- الإعلانات -

کورونا وائرس کا اثر متعدد افراد پر مختلف کیوں ہوتا ہے؟

نئے نوول کورونا وائرس کی وبا ایسی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ طبی ماہرین کے ذہنوں کو چکرا رہی ہے کیونکہ مسلسل ایسی تفصیلات سامنے آرہی ہیں جو اس بیماری کے ایسے پہلوؤں کو سامنے لارہی ہیں، جن کا پہلے کبھی تصور نہیں کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کے لیے یہ سوال بھی بہت بڑی الجھن کا باعث بنا ہوا ہے کہ آخر کچھ لوگ اس وائرس سے بیمار نہیں ہوتے یا یوں کہہ لیں کہ اثر بہت معمولی ہوتا ہے مگر دیگر ایسے ہوتے ہیں بہت زیادہ بیمار ہوجاتے ہیں حالانکہ وہ جوان اور صحت مند ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب کے لیے سائنسدانوں نے اب مریضوں کے جینز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسی کونسی جینیاتی تبدیلیاں ہیں جو مریضوں کے مدافعتی ردعمل پر اثرانداز ہوتی ہیں اور اس جواب سے توقع ہے کہ نئے علاج کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی۔اس وائرس سے دنیا بھر میں روزانہ ہی ہزاروں افراد متاثر ہورہے ہیں اور پہلے مانا جاتا تھا کہ اس سے معمر افراد، کسی بیماری کے شکار لوگ اور مرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

مگر یہ مکمل تصویر نہیں کیونکہ دنیا بھر میں آئی سی یو یونٹس میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جن کی عمر 50 سال سے کم ہیں اور وہ کسی اور بیماری کا شکار بھی نہیں۔اور ایسے مریض جینیاتی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔انہوں نے اے ایف پی کو بتایا ‘ایسا فرد جو اکتوبر 2019 میں میراتھن دوڑ سکتا تھا وہ اپریل 2020 میں آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر ہوسکتا ہے’۔

جین لورنٹ پیرس کے امیجن انسٹیٹوٹ اور نیویارک کے راک فیلر یونیورسٹی کی وبائی امراض کی لیبارٹری میں انسانی جینیات کے ڈائریکٹر ہیں اور وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ایسے سنگین حد تک بیمار افراد میں کسی قسم کی جینیاتی تبدیلیاں تو موجود نہیں۔انہوں نے کہا ‘یہ تصور ہے کہ ایسے نوجوان مریضوں میں ایسے جینیاتی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں جو وائرس کا سامنا ہونے تک خاموش رہتی ہیں’۔

ان کی زیر نگرانی اب مختلف ممالک جیسے چین، ایران، یورپ، شمالی امریکا اور جاپان میں بہت زیادہ بیمار نوجوان مریضوں کے جینوم پر تحقیق کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ تحقیقی ٹیم ایسے افراد کا بھی معائنہ کرے گی جو کئی بار وائرس کا سامنا ہونے کے باوجود اس سے متاثر نہیں ہوتے۔

یہ صرف بدقسمتی نہیں
جینیاتی تبدیلیاں لوگوں کو مختلف وبائی امراض کے مقابلے میں کمزور بنادیتی ہیں مگر کئی بار یہ تحفظ بھی فراہم کرتی ہیں۔
1990 کی دہائی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ ایک جین سی سی آر 5 میں مخصوص تبدیلیاں لوگوں کو ایچ آئی وی کا شکار ہونے سے بچاتی ہیں۔
اس دریافت نے سائنسدانوں کو وائرس کے کام کرنے کے بارے میں زیادہ فہم فراہم کیا اور نئے طریقہ علاج کی تشکیل کا راستہ کھل گیا۔

لوزان کے فیڈرل پولی ٹیکنیک کے وبائی امراض اور انسانی جینوم کے پروفیسر جیکوئس فیلے کا کہنا تھا کہ ماضی میں اگر کوئی فرد کسی مخصوص مرض کے نتیجے میں بہت زیادہ بیمار ہوتا تھا تو اسے ‘بدقسمتی’ سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا ‘ آج ہم ایسے افراد کے جینوم کی گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی نایاب تبدیلی تو انہیں زیادہ کمزور تو نہیں کررہی’۔
مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مختلف مدافعتی ردعمل متعدد جینیاتی عناصر کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے’

علاج کی توقع
فن لینڈ کے مالیکیولر میدڈیسین کے ڈائریکٹر مارک ڈیلے کا کہنا تھا ‘اس پیچیدہ کام کے لیے ہمیں بڑی تعداد میں نمونے اور شراکت داری کی ضرورت ہوگی اور اس مشاہدے کو دوبارہ دہرانے کی صلاحیت حاصل کرنی ہوگی تاکہ نتائج پر اعتبار کیا جاسکے’۔
مارک ڈیلے ان سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جو جین لورنٹ کے کووڈ 19 ہوسٹ جینیٹکس انیشیٹیو کا حصہ ہیں جس کے لیے 150 کے قریب تحقیقی مراکز سے اشتراک کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے لیے کم از کم 10 ہزار مریضوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور نتائج کو شیئر کیا جائے گا۔محققین کو توقع ہے کہ موسم گرما تک بہت مفید معلومات حاصل ہوسکے گی مگر اس کی فی الحال ضمانت نہیں دی جاسکتی، مگر اس میں کامیابی علاج کو تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔

مارک ڈیلے کا کہنا تھا ‘مخصوص جینز کو ہدف بنانے والی متعدد ادویات اس وقت دریافت ہیں، اگر ہم کسی مخصوص جین کی جانب اشارہ کرسکے، جس کے لیے کوئی دوا تیار ہوچکی ہو، تو ایسے مریضوں کو بس یہ دوا تجویز کی جاسکے گی’۔
مگر یہ عمل اتنا بھی آسان نہیں بلکہ کافی پیچیدہ ہے کیونکہ سائنسدان جینز میں ایسی تبدیلیوں کو بھی دریافت کرسکتے ہیں، جن کے لیے ادویات اس وقت تیار نہ ہوئی ہوں اور اس کے نتیجے میں علاج کی تیاری میں وقت لگ سکتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ بدتر منظرنامہ یہ ہوگا کہ وہ ایسی تبدیلیوں کو دریافت کریں جس پر کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا یا کسی قسم کی مداخلت متعدد مضر اثرات کا باعث بن جائے۔
کووڈ 19 کے خلاف مدافعتی ردعمل میں جینیاتی تبدیلیوں کی دریافت تو ابھی صرف آغاز ہے اور ابھی کچھ جاننا باقی ہے۔