- الإعلانات -

یہ عام عادت جلد موت کا خطرہ کم کرے

درمیانی عمر میں ایک آسان عادت اپنا کر مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے، چاہے پوری زندگی ورزش سے دور ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سست طرز زندگی گزارنے والے افراد میں مختلف امراض کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تاہم جسمانی طور پر متحرک ہوکر اس خطرے کو 25 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے اور اگر آپ پہلے ہی ورزش کرتے رہے ہوں تو زیادہ متحرک ہونا جلد موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق زندگی میں فٹنس کے حصول کے لیے جسمانی سرگرمیوں کو اپنانے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی، چاہے آدھی زندگی بیٹھ کر ہی کیوں نہ گزار دی جائے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 15 ہزار کے قریب مردوں اور خواتین کے طرز زندگی کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا۔

اس کے بعد بھی ٹیم نے مختلف تبدیلیوں سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ 13 سال تک لیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی عمر اور بڑھاپے میں بھی جسمانی سرگرمیوں کو طرز زندگی کا حصہ بنالینا مختلف جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کو اپنا کر ہارٹ اٹیک، فالج اور ذیابیطس سمیت مختلف امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

ان جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضروری نہیں کہ جم میں جاکر محنت کی جائے روزانہ کچھ دیر کے لیے تیز چہل قدمی سے بھی صحت کو کافی حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے، مجموعی طور پر ہفتہ بھر میں کم از کم 150 منٹ کی سرگرمیاں اچھی صحت کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔