- الإعلانات -

کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز، 822 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 38 ہزار 440 ہوگئی ہے جب کہ 822 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 13 ہزار 700 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد کورونا کے مجموعی طور پر 3 لاکھ 44 ہزار 450 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1430 نئے کیس سامنے آئے جس کے بعد مصدقہ کیسزکی تعداد 38 ہزار 440 ہوگئی۔ ان میں سے 10 ہزار 155 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 26 ہزار 260 ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 13 ہزار 914، سندھ میں 14 ہزار 916، خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 678، بلوچستان میں 2 ہزار 457، اسلام آباد میں 866، گلگت بلتستان میں 501 جب کہ آزاد جموں کشمیر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 108 ہوگئی ہے۔

پاکستان میں 24 گھنٹے کے دوران کورونا سے 33 اموات ہوئیں، جس کے بعد ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد 822 ہوگئی ہے جب کہ 300 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

اب اس وبا کےساتھ ایک سال گزارہ کرنا ہوگا، وزیر اعظم

ملک میں کورونا وائرس سے متعلق صورت حال اور اقدمات کے بارے میں وزرا اور معاونین خصوصی کے ہمراہ سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی یقین دلاتا ہے کہ 2 یا 3 ماہ کے لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس ختم ہوجائے گا تو ہم ایسے کرلیتے، لیکن لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا اور ایک سال تک بھی کوئی ویکسین آنے کا امکان نہیں، لاک ڈاؤن جب بھی کھولیں گے کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوگا، اب اس وائرس کے ساتھ رہنا اور ایک سال گزارہ کرنا ہوگا، مسلسل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

کورونا وبا کے باعث بچوں کے حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح 55 فی صد کم ہوگئی

وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ وبا کے ساتھ دیگربیماریاں بھی ہیں جواپنااثردکھارہی ہیں۔ پاکستان ٹی بی مریضوں کے اعتبار سے دنیاکے5 بڑے ممالک میں شامل ہے۔ مستقبل میں ٹی بی کےمریضوں کی تعدادبڑھ سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سےحفاظتی ٹیکوں کانظام متاثرہورہاہے۔ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح 55 فی صدکم ہوئی۔ کوروناکےساتھ ساتھ دوسرے معاملات پربھی نظررکھنی ہے۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔