- الإعلانات -

دن کا آغاز ناشتے سے کرنا کیوں ضروری ہے؟

برسوں سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ صحت بخش ناشتا دن کے بہترین آغاز کی کنجی ہے، جو نہ صرف روزمرہ کے کام بہتر انداز سے کرنے اور سوچنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مختلف طریقوں سے ہماری معاونت کرتا ہے۔

اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیکٹس کا کہنا ہے کہ آپ کو سائنس اور تحقیق کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جان سکیں کہ ہمارے جسم کو حقیقت میں کس طرح کی غذا کی ضرورت ہے۔

اور اگر آپ ناشتا نہیں کرتے تو سائنسی ریسرچ اس عادت کو ترک کرنے کے بہترین وجوہات بیان کرتی ہے۔

ایندھن اور غذائیت

ناشتے کا سادہ اصول یہ ہے کہ کاربوہائیڈریٹس کو پروٹین سے ملایا جائے، کاربوہائیڈریٹس جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور دماغ کے لیے ایندھن ثابت ہوتے ہیں، پروٹین سے لوگ دوپہر کے کھانے تک پیٹ کو بھرا محسوس کرتے ہیں، اس مقصد کے لیے بغیر چکنائی والا دودھ، دہی اور پنیر پروٹین فراہم کرسکتے ہیں، جو کا دلیہ کاربوہائیڈریٹس کا ذریعہ ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں سے بھی اسے حاصل کیا جاسکتا ہے اور انڈے ان دونوں کا ہی بہترین امتزاج ہیں۔

ہاں ناشتے کے بعد ورزش سے گریز کریں کیونکہ ورزش کے دوران جسم کھانا ہضم نہیں کرتا اور وہ معدے کے ارگرد مووجد رہتی ہے جس سے پیٹ پھولنے یا گیس کی شکایت ہوسکتی ہے۔

صحت مند وزن

40 سال سے زائد عمر کے افراد اکثر حیران ہوتے ہیں کہ ان کے مسلز کا حجم کم جبکہ پیٹ اور کمر کا گھیرا بڑھ رہا ہے۔ جب لوگ ناشتا نہیں کرتے تو بعد میں زیادہ بھوک محسوس ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں وہ زیادہ کھاسکتے ہیں یا ایسی غذا کا انتخاب کرسکتے ہیں جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع 2017 کی ایک تحقیق میں ناشتا نہ کرنے اور جسمانی وزن میں اضافے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا تھا۔

بلڈ شوگر کنٹرول کرنا

ناشتے کرنے کی عادت بلڈ شوگر کو دن بھر مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے، چاہے آپ ذیابیطس کے مریض ہوں یا نہیں۔ صحت مند افراد پر اس حوالے سے دریافت کیا گیا کہ وہ انسولین کی مزاحمت سے بچ سکتے ہیں جو ذیابیطس کی جانب لے جاسکتا ہے۔ بلڈ شوگر لیول میں اتار چڑھاﺅ مزاج پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے اور نروس یا غصے کا شکار بناسکتا ہے۔

اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو ناشتا نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبح کی اس غذا کو نظرانداز کرنے سے بلڈ شوگر لیول بہت تیزی سے کم بھی ہوسکتا ہے، جس سے تھکاوٹ، ذہنی بے چینی، چڑچڑے پن یا کپکپاہٹ جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں، جبکہ اس کی سنگین علامت دل کی دھڑکن کی رفتار بہت تیز ہونا ہوسکتی ہے۔

دل کی صحت میں بہتری

حالیہ تحقیقی رپورٹس میں دل کی صحت اور ناشتے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا ہے۔ 2017 میں جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتا نہ کرنے سے دل کی جانب جانے والی شریانیں تنگ اور اکڑ سکتی ہیں کیونکہ ان میں مواد جمع ہونے لگتا ہے، جو ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے، ایسے افراد کی توند نکل سکتی ہے، وزن بڑھ سکتا ہے اور بلڈ پریشر و کولیسٹرول لیول اوپر جاسکتا ہے۔

اس کی ممکنہ وجہ ہائی بلڈ شوگر ہوسکتی ہے جو وقت کے ساتھ امراض قلب کا باعث بن جاتا ہے یا ناشتا نہ کرنے سے دن بھر میں روزانہ درکار غذائی فائبر کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناشتا نہ کرنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور ان میں تمباکو نوشی کی عادت ہوسکتی ہے جبکہ ورزش سے بھی دور ہوتے ہیں، یہ نقصان دہ عادات بھی امراض قلب کا باعث بن جاتی ہیں۔

دماغی کارکردگی میں بہتری

ایک اور وجہ جو ناشتے کو ضروری بناتی ہے وہ یہ ہے کہ جب دن کا آغاز ہوتا ہے تو آپ کو اپنے میٹابولزم کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے، صحت بخش ناشتا توجہ مرکوز کرنے، یاد رکھنے اور بہتر کارکردگی میں مدد دیتا ہے، بچوں اور نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں اس سے توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ امتحانات میں زیادہ نمبر لے سکتے ہیں۔

ناشتے کے بغیر دماغ ہر جسمانی سرگرمی کو سست کردیتا ہے تاکہ زیادہ جسمانی توانائی خرچ نہ ہو، اس حوالے سے طبی سائنس میں مسلسل کام ہورہا ہے کہ ناشتے کے دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔