- الإعلانات -

کیا کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا شکر سے تعلق ہے؟

ہمارے جسم میں موجود خلیے توانائی حاصل کرنے کے لیے خون میں موجود شکر (گلوکوز) کا استعمال کرتے ہیں جب کہ جسم میں کینسر کے خلیے بھی شکر استعمال کرتے ہیں۔

لیکن کیا شکر کا کینسر جیسی بیماری سے کوئی تعلق ہے؟ چلیں آج دماغ میں اٹھنے والے انہی سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔

کینسر کے خلیے عام خلیوں کے مقابلے میں 200 گنا زیادہ شکر استعمال کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کینسر کے خلیوں کو پروان چڑھنے کے لیے زیادہ مقدار میں شکر کی ضرورت ہے اور زائد شکر کا استعمال کرتے ہوئے یہ خلیے جسم میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔

لیکن بھارت کے شہر گروگرام کے فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سرجیکل آنکولوجی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نرنجان نائک کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اب تک کوئی مضبوط شواہد سامنے نہیں آئے ہیں کہ آیا شکر کینسر کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے یا نہیں لیکن شکر اور کینسر کا آپس میں بالواسطہ تعلق ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ مقدار میں کیلوریز لینے سے انسان کا وزن بھی تیزی سے بڑھتا ہے اور موٹاپے کی وجہ سے انسان میں کینسر اور دیگر بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

فوٹو: بشکریہ گلف نیوز

امریکن کینسر سوسائٹی اور نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ کبھی بھی نا سوچیں کہ شکر کا استعمال کرنا کینسر کا باعث بنتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اصل مجرم تو موٹاپا ہے کیونکہ چربی کے خلیے ایک ایسا پروٹین پیدا کرتے ہیں جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے جو آگے جا کر ٹیومر میں تبدیل ہوجاتا ہے، موٹاپا انسان میں 13 طرح کے کینسر کے خطرات کو بڑھاتا ہے جن میں چھاتی، جگر، اور آنتون کا کینسر بھی شامل ہے۔

تمباکو نوشی کے بعد کینسر کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا ہے جس پر ہر کوئی باآسانی قابو پا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں ماہرین کا یہی ماننا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ شکر کا استعمال نا کرکے کینسر سے بچا جا سکتا ہے، کینسر سے انسان کو صرف ایک ہی چیز بچا سکتی ہے اور وہ ہے انسان کا ’طرزِ زندگی‘ اور روزانہ ورزش کیونکہ کم کیلوریز لے کر صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

نوٹ: یہ معلومات مختلف عالمی ریسرچ جرنلز میں شائع شدہ مضامین سے حاصل کی گئی ہیں۔ اگر آپ اس سے متعلقہ یا غیرمتعلقہ کسی بھی طبی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔