- الإعلانات -

موٹاپے اور توند سے نجات میں مدد دینے والی عادت

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بیشتر دبلے پتلے افراد اپنا کھانا مکمل کرنے میں کتنا وقت لیتے ہیں؟

درحقیقت ایسے افراد عام طور پر دسترخوان سے سب سے آخر میں اٹھنے والے ہوتے ہیں اور اس کی وجہ کھانے کو آہستگی سے اور اچھی طرح چبا کر کھانا ہے۔

آج کل بیشتر افراد بہت تیزی سے کھاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ کیلوریز اس بات کا احساس ہونے سے پہلے جزوبدن بنالیتے ہیں کہ انہوں نے زیادہ کھالیا ہے۔

درحقیقت کھانے کے آغاز کے بعد 20 منٹ بعد ماغ کو پیٹ بھرنے کے سگنل ملتے ہیں اور آہستگی سے کھانے کے نتیجے میں دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل ملتا ہے تو کم کیلوریز ہی جسم کا حصہ بنتی ہیں۔

نارتھ امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف اوبیسٹی کے اجلاس میں پیش ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد اگر کھانے کی رفتار سست کرلیں تو کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں۔

اسی طرح جاپان میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آپ کے کھانے کی رفتار جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے یا بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 5 سال تک لیا گیا، جن کو ان کے کھانے کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ان افراد میں کوئی بھی کولیسٹرول، بلڈ پریشر یا بلڈ شوگر سمیت موٹاپے کا شکار نہیں تھا۔

5 سال تک جائزہ لینے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 84 افراد میٹابولک سینڈروم (بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور بلڈ کولیسٹرول وغیرہ کا مجموعہ) کا شکار ہوگئے اور محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ان کا بہت تیزی سے کھانا تھا۔

محققین نے بتایا کہ غذا کو بہت تیزی سے نگلنے والے افراد میں میٹابولک سینڈروم کا امکان نارمل اور سست روی سے کھانے والوں کے مقابلے میں 89 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آہستگی سے کھانے والے محض 2.3 فیصد افراد میں مختلف امراض کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت تیزی سے کھانا نہ صرف میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں توند نکلنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت بہتی تیزی سے غذا نکلنے کے نتیجے میں جسم کو یہ سگنل دینے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ پیٹ پھر چکا ہے اور اب رک جانا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ بہت زیادہ کھالیتے ہیں۔

ایسے افراد میں بلڈ گلوکوز بہت تیزی سے اوپر کی جانب جاتا ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

آہستگی سے کھانا نہ صرف کم کھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ کھانے کا ذائقہ بھی بڑھا دیتا ہے اور بہتر ہے کہ ٹی وی اور دیگر دھیان بٹانے والی چیزوں کو بند کرکے صرف کھانے پر توجہ دیں۔

مگر یہ بھی درست ہے کہ آہستگی سے کھانا اور چھوٹے نوالے چبانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب آپ بہت مصروف ہوں، مگر آپ رفتار کو سست کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں خاص طور پر جب آپ معمول کے وقت کھارہے ہوں۔

مصروفیات کے دوران کھانے کے لیے وقفے کا شیڈول بنائیں، 15 منٹ سکون، ری چارج اور ری فیول کے لیے نکالیں، یہ چھوٹے وقفے تناﺅ سے نجات میں بھی مدد دیں گے۔

اگر پھر بھی کھانے کی رفتار پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے، تو دیگر طریقے آزمائیں، جیسے میز سے کچھ دور بیٹھیں، کھانے کی کچھ مقدار چولپے پر چھوڑ دیں اور پانی کا ایک بڑا گلاس پی لیں۔