاری ہونا اور منہ خشک ہوجانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منظوری سے پہلی بار کسی دوا کو خاص طور پر پوسٹ مارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے مختص کیا گیا جو علاج کا ایک نیا اور اہم طریقہ کار ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے علاج کے لیے جس دوا کی منظوری دی گئی اس کا نام بریگزانولون (brexanolone) جو سیگ تھراپیوٹکس کمپنی کی ہے۔

اس دوا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے فائدہ پہنچاتی ہے زیادہ سے زیادہ 2 دن میں جبکہ ڈپریشن دور کرنے کی روایتی ادویات کے اثر میں چند ہفتوں سے کچھ ماہ تک کا عرصہ لگتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ دوا کا تجارتی نام زُلریسو ہے جس کی منظوری فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دی۔

تاہم اس بات کی تاکید کی گئی کہ اس دوا کے استعمال کے بعد 60 گھنٹوں تک ہسپتال میں نگرانی کی جائے کیوں کہ کلینکل ٹیسٹس کے دوران کچھ خواتین میں بے ہوشی کا خطرہ پایا گیا۔

دوا بنانے والی کمپنی سیگ تھراپیوٹکس کا کہنا تھا کہ مذکورہ دوا جون کے اواخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

امریکی ذرائع بالاغ کے مطابق جن لوگوں کے پاس ہیلتھ انشورنس موجود نہیں ان کے لیے اس علاج کے اخراجات 34 ہزار ڈالر تک مہنگے ہوسکتے ہیں تاہم اس علاج کے لیے ہسپتال کی نگرانی ضروری ہے جس کے اخراجات اس رقم میں شامل نہیں ۔

اس بارے میں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کا کہنا تھا کہ 2012 میں تقریباً 11.5 فیصد نئی مائیں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوئیں۔

Google Analytics Alternative