- الإعلانات -

غذا میں اس چیز کا اضافہ ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچائے

ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا بیماری کو ہمیشہ خود سے رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی غذا میں ہر ہفتے 4 مرچیں کھانا عادت بنالیں۔

یہ دعویٰ اٹلی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا

Instituto Neurologico Mediterraneo Neuromed کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں 4 بار مرچیں (ہری مرچ) کھانا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے 2005 سے 2010 کے دوران اکٹھا کیا گیا 22 ہزار سے زائد مردوں اور خواتین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جو جنوبی اٹلی کے رہائشی تھے۔

بحیرہ روم کے ارگرد کے علاقوں کی مخصوص غذا میں مرچوں کا استعمال عام ہوتا ہے اور ان کو کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع تحقیق کے مطابق اس خطے میں پھلوں، سبزیوں، اجناس، بیجوں، گریوں اور بیجوں پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، جن کو زیتون کے تیل پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ مچھلی، انڈے اور چکن وغیرہ کو اعتدال میں رہ کر کھایا جاتا ہے۔

ان افراد سے تحقیق کے آغاز پر سوالنامے بھروائے گئے اور پوچھا گیا کہ وہ مرچوں کا استعمال ہفتے میں کتنی بار کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔

تحقیق کے اختتام تک 12 سو سے زائد افراد کا انتقال ہوگیا اور محققین نے دریافت کیا کہ ہفتے میں کم از کم 4 بار مرچوں کا استعمال کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 23 فیصد تک کرتا ہے اور جو لوگ اکثر مرچ مصالحے والی غذائیں کھاتے ہیں، ان میں خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ 34 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مرچوں میں موجود ایک جز کیپسیئن صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اور اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس جز کے ممکنہ کردار کا تعین کیا جاسکے۔

محققین نے بتایا کہ مرچوں اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض سے موت کا خطرہ کم کرنے کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے اور اس کی شرح نے ہمیں حیران کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اعدادوشمار پر مشتمل تجزیے نتائج کو مصدقہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ غذاﺅں کو دوا کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا اور ہمارا مقصد دنیا میں صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا ہے جس کا آغاز غذا سے ہوتا ہے۔

ان کے بقول جو لوگ غذا میں مرچوں کا اضافہ کرتے ہیں، ہم ان میں اس عمل کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اب ہمارے پاس اس کے لیے سائنسی شواہد منوجود ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے اور فالج کے حوالے سے یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔