- الإعلانات -

کیا چین سے آنے والا سامان آپ کو کورونا وائرس کا شکار بناسکتا ہے؟

چین میں 2019 ناول کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 360 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار 205 تک پہنچ چکی ہے۔

چین کے بعد متعدد ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کے دلوں میں یہ خوف پھیل چکا ہے کہ چین سے آن لائن شاپنگ کے ذریعے خریدے جانے والے سامان سے یہ کورونا وائرس ان کو شکار نہ کرلے۔

کیا آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال یا خوف موجود ہے؟

اگر ہاں تو اس کا جواب اب امریکا کے سرکاری ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے دیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے پارسل اور خطوط وغیرہ سے آپ کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوسکتے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے سوالات، جوابات میں سی ڈی سی نے لکھا ‘سطح پر کورونا وائرسز کی بقا بہت مشکل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین سے مطلوبہ مقام تک پہنچنے کے دوران ارگرد کے درجہ حرارت میں کئی دن یا ہفتوں تک رہنے سے مصنوعات یا پیکجنگ کے ذریعے وائرس پھیلنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے’۔

وبائی امراض کے ماہرین نے بھی اس حوالے سے رائے دی ہے اور امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) سے بات کرتے ہوئے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ڈاکٹر مائیکل آئیسون نے کہا ‘یہ وائرس کسی ڈبے میں ٹرانسپورٹ نہیں ہوسکتا’۔

محققین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرسز کے بارے میں عام خیال ہے کہ بنیادی طور پر یہ ایک سے دوسرے انسان میں سانس سے خارج ہونے والے ذرات کے نتیجے میں منتقل ہوتا ہے اور اب تک ناول کورونا وائرس بھی لوگوں کے ذریعے ہی پھیل رہا ہے جو بہت قریب رہے ہوں۔

اگرچہ اس نئے کورونا وائرس کے بارے میں ابھی بہت کچھ معلوم نہیں ، مگر ماہرین کورونا وائرسز کی پرانی اقسام جیسے سارس اور مرس وغیرہ کے ذریعے کافی حد تک اس کے بارے میں درست اندازے لگاسکتے ہیں۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے انفیکشز ڈیزیز سینٹر کی ڈائریکٹر ایلزبتھ میکگا کے مطابق پہلے دنیا میں پھیلنے والے کورونا وائرسز کی کسی وبا میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ یہ وائرس کسی پیکج کے ذریعے کسی کو بیمار کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وائرس کسی ڈبے کے باہر یا اندر کئی دن تک زندہ رہ سکتا ہے ‘ہم جانتے ہیں کہ یہ وائرسز سطح پر بہت زیادہ بچ نہیں سکتے، خاص طور پر مساموں والی سطح جیسے کارڈ بورڈ کے ڈبے وغیرہ’۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے سنیئر اسکالر ڈاکٹر امیش ادلجا کا کہنا تھا کہ بیشتر مصنوعات کو جس طرح صارفین تک بھیجا جاتا ہے، وہاں کی صورتحال ان وائرسز کی بقا کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا ‘میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی حقیقی خطرہ ہے’۔

واضح رہے کہ دسمبر کے آخر میں سامنے آنے والے وائرس کے نتیجے میں اب تک چین میں 361 اموات ہوچکی ہیں جبکہ ووہان سمیت متعدد شہروں کو بند کرکے قرنطینہ میں ڈال دیا گیا ہے۔

چین سمیت 25ممالک میں 17 ہزار سے زائد افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تاہم چین سے باہر صرف فلپائن میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔