- الإعلانات -

کورونا مریضوں پر بہتر نتائج دینے والی دوا کی پاکستان و بھارت میں تیاری کیلئے بات چیت کا آغاز

امریکی دوا ساز کمپنی گیلیڈ سائنسز نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں پر بہتر نتائج فراہم کرنے والی دوا ‘ریمڈیسیور’ کی پیداوار شروع کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں ادویات کی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ریمڈیسیور ایک تجرباتی اینٹی وائرل دوا ہے جسے کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کیا جارہا جبکہ حال ہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اس کی منظوری دی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ گیلیڈ نے کہا تھا کہ اس دوا کے کووڈ 19 کے مریضوں پر بہتر نتائج ملے تھے اور فراہم کیے گئے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوا کہ انفیکشن کے دوران جلد اس کو دینے سے مزید بہتر نتائج آسکتے ہیں۔

گیلیڈ کی ویب سائٹ پر موجود ایک بیان کے مطابق کمپنی ترقی پذیر ممالک کے لیے ریمڈیسیور تیار کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان میں متعدد عمومی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی رضاکارنہ لائسنسز پر بات چیت کر رہی ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ گیلیڈ سائنسز اس پیدوار میں سہولت کے لیے مناسب ٹیکنالوجی بھی فراہم کرے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ کمپنی کا مقصد ریمیڈیسور کو پوری دنیا کی حکومتوں اور مریضوں کے لیے قابل رسائی اور قابل خرید بنانا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ یورپ، ایشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے کم از کم 2022 تک پیداوار جاری رکھے۔

واضح رہے کہ امریکا میں ریمیڈیسور دوا کے کلینکل ٹرائل میں یہ سامنے آئی تھی کہ اس دوا سے مریض پلیس بو کے مقابلے میں 30 فیصد جلدی صحتیاب ہوئے جو اس نئی بیماری کے خلاف کامیاب علاج کے ثبوت ہیں۔

ادھر ایک امریکی اپیڈیمیولوجسٹ انتھنی فوسی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صحتیابی کے وقت کو کم کرنے میں ریمیڈیسور کے واضح، نمایاں اور مثبت اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔

تاہم یہاں یہ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ریمیڈیسور ایبولا وائرس کے خلاف ٹرائلز میں کامیاب نہیں رہی تاہم چین کے شہر ووہان میں مریضوں میں اس کے محدود اثرات پائے گئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس عالمی وبا کا پہلا مرکز چین تھا، جس کے بعد یورپ کا شہر اٹلی اس کا مرکز بنا اور اب امریکا اس کا مرکز ہے۔

تاہم چین کے مقابلے میں اٹلی اور امریکا اس وائرس سے بہت بری طرح متاثر ہوئے اور اس وقت امریکا میں 72ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

اس عالمی وبا کو روکنے پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک الگ الگ اقدامات کر رہے ہیں تو وہیں کئی کمپنیاں اور ممالک اس کی ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔