- الإعلانات -

بیرون ممالک سے 400 خواتین ڈاکٹر سندھ میں کورونا مریضوں کی نگرانی میں مصروف

سندھ میں اپنے گھروں میں موجود کورونا وائرس کے 8 ہزار سے زائد مریضوں کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کے لیے دنیا کے 15 ممالک اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم 400 سے زائد خواتین ڈاکٹرز صوبائی حکومت سے تعاون میں مصروف ہیں۔

حکومتی عہدیداروں اور ماہرین کا کہنا تھا کہ ملک کی اولین میڈیکل یونیورسٹیوں میں سے ایک سرکاری یونیورسٹی نے ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین ڈاکٹروں کو صوبائی صحت کے نظام میں یکجا کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ یونیورسٹی اب تک مختلف ممالک میں موجود 800 سے زائد پاکستانی خواتین ڈاکٹروں کو طب کے پیشے میں واپس لانے میں کامیاب ہوئی ہے، جو خاندانی یا سماجی مسائل کے باعث پیشے کو چھوڑ گئی تھیں تاہم گزشتہ دو برس کے دوران انہوں نے پریکٹس دوبارہ شروع کردی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) نے 35 ہزار غیر فعال ڈاکٹروں کے لیے یہ منصوبہ بنایا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے 2 برس قبل تقریباً سرکاری یا ذاتی اخراجات پر اپنی طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس پیشے سے منسلک نہ رہنے والی 35 ہزار ڈاکٹروں کے لیے ای ڈاکٹر منصوبے کا آغاز کیا تھا تاکہ وہ دوبارہ میڈیکل ورک فورس کا حصہ بن سکیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس منصوبے کے تحت سیکڑوں ڈاکٹروں کو واپس لانے میں کامیابی ملی ہے اور منصوبے کی تیاری میں ٹیکنالوجی کے جدید تصورات کو استعمال کیا گیا تھا تاکہ انہیں میڈیکل کی تازہ معلومات سے آگاہ کیا جائے’۔

منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ای ڈاکٹر منصوبے کے تحت اس وقت پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں سے سیکڑوں ڈاکٹر صحت کے نظام کو اپنی خدمات پیش کررہی ہیں’۔

سندھ حکومت نے اس منصوبے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ان ڈاکٹروں کی خدمات کووڈ-19 کے مریضوں کی نگرانی کے لیے حاصل کرلیں، ڈاکٹروں اور مستقل دیکھ بھال سے محروم معمولی علامات یا بغیر علامات کے باعث آئسولیشن میں موجود مریضوں کی صحت یابی، احتیاط اور کھانے پینے کے بہتر معمولات کے لیے ان ڈاکٹروں کی مدد حاصل کی گئی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کی سربراہی کی اور صوبے بھر میں گھروں میں خود کو آئسولیشن میں رکھے ہوئے تقریباً 8 ہزار مریضوں کو آئی ٹی، ٹیلی فون اور ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے منسلک کرنے کا منصوبہ فوری طور پر تیار کرلیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حال ہی میں شروع کیا گیا منصوبہ کامیاب ثابت ہورہا ہے، اس کو وقت کے مطاق مزید بہتر کیا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے یہ منصوبہ شروع کردیا ہے اور میرے الفاظ لکھ کر رکھیے کہ یہ وبا اتنی جلدی جانے والی نہیں ہے اس لیے ہر صوبے اور علاقے کو ہوم آئسولیشن کے ہزاروں مریضوں کے لیے یہ ماڈل اپنانا پڑے گا’۔

آن لائن سرٹیفکیٹ پروگرام
ای ڈاکٹر منصوبے کے ٹیکنالوجی پارٹنر اور ایجوکاسٹ کے بانی عبداللہ بٹ کا کہنا تھا کہ ہزاروں پاکستانی خواتین ڈاکٹر ایسی ہیں جو اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کررہی ہیں اور اپنے اہل خانہ کا خیال رکھ رہی ہیں جبکہ اپنی مہارت اور صلاحیت سے معاشرے کے لیے کچھ نہیں کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چند ماہ اس طرح کی سیکڑوں خواتین ڈاکٹروں کو ٹیچنگ کا فلپ ماڈل اور ای ڈی ٹیک پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے پیشے میں واپس لایا گیا ہے جن کو ڈی یو ایچ ایس کے معروف فیکلٹی اراکین پڑھاتے ہیں’۔

ای ڈاکٹر منصوبے کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں کے علاوہ بحرین، یونان، امریکا اور انڈونیشیا سمیت بیرون ممالک مقیم غیرفعال پاکستانی ڈاکٹروں کو اپنے پیشے میں واپسی کی تحریک دی گئی۔

عبداللہ بٹ کا کہنا تھا کہ ‘وہ خواتین ڈاکٹر جو جدید تعلیم اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے سیکھنا چاہتی ہیں ان کو پاکستان کے ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں سے مشاورت کے ساتھ ویڈیو کی بنیاد پر براہ راست مریضوں کا علاج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ماہرین لائف سپورٹ، گائناکالوجی، الیکٹرونک میڈیکل ریکارڈ کا استعمال اور ویڈیو پر مشتمل موبائل ہیلتھ اسسمنٹ پلیٹ فارم کے استمعال کی مہارت رکھتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ان ڈاکٹروں کو 6 ماہ کا آن لائن سرٹیفیکیٹ بھی دیا جاتا ہے، اس فیملی میڈیسن سرٹیفیکیٹ سے وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر مریضوں کے علاج کرنے کی اہل ہوجاتی ہیں’۔

عبداللہ بٹ کے مطابق یہ منصوبہ سندھ حکومت کی شراکت داری میں چل رہا ہے اور 15 ممالک اور پاکستان کے مختلف شہروں سے ای ڈاکٹرز کی ٹیموں کو یہ اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘400 خواتین ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پر اس مقصد اور گھروں میں آئسولیشن میں موجود کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے خود کو پیش کیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مریضوں اور متعلقہ ضلع اور صحت کے شعبے کی انتظامیہ سے متعلق تفصیلات ان ڈاکٹروں کو دی گئی ہیں، ہمارے ڈاکٹر فون کے ذریعے ان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ان کی نوعیت کا ریکارڈ بھی ترتیب دیتے ہیں’۔

عبداللہ بٹ نے بتایا کہ ‘یہ ڈاکٹر متعلقہ ضلعے کی انتظامیہ اور شعبہ صحت کے منتظمین کو آگاہ رکھتے ہیں اور ضرورت کے مطابق ان سے مدد بھی طلب کرتے ہیں’۔