- الإعلانات -

کورونا وائرس کے مریض کتنے دنوں تک بیماری دیگر افراد میں منتقل کرسکتے ہیں؟

نیا نوول کورونا وائرس ایک سے دوسرے فرد میں اس وقت بھی منتقل ہوسکتا ہے جب مریض میں اس کی علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔

یہ بات ساننسدان کئی ماہ پہلے جان چکے تھے مگر وہ مسلسل یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایک مریض کتنے عرصے تک اس وائرس کو دیگر افراد میں منتقل کرسکتا ہے۔

اب چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

جریدے انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشز ڈیزیز میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 (کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری) کے شکار افراد کے ایک گروپ میں دریافت کیا گیا کہ اوسطاً 17 دن تک وائرس ان کے جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

چانگشا پبلک ہیلتھ ٹریٹمنٹ سینٹر کی تحقیق میں 147 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جو 24 جنوری سے 8 مارچ 2020 کے دوران ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

ان مریضوں کی عمر 18 سال سے زائد اور اوسط عمر 42 سال تھی جبکہ 54 فیصد خواتین تھیں۔

ان مریضوں میں کووڈ 19 کی سب سے عام علامات میں بخار اور کھانسی شامل تھے جبکہ یہ علامات ہسپتال میں داخل ہونے سے 6 دن پہلے نمودار ہوگئی تھیں، جبکہ ان کا اینٹی وائرل علاج ہوا تھا۔

مجموعی طور پر 86 فیصد مریضوں میں بیماری کی شدت معتدل تھی جن کو بخار، سانس کی نالی کے مسائل اور سینے کے اسکینز میں نمونیا کی تصدیق ہوئی تھی۔

باقی 14 فیصد میں بیماری کی شدت زیادہ تھی جن کو سانس لینے میں مشکلات اور خون میں آکسیجن کی کمی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔

ان مریضوں کے طبی ریکارڈز کا تجزیہ کرنےک ے بعد محققین نے دریافت کیا کہ کووڈ 19 کی پہلی علامت رپورٹ کرنے اور نیگیٹو ٹیسٹ میں اوسطاً 17 دن لگے۔

ایک مریض میں وائرس کے جھڑنے کا دورانیہ 6 سے 47 دن تک ریکارڈ کیا گیا۔

تحقیقی ٹیم نے مخصوص وجوہات کی نشاندہی کی جو کہ کسی مریض کو متعدی بنانے کے دورانیے سے جڑی ہیں یعنی وہ وقت جس دوران ایک مریض میں وائرس اپنی نقول بناتا ہے اور آگے منتقل ہوتا ہے، اور یہ دورانیہ اوسطاً 17 دن بنتا ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ جن افراد کا جسمانی درجہ حرارت اوسطاً 38.3 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، وہ ہسپتال میں بھی زیادہ دیر تک رہتے ہیں۔

اسی طرح جو لوگ ہسپتال میں داخلے میں دیر کرتے ہیں، ان میں وائرس کے جھڑے کا دورانیہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم محققین نے عمر، جنس، وزن، کورونا وائرس کی تاریخ یا پہلے سے کسی بیماری اور وائرس کے متعدی ہونے کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں کیا۔

دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ تو پہلے سے معلوم تھا کہ وائرس کے شکار افراد 2 سے 2 ہفتے تک متعدی ہوتے ہیں، اور مریض جتنا بیمار ہوگا اتنا زیادہ وائرس خارج ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں ایک نکتہ سامنے آیا ہے کہ جتنی جلد مریض کا علاج شروع ہوگا، اتنا اچھا نتیجہ سامنے آئے گا۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے کہا کہ خطرہ بڑھانے والے ممکنہ عناصر کی نشاندہی اور ان کو ذہن میں رکھ کر قرنطینہ کی حکمت عملی موثر ثابت ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل مارچ میں ووہان کے جن ین تان ہسپتال اور ووہان پولمونری ہسپتال کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے کسی مریض کی موت اوسطاً 18.5 دن میں واقع ہوسکتی ہے۔

دونوں ہسپتالوں میں یکم فروری تک ایسے مریضوں کو داخل کیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی علامات کی شدت بہت زیادہ تھی اور اس عرصے کے دوران 137 ڈسچارج جبکہ 54 ہلاک ہوگئے تھے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈسچارج ہونے کے وقت کا اوسط دورانیہ 22 دن تھا جبکہ موت کا اوسط دورانیہ 18.5 دن تھا۔

ریکور کرنے والے افراد میں بخار کا اوسط دورانیہ 12 دن کے قریب تھا جو کہ ہلاک ہونے والوں میں بھی اتنا ہی تھا، مگر صحت مند ہونے والوں میں 50 فیصد کے قریب افراد کو ہی کھانسی کی شکایت ہوتی ہے جبکہ سانس لینے میں مشکل کی شکایت 13 دن کے بعد کم ہونے لگتی ہے۔

جہاں تک اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کا تعلق ہے، ان میں عفونت کا آغاز 9ویں دن شروع ہوجاتا ہے جبکہ گردے یا دل کی شدید انجری 15ویں دن تک ہوسکتی ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جو مریض بچ جاتے ہیں، وہ وائرس کو 37 دن تک کسی صحت مند افراد میں منتقل کر سکتے ہیں، یہ دورانیہ سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ طویل ہے۔

چین کے چائنا۔ جاپان فرینڈشپ ہسپتال اور کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر بن کاﺅ نے بتایا کہ وائرس کے جھڑنے کے دورانیے میں اضافے کو ہماری تحقیق کے دوران دیکھا گیا جو مصدقہ کیسز میں الگ رکھنے کی احتیاطی تدابیر اور اینٹی وائرل علاج کے حوالے سے رہنمائی میں اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ‘مریضوں کو ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دینے سے قبل کووڈ 19 کے نیگیٹو ٹیسٹ لازمی قرار دیئے جانے چاہیے’۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ہسپتال میں داخل 30 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے جبکہ 19 فیصد کو ذیابیطس کا عارضہ تھا، یہ دونوں امراض کورونا وائرس سے ہلاکت کا باعث بننے والے اہم عناصر سمجھے جارہے ہیں، جبکہ زیادہ عمر اور خون جمنا بھی موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر، داخلے کے وقت عفونت کی علامات، ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس جیسے امراض وغیرہ اموات کے اہم اسباب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ عمر کے افراد میں عمر کے ساتھ مدافعتی نظام میں آنے والی کمزوری اور ورم وائرس کے پھیلنے کے عمل کو بڑھا سکتا ہے اور اس سے مزید ورم پیدا ہوتا ہے جو دل، دماغ اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران محققین نے صحت یاب ہونے والے اور ہلاک ہونے والے افراد کے کلینیکل ریکارڈ، علاج کا ڈیٹا، لیبارٹری نتائج اور دیگر ڈیٹا کا موازنہ کیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ہلاک ہونے والے مریضوں کے معمر ہونے (اوسطاً 69 سال عمر) ہونے اور اعضا کے کام نہ کرنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جبکہ عفونت جیسے عناصر بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔

سنگین کیسز کے شکار افراد میں خون کے سفید خلیات کی شرح بھی کم ہوتی ہے، انٹرلیوکین 6 (ورم اور دائمی امراض کا بائیومیکر) کی سطح بڑھ جاتی ہے جبکہ ہارٹ اٹیک کا باعث بننے والے ٹروفونین آئی کی حساسیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان عناصر کو یہ تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کہ کن مریضوں کو ہسپتال میں داخلے کے وقت زیادہ خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے ‘دی لانسیٹ’ میں شائع ہوئے۔