- الإعلانات -

کیا روز ایک انڈا کھانا بیمار کرسکتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ انڈے میں موجود چکنائی دل کی بیماریوں اور فالج کا باعث بن سکتی ہے مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند غذاﺅں میں غذائی کولیسٹرول کی مقدار قدرتی طور پر کم ہوتی ہے اور وہ جان لیوا امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

درحقیقت روزانہ ایک انڈا کھانے سے دل کی جانب جانے والی شریانوں کے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

خیال رہے کہ خون میں بہت زیادہ کولیسٹرول سے شریانوں میں گاڑھا اور سخت مواد جمع ہونے لگتا ہے جو امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری سائنسی ایڈوائزری کے مطابق سرخ گوشت وغیرہ میں موجود چکنائی کی جگہ غذائی کولیسٹرول کی کم مقدار کو دینا نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

سچورٹیڈ فیٹ گوشت اور دودھ وغیرہ میں موجود ہوتا ہے جس کی جگہ پولی ان سچورٹیڈ فیٹس جیسے کنولا یاسویا بین آئل کا استعمال کرنا چاہیے۔

یو ٹی ساﺅتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی اور نمک سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال محدود کیا جانا چاہیے۔

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ غذائی کولیسٹرول اور خون میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں مقدار اہمیت رکھی ہے یعنی کتنا زیادہ غذائی کولیسٹرول جسم کا حصہ بنتا ہے، وہ اہمیت رکھتا ہے۔

یہ تعلق غذائی چربی کی اقسام کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد بھی برقرار رہا، آسان الفاظ میں انڈے کھانے سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ روزانہ ایک انڈا کھانا دل کی صحت کے لیے فائدہ مند غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ غذائی کولیسٹرول اور امراض قلب کے خطرے کے بارے میں مختلف پہلوﺅں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، ایک چیز تو یہ ہے کہ امریکا میں بیشتر غذائیں حیوانی چربی سے بھرپور ہوتی ہیں جن نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بہت زیادہ بڑھاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند غذائی عادات کے بارے میں شواہد موجود ہیں جن میں قدرتی طور پر غذائی کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غذائیت بخش خوراک جیسے پھل، سبزیاں، اجناس، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، کم چربی والا گوشت، چکن، مچھلی یا نباتاتی پروٹین، گریاں اور بیج وغیرہ ہیں۔