- الإعلانات -

نشاستہ دار غذائیں، پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ

نشاستہ دار غذائیں (کاربوہائیڈریٹس) کو طویل عرصے سے موٹاپے کا باعث قرار دیا جاتا تھا مگر ان سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی غذا گلائیسیمک انڈیکس سے بھرپور ہوتی ہے ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 49 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس انڈیکس کو ان غذائوں کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جن کو کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول بڑھتا ہے جبکہ سفید ڈبل روٹی، خمیری روٹی، کارن فلیکس اور چاولوں میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق تحقیق کے دوران ہم نے جی آئی کے زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں 49 فیصد اضافے کو دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جز سے بھرپور غذائیں بلڈ گلوکوز اور انسولین کی سطح بڑھاتی ہیں جس سے مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انسولین میں مسائل پیدا ہونے سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تاہم ابھی اس حوالے سے واضح وجہ بتانا ممکن نہیں۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے ان 2 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا جن میں حال ہی میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد نتائج کا موازنہ 2413 صحت مند افراد کے ساتھ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں بیشتر مریض ایسے تھے جنھوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی اور عندیہ ملتا ہے کہ نشاستہ کا بہت زیادہ استعمال کینسر کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل کینسر ایپیڈیمولوجی، بائیو میکرز اینڈ پریونٹیشن میں شائع ہوئی۔