- الإعلانات -

علاج کی غرض سے بھارت جانے والے مریضوں کو ترکی بھیجنے کے آپشن پر غور

اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے باعث پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی کشیدگی میں پاکستانی مریضوں پر ویزا پابندیوں کے باعث قابلِ دسترس علاج کے لیے ترکی سے امیدیں باندھ لیں۔

جس کے تحت ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے وزارت برائے صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ان معاہدوں سے ان پاکستانی مریضوں کے لیے راہ ہموار ہوگی جو اس سے قبل علاج کے لیے بھارت جاتے تھے’۔

خیال رہے کہ پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ علاج بالخصوص جگر کی پیوند کاری کے لیے بھارت جاتے تھے لیکن 5 اگست کے بھارت کے متنازع اقدام کے بعد نئی دہلی نے پاکستانیوں کو ویزا دینے سے انکار کردیا تھا جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت روک دی تھی۔

تاہم اب پاکستانی مریضوں کے لیے ترکی کے آپشن کو زیرِ غور لایا جارہا ہے جہاں علاج کی غرض سے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ترکی خود بھی دنیا بھر سے طبی سیاحت کے لیے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

وزارت صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’اگر بھارت پاکستانی مریضوں کو ویزے جاری کرنا شروع بھی کردے تو اس کشیدہ ماحول میں ان کے لیے وہاں جانا ممکن نہیں ہوگا اس لیے ہم ترکی کے آپشن پر غور کررہے ہیں‘۔

ان کے مطابق اس معاہدے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستانی مریض اسی خرچ پر علاج کرواسکیں گے جس پر ترک شہریوں کو علاج میسر ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم علاج کی لاگت میں پاکستانی شہریوں کے لیے مزید رعایت کی بھی بات کریں گے کیوں کہ انہیں سفری اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں گے’۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت صحت اس معاملے پر اپنے ترک ہم منصب سے رابطہ کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم پاکستان عمران خان دورہ ترکی کے لیے گئے تھے تو انہوں نے پاکستانی عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اور وزیراعظم نے بھی اس کا خیر مقدم کیا تھا کیوں کہ صحت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔