- الإعلانات -

یادداشت بڑھا نے کے آسان نسخے

ا چند ایسی تدابیر جن پرعمل کرنے سے یاداشت بہتربنائی جاسکتی ہے۔

جسم کوفٹ رکھیے 
روزانہ صبح سویرے یاشام کوتیزچہل قدمی کیجئے اور بدن پھیلانے والی ورزش کیجئے۔ ان ورزشوں کے ذریعے نہ صرف دماغ کاسفید مادہ بڑھتاہے بلکہ مزید نیورون (خلویاتی) کنکشن بھی جنم لیتے ہیں۔
دباؤنہ بڑھنے دیں 
ورزش سے ذہنی سے ذہنی وجسمانی دباؤ کم کرنے میں بھی مددلیتی ہے۔ دراصل اس دباؤ کے باعث جسم میں کورٹیسول کیمیائی مادہ پیداہوتاہے جودماغ کے یادداشت کے مراکز سیکٹر دیتاہے۔ مزید براں عبادت اور مراقبہ بھی یادداشت بڑھانے میں ممدومعان ثابت ہوتے ہیں۔
فولادکی سطح چیک کریں 
ہمارے دماغ کے خصوصی خلیہ نیوروٹرانسمیٹر ہماری یادداشت عمدہ حالت میں رکھتے ہیں اور یہ خود فولاد کے ذریعے توانارہتے ہیں۔ لہٰذا اپنے بدن میں اس اہم معدن کی کمی نہ ہونے دیجئے۔ جن مردوزن میں فولاد کی کمی ہووہ عموماََ بھلکڑبن جاتے ہیں۔

دماغ مضبوط کرنے والی غذائیں 
ان میں وہ غذائیں سرفہرست ہیں جن میں اومیگا 3فیٹس‘ گلوکوز(ثابت اناج) اور ضد تکسیدی مادے (Antioxidants) ملتے ہیں۔ مزید براں دن میں پانچ چھ بار کھانا کھانے خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رہتی ہے اور دماغ بنیادی طور پر گلوکوز سے توانائی حاصل کرتاہے۔
دماغ کومصروف رکھئے
ایسی سرگرمیان اپنائیے جن سے دماغ کی ورزش ہومثلاََ معمے حل کیجئے اور کراس ورڈپزل کھیلیں۔ ان سرگرمیوں سے دماغ کی ورزش ہوتی ہے اور وہ چاق وچوبندرہتاہے۔
ایک وقت میں ایک کام 
کئی مردوزن ٹی وی پرخبریں سنتے ہوئے کھانا کھاتے اور کبھی کبھی تواخبار بھی پڑھنے لگتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یوں انہیں سنی گئی خبریں یادرہتی ہیں اور نہ ہی پڑھایا گیامواد۔ یہ کھانے کاصحت بخش طریقہ بھی نہیں۔
کولیسٹرول پرقابوپائیے
انسان جسم میں کولیسٹرول کی زیادتی بڑاخطرناک عمل ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دل کی شریانوں میں چربی جمتی ہے بلکہ دماغ میں بھی خون کی نسوں میں لوتھڑے جنم لیتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دماغ کوقیمتی غذائیت نہیں ملتی اور بتدریج یادداشت جاتی رہتی ہے۔
ادویہ پرنظررکھیں 
کئی ادویہ انسان یادداشت پرمنفی اثرات ڈالتی ہیں اور ایک قابل ذکربات یہ ہے کہ انسان جتنا بوڑھا ہو دوااتنی ہی دیرتک اس کے بدن میں رہتی ہے۔ نظام یادداشت پراثرانداز ہونے والی ادویہ میں اینٹی ڈیپریسنٹ‘ بیٹابلاکرز‘ کیموتھراپی‘ پارکسن مرض کی دوائیں شامل ہیں۔
ایک سیب روزانہ کھائیے 
سیب میں شامل ضدتکسیدی مادوں کی بلند مقدار زیادہ ایسٹیلکولین (Acetylcholine) کیمیائی مادہ پیداکرتی ہے۔ دماغ میں ملنے والا یہ نیوروٹرانسمیٹر عمدہ یادداشت کیلئے لازمی ہے۔