- الإعلانات -

مردوں کی مانع حمل کریم کا پہلا کامیاب تجربہ

گزشتہ برس دسمبر میں امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ نے اعلان کیا تھا کہ ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد پہلی بار مردوں کے لیے مانع حمل کریم تیار کرلی ہے، جس کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ ابتدائی طور پر اس کریم کی آزمائش کی گئی تھی، جس میں کوئی بھی نقصان سامنے نہیں آیا تھا اور اب اسے مزید تحقیق اور تجربات کے لیے دنیا بھر کے 450 جوڑوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

ساتھ ہی بتایا تھا کہ مردوں کی اس مانع حمل کریم کی آزمائش کا مرحلہ 2022 تک مکمل ہوگا، جس کے بعد اس کے استعمال سے نتائج اخذ کرکے اس مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش یا نہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اور اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس کریم کو آزمانے والے جوڑے نے اسے کامیاب قرار دیتے ہوئے کسی بھی بڑے سائیڈ افیکٹس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’دی ٹائمز‘ کے مطابق مردوں کی مانع حمل کریم کی آزمائش کے لیے جن 450 جوڑوں کو منتخب کیا گیا تھا، ان میں اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کا ایک جوڑا بھی شامل تھا، جو گزشتہ 6 ماہ سے اس کریم کو استعمال کر رہے تھے۔

کریم ایک نقصان دے رہی ہے، یہ جنسی خواہش بڑھا رہی ہے، جیمز اورز—فوٹو: دی گارجین
کریم ایک نقصان دے رہی ہے، یہ جنسی خواہش بڑھا رہی ہے، جیمز اورز—فوٹو: دی گارجین

کریم کو استعمال کرنے والے 29 سالہ جیمز اورز اور ان کی اہلیہ 27 سالہ ڈینا بارسلے نے بتایا کہ اس کریم کے استعمال کے بعد انہیں اب تک کسی منفی تجربے سے نہیں گزرنا پڑا۔

جیمز اورز نے بتایا کہ اب تک انہیں اس کریم کو استعمال کرتے ہوئے صرف ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کے مطابق انہیں محسوس ہوا کہ کریم کے استعمال سے ان میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں، تاہم انہیں کوئی اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ جوڑا رواں برس فروری سے اس کریم کو استعمال کر رہا ہے، یہ کریم صرف مردوں کے استعمال کے لیے ہے۔

یہ کریم مرد حضرات دن میں ایک بار اپنے کاندھے اور سینے پر لگائیں گے۔

یہ کریم ہیئر جیل کی مانند کسی ٹوتھ پیسٹ کی طرح بنائی گئی ہے جو جسم پر لگائے جانے کے چند سیکنڈ بعد خشک ہوجاتی ہے۔

یہ ٹسٹوسیٹرون اور پروجسٹرون کے مرکب سے بنائی گئی ہے اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ کریم مرد کے اسپرمز میں تولیدی جراثیم کی تعداد کو کم کرے گی تاہم جسم پر اس کے کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

پروجسٹرون ایک ایسی دوائی ہے جو خواتین کی مانع حمل دوائیوں میں پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہے، تاہم اس کریم میں ٹسٹوسیٹرون کو شامل کیا گیا ہے جو متاثر ہونے والے اسپرمز کی سطح برقرار رکھنے کے لیے کام کرے گی۔

ایڈنبرا کے جوڑے کی جانب سے کریم کے کامیاب تجربے کو شیئر کیے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کریم کی آزمائش آئندہ کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی، جس کے بعد اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

اگر یہ کریم کامیاب ہوگئی تو یہ مردوں کے لیے مانع حمل کی پہلی دوائی ہوگی۔

خیال رہے کہ اس کریم کے علاوہ بھی امریکی ماہرین نے رواں برس مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مردوں کے لیے مانع حمل گولیاں تیار کرلی ہیں، جن کا ابتدائی تجربہ بھی کامیاب ہوچکا ہے۔

امریکی ماہرین نے مردوں کے لیے تیار کی جانے والی گولیوں کو (11beta-MNTDC) کا نام دیا تھا۔

ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ مجموعی طور پر تیار کی گئی مانع حمل دوا (11beta-MNTDC) ابتدائی طور پر مردوں کے لیے محفوظ ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اسکاٹ لینڈ کا جوڑا 6 ماہ سے کریم استعمال کر رہا تھا—فوٹو: دی سن
اسکاٹ لینڈ کا جوڑا 6 ماہ سے کریم استعمال کر رہا تھا—فوٹو: دی سن