- الإعلانات -

فضائی آلودگی سے پھیلنے والی بیماریاں

لندن: یہ تو سب جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی دمہ، برانکائیٹس،الرجی اور نظام تنفس سے متعلقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہے لیکن حال ہی میں ہونیوالی ایک تحقیق میں ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس سے فضائی آلودگی کے شکار بڑے اور گنجان آباد شہروں میں رہنے والے لوگوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑ پڑی ہے۔ تحقیق کے مطابق شہری موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کو دل کی بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ’’ڈیوک یونیورسٹی ‘‘ کے تحقیق کاروں نے اپنی 19روزہ تحقیق میں بیجنگ جیسے فضائی آلودگی سے متاثرہ بڑے شہر اور فلٹرڈ فضا میں رہنے والے افرادپر تحقیق کی ہے جس کے مطابق آلودہ فضائی ماحول میں رہنے والے افراد کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح میں 50فیصد اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں 96فیصدتک اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے،اور یہ اضافہ انسانوں میں موٹاپے، دل کی بیماریوں ،میٹابولزم سے متعلقہ امراض سمیت ذیابیطیس جیسی بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات بڑھا رہا ہے۔تحقیق کے نتائج میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ آلودہ فضا میں رہنے والے مردوں کا وزن آلودگی سے پاک فضا میں رہنے والے مردوں کی نسبت 18فیصد تک اضافے کا باعث بنا جبکہ خواتین میں یہ تناسب 10فیصد تک رہا۔ تحقیق کاروں کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں دنیا میں فضائی آلودگی اور اس تحقیق کا موازنہ کیا جائے تو اس امر کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں وگرنہ دنیا میں رہنے والے افراد میں موٹاپے اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا اور زمین پر رہنے والے افراد اس کے سامنے بالکل بے بس نظر آئیں گے۔