- الإعلانات -

روزانہ ایک نہیں 2 سیب کھانا جان لیوا امراض سے بچائے

کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانا ڈاکٹر کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے، مگر یہ تعداد اگر 2 ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ریڈنگ یونیورسٹی کی تحقیق میں 40 افراد کا جائزہ لیا گیا اور محققین نے دریافت کیا کہ روزانہ 2 سیب کھانا نقصان دہ کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کی سطح میں لگ بھگ 4 فیصد کمی لاسکتا ہے۔

کولیسٹرول کی سطح میں اتنی کمی ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سیب میں فائبر کی زیادہ مقدار ہونا ہے، اس پھل میں حل پذیر فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق میں شامل 40 افراد کے خون میں کولیسٹرول کی سطح تھوڑی زیادہ تھی اور انہیں 8 ہفتے تک روزانہ 2 سیب کھانے کا مشورہ دیا گیا۔

اختتام پر معلوم ہوا کہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں لگ بھگ 4 فیصد کمی آئی ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ سیب کھانے والے افراد زیادہ صحت مند اور ان کی خون کی شریانیں زیادہ ریلیکس ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ روزانہ 2 بڑے سیب کھاتے ہیں ان میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے مگر صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح متاثر نہیں ہوتی۔

ان کے بقول ہمارا ماننا ہے کہ سیب میں موجود فائبر اور پولی فینولز اہم ہیں اور یہ ہر عمر میں پسند کیے جانے والا پھل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیب کے استعمال سے نقصان دہ کولیسٹرول کی کمی بظاہر کم محسوس ہوتی ہے مگر اس سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے اور محققین کے خیال میں مردوں کے مقابلے میں اس پھل کو کھانا خواتین کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل 2016 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک کیلا یا ایک سیب خون کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے لاحق ہونے والے امراض سے موت کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم کردیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پھل تازہ ہونے چاہئے کیونکہ پراسیس شدہ پھل میں سے بیشتر طبی فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران چین کے 5 لاکھ کے لگ بھگ بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ چینی شہریوں میں پھلوں کے استعمال کا رجحان کافی کم ہے۔

محققین کے مطابق پھلوں کے کم استعمال کی وجہ سے پھلوں کے استعمال اور ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ کم ہونے کے حوالے سے جانے میں مدد ملی اور خاص بات یہ ہے کہ وہ لوگ پراسیس کی بجائے تازہ پھلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان پھلوں میں پوٹاشیم، فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ان مہلک امراض کی روک تھام کیسے کرتے ہیں۔

محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اکثر پھلوں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان میں امراض قلب یا فالج کا خطرہ کافی کم ہوتا ہے تو روزانہ کسی ایک پھل کو کھانا عادت بنالینی چاہئے۔