- الإعلانات -

ربرسے بنی ہرشے میں کینسرکا عنصر موجود ہوتا ہے، عالمی ادارہ صحت

لیون: اکثرلوگ بچوں کی چوسنی سے لے کر ہاتھ کے دستانوں تک ربر سے بنی اشیا کا استعمال کرتے ہیں لیکن اب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ربر سے بنی ہوئی ہر چیز میں کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل موجود ہوتا ہے جو خاموشی سے لوگوں کو کینسر میں مبتلا کردیتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ربر میں کیمیکل ’’ایم بی ٹی‘‘ پایا جاتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتا ہے جب کہ ربر سے بنے دستانے، بچوں کی چوسنی، کھیلوں کے میدان پر بنی مصنوی گھاس اور گاڑیوں کے ٹائرز میں یہ کیمیکل موجود ہوتا ہے اور مسلسل انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہے، اس کے علاوہ جوتوں کے سول، ایئربیڈ، الاسٹک بینڈ اور تیراکی کے لیے پہننے والے چشموں اور کیپ میں بھی یہ کیمیکل موجود ہوتا ہے۔

24 عالمی ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر ربر کا گودا ٹائروں کی ری سائیکلنگ سے بنایا جاتا ہے جس میں دیگر خطرناک اجزا لیڈ، آسینک اور دیگر زہریلے کیمیکل بھی پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خطرناک مصنوعی پچز کی وجہ سے کھلاڑی اور بالخصوص گول کیپر جب میدان میں ڈائیو لگانے کے دوران زخمی ہوجاتے ہیں تو یہ خطرناک کیمیکل ان کی جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور کینسر کا باعث بنتا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی تجزیاتی رپورٹس کے بعد اس بات کے ٹھوس ثبوت سامنے آئے ہیں کہ ربر میں کینسر پیداکرنے والا کیمیکل ایم بی ٹی پایا جاتا ہے جو جلد کی الرجی کا بھی باعث بنتا ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے ماہر پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس کیمیکل کا جائزہ لیا گیا تو اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ یہ کیمیکل دستانوں، بچوں کی چوسنیوں اور بوتلوں میں بھی پایا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ ان معلومات کی بنیاد پر تیار کی ہے جو برمنگھم یونیورسٹی کے ماہر پروفیسرکی جانب سے ایم بی ٹی پر تحقیق میں سامنے لائی گئی تھیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایم بی ٹی مثانے کے کینسر کا ذمہ دار ہے۔