- الإعلانات -

بدلتے موسم،الرجی کے مریض

اسلام آباد : طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم کی وجہ سے الرجی کے مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں پولن الرجی کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے، طبی ماہرین نے الرجی کے مریضوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، بہار کی آمد کے ساتھ ہی الرجی کے مریضوں کی سانس میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جو سرسبز و شادابی کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے تاہم پولن الرجی کا سبب بننے والے خود رو جنگلی شہتوت بھی یہاں پائی جاتی ہے، گھاس اور سبزہ پھوٹنے کے ساتھ اور باغیچوں اور کیاریوں میں پھولدار پودوں کی کونپلیں نکلنے کے ساتھ ہی فضاءمیں پولن پھیلنے کی مقدار میں روز بروز اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پولن الرجی کا سیزن شروع ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہو جائے گا، الرجی کے مریض مرض سے بچنے کے لئے انتہائی ضرورت کے سوا گھر سے نہ نکلیں، متاثرہ افراد گھر سے نکلتے وقت اور موٹر سائیکل اور سائیکل سوار ماسک پہن کر نکلیں، طلوع صبح اور غروب آفتاب کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے اجتناب کیا جائے۔

 

ماہر صحت ڈاکٹر اسلم نے کہا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے پولن زمین پر بچھی ہوتی ہے۔ سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی یہ زمین سے بلند ہونے لگتی ہے اور صبح 10، 11 بجے تک زمین کی سطح سے 6 فٹ بلند ہو چکی ہوتی ہے، اس لئے صبح 8 سے 11 بجے تک اسلام آباد میں مقیم پولن الرجی سے متاثرہ افراد گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں، پولن کا یہ سلسلہ وسط فروری سے 30 اپریل تک جاری رہے گا، پولن الرجی کا اٹیک ہونے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچانا چاہئے تاکہ اسے ایمرجنسی میں آکسیجن لگا کر اس کی جان بچائی جا سکے۔