- الإعلانات -

کینسر کی تشخیص اب صرف چند منٹوں میں

کینسر کی تشخیص اب صرف چند منٹوں میں بغیر کسی مشکل ٹیسٹ کے ممکن ہوسکے گی۔

یہ دعویٰ امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرین نے کیا ہے۔

ان ماہرین نے کینسر کی تشخیص کے لیے ایسی تیکنیک تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے کسی فرد کے تھوک یا لعاب دہن سے جان لیوا مرض کو پکڑا جاسکے گا۔

اس طریقہ کار کی آزمائش چین میں جاری ہے اور طبی ٹیم کو توقع ہے کہ اسے جلد یورپ میں بھی متعارف کرا دیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ کی مدد سے صرف 10 منٹ میں کینسر کی تشخیص ممکن ہوسکتی ہے۔

اگر یہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت خون کے ٹیسٹ کا سلسلہ ختم ہوجائے گا جو کہ اس وقت کینسر کی تشخیص کے لیے بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال کے ذریعے نتائج کے حصول میں 2 ہفتے کا وقت لگ جاتا ہے جبکہ تھوک کے ٹیسٹ سے قیمتی وقت بچانے کے ساتھ ڈاکٹروں کے لیے علاج جلد شروع کرنا ممکن ہوسکے گا۔

یہ ٹیسٹ جسے ‘ لیکوئیڈ بائیوپسی’ کا نام دیا گیا ہے، اس وقت تیار کیا گیا جب محققین نے دریافت کیا کہ کینسر خلیات کے آر این اے کے آثار تھوک میں بھی دریافت کیے جاسکتے ہیں۔

آر این اے ایک مالیکیول ہے جو ڈی این اے کی وضاحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس نئے ٹیسٹ میں رسولی کے آر این اے کو تھوک پر دیکھا جاتا ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار مریضوں پر اس کے تجربات میں تجربات لگ بھگ درست نکلے ہیں۔

اس ٹیسٹ کی قیمت 22 ڈالرز تک ہوسکتی ہے اور اسے طبی مراکز، ڈاکٹروں کے دفاتر یا مریض کے گھر تک میں کیا جاسکے گا۔

ماہرین کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے کئی اقسام کے کینسر کی تشخیص کی جاسکتی ہے جبکہ اس وقت مختلف اقسام کے کینسر کے لیے مختلف اسکریننگ پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے۔