- الإعلانات -

چین: کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 259 ہوگئی

چین میں پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور چین کے صحت حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے ہلاکتوں کی تعداد 259 ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وبا کے پھیلنے کے مقام چین کے صوبہ ہوبے جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی ہے تاہم چند افراد کی جانب سے اس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی جاری ہے۔

وائرس کے بیرون ممالک میں پھیلنے کے خدشے کے سبب امریکا نے چین کا حال ہی میں دورہ کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

ساتھ ہی امریکا کی 3 بڑی ایئرلائنز نے کہا ہے کہ وہ چین جانے والی اپنی پروازیں منسوخ کریں گی۔

ادھر عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ برائے چین گوڈن گےلیا کا کہنا تھا کہ چین کے لیے تجارتی و سفری پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ ممالک کیسز کی درآمد کی نشاندہی اور مقامی سطح پر مرض پھیلنے کی نشاندہی کریں’۔

واضح رہے کہ اب تک 2 درجن ممالک نے وائرس کے کیسز کی تصدیق کی ہے تاہم متاثرہ افراد کی بڑی تعداد اب بھی چین میں ہی ہے۔

تمام صورتحال پر قطر ایئرویز لمیٹڈ اور ایئر نیوزی لینڈ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سفری پابنیدوں کی وجہ سے وہ 9 فروری سے چین سے براہ راست پرواز روک رہے ہیں۔

ٹرویل اینڈ ڈیٹا اینالیٹکس کے مطابق چین میں وبا کے پھیلنے کے بعد سے اب تک 10 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں جبکہ کئی ممالک چین سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے خصوصی چارٹر طیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

چین سے دوسرے چارٹر طیارے میں 300 سے زائد جنوبی کوریا کے باشندوں کو نکال لیا گیا ہے اور انہیں 2 ہفتوں کے لیے تنہائی (آئی سولیشن) میں رکھا گیا ہے۔

وزارت صحت کا کہنا تھا کہ فلائیٹ میں موجود 7 افراد میں وائرس کے اثرات نمودار ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ چین بھر میں شہروں میں وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ڈیڑھ کروڑ آبادی والے چین کے شمال میں واقع شہر تیانجن میں حکام کا کہنا ہے کہ اگلے نوٹس تک تمام اسکول اور کاروبار معطل رہیں گے۔

واضح رہے کہ سینئر رہنماؤں کو نئے چینی سال کی چھٹیوں کے گزرنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کے سفر کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا کام سونپ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز 2 ہزار 102 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی جس کے بعد اب تک سامنے آنے والے کُل کیسز کی تعداد 11 ہزار 791 ہوگئی ہے۔

ہوبے صوبے کے مقامی ہیلتھ کمیشن کا کہنا تھا کہ وبا سے گزشتہ روز 45 نئی ہلاکتیں ہوئیں جس کی وجہ سے کُل ہلاکتوں کی تعداد 249 ہوگئی جبکہ دیگر ہلاکتیں جنوب مغربی شہر چونگ کنگ میں پیش آئی۔

وائرس کے پھیلنے کا مرکز بتائے جانے والے شہر ووہان میں گزشتہ روز 33 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد وہاں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 192 ہوگئی۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔

ووہان کورونا وائرس کی ایک قسم ہے اور ابھی ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں جو اس کی جسم میں موجودگی کی تصدیق کرسکے اور کورونا وائرسز کے موجودہ ٹیسٹ سے اسے پکڑا نہیں جاسکتا۔

اس وائرس سے اب تک 56افراد ہلاک اور 2ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ یہ وائرس کم از کم 12 دیگر ممالک تھائی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ویت نام، سنگاپور، نیپال، فرانس، آسٹریلیا، ملائیشیا، کینیڈا اور امریکا تک پھیل چکا ہے۔

’کورونا‘ وائرس کے حوالے سے چینی حکام نے گزشتہ ہفتے ہی تصدیق کی تھی کہ مذکورہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے اور یہ وائرس ہاتھ ملانے سمیت سانس کے ذریعے بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق ‘اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے’۔

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی بھی علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔