- الإعلانات -

جرمن کمپنی کی کورونا ویکسین اکتوبر میں متعارف کرائے جانے کا امکان

ادویات بنانے والی کمپنی فائزر نے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی انسانی آزمائش کو توسیع دینے اور ستمبر تک ہزاروں افراد کو اس کا حصہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

جرمن کمپنی کے سی ای او اور چیئرمین البرٹ بورلا نے ایک بیان میں کہا ‘اگر ٹرائل ٹھیک رہا اور ویکسین محفوظ ثابت ہوئی تو کمپنی اکتوبر تک اس کے لاکھوں ڈوز فراہم کرنے کے قابل ہوگی’۔

اس ویکسین جسے بی این ٹی 162 کا نام دیا گیا ہے، کی انسانی آزمائش مارچ میں جرمنی میں شروع ہوئی تھی اور پہلے مرحلے میں 360 افراد کو ٹرائل کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

یہ کمپنی ویکسین کے 4 مختلف ورژنز کی آزمائش کررہی ہے اور البرٹ بورلا کا کہنا تھا کہ جون یا جولائی تک معلوم ہوجائے گا کہ کونسی قسم زیادہ محفوظ اور موثر ہے۔

انہوں نے کہا ‘ہم رئیل ٹائم میں ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں’۔

زیادہ کامیاب قسم کو کلینیکل ٹرائلز کے اگلے مراحل کا حصہ بنایا جائے گا جس میں ستمبر تک ہزاروں افراد کو شامل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو اکتوبر تک لاکھوں جبکہ 2021 میں کروڑوں ڈوز فراہم کیے جاسکیں گے۔

دنیا بھر میں متعدد کمپنیاں کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنانے پر کام کررہی ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 120 سے زائد ویکسینزز پر کام ہورہا ہے۔

جرمنی کی مذکورہ ویکسین سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی ویکسین کی بھی 23 اپریل سے انسانوں پر آزمائش شروع کی گئی تھی۔

اس تجرباتی ویکسین کو چاڈ آکس 1 این کووڈ 19 کا نام دیا گیا ہے اور دنیا بھر میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تیار ہونے والی نمایاں ترین ویکسینز میں سے ایک ہے۔

اس تجرباتی ویکسین کی 6 بندروں پر ہونے والی ایک چھوٹی تحقیق میں ان جانوروں کو سنگل ڈوز دیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ ان میں 14 دن کے اندر وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بن گئیں اور ان سب میں 28 دن کے اندر حفاظتی اینٹی باڈیز بھی بن گئیں۔

جب ان بندروں کو کورونا وائرس سے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو ویکسین نے پھیپھڑوں میں نقصان کی روک تھام کی اور وائرس کو اپنی نقول بنانے سے روک دیا، مگر ناک میں وہ اپنی نقول بناتا رہا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کی ویکسین ستمبر تک تیار ہوجائے گی اور اس مہینے میں 10 لاکھ ڈوز استعمال کے لیے دستیاب ہوں گے۔

محقق پروفیسر سارہ گلبرٹ نے بتایا کہ اس ویکسین کی تیاری کے لیے جس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جارہا ہے، وہ پہلے ہی 10 مختلف اقسام کے طریقہ علاج کے لیے استعمال ہورہی ہے، مگر کورونا وائرس کے حوالے سے مختلف ممالک کے مختلف ٹیسٹ گروپس کی ضرورت ہے تاکہ درست نتائج کو یقنی بنایا جاسکے، کیونکہ یہ انفیکشن بہت تیزی سے دنیا کے ہر کونے میں پھیل رہا ہے۔

تحقیقی ٹیم بڑے پیمانے پر ویکسین کی تیاری کے لیے اضافی فنڈنگ کی کوشش بھی کررہی ہے کیونکہ وہ 6 ماہ کے انسانی ٹرائل کے بعد وہ اس کی بڑے پیمانے پر پروڈکشن چاہتی ہے۔

اس کے پیچھے یہ خیال موجود ہے کہ یہ ویکسین انسانوں کے لیے موثر ثابت ہوگئی ہے اور خزاں میں اس کی پروڈکشن شروع ہوجائے گی، جس دوران 5 ہزار افراد پر آخری ٹرائل بھی مکمل کیا جائے گا اور طبی ورکرز ستمبر تک اس کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم درحقیقت کورونا وائرس جیسی وبا کے لیے پہلے سے تیاری کررہی تھی۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے پہلے سے جینیاتی تدوین شدہ چیمپئنزی وائرس کو تیار کیا ہوا تھا جو اس نئے وائرس کی بنیاد ہے۔

انہیں توقع ہے کہ وہ ایسا محفوظ وائرس اس ویکسین کا حصہ بناسکیں گے جو کووڈ 19 کے خلاف مدافعتی نظام کو لڑنے کی تربیت دے سکے گا۔

چین میں 3 مختلف ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش ہورہی ہے جن میں سے ایک ویکسین تو دوسرے مرحلے میں بھی داخل ہوچکی ہے۔

اسی طرح امریکا میں مارچ میں موڈرینا کمپنی نے اور اپریل میں ایک اور کمپنی انوویو کی ویکسین کا ٹرائل شروع ہوا۔