- الإعلانات -

کورونا وائرس کے خلاف بچوں کا مدافعتی نظام زیادہ بہتر کام کیوں کرتا ہے؟

دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، مگر بچوں کی تعداد بہت کم ہے اور طبی ماہرین اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر ننھے فرشتوں کو اس بیماری سے تحفظ کیسے مل رہا ہے۔

اب سائنسدانوں نے کہا کہ بچوں کو ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے تحفظ اس لیے مل رہا ہے کیونکہ وہ متعدد بار عام نزلہ زکام کا شکار ہوتے ہیں۔

کچھ عرصے پہلے برطانیہ کے نیشنل اسٹیٹکس کے اعدادوشمار سے عندیہ ملا تھا کہ بچوں میں بھی یہ وائرس پھیل سکتا ہے مگر بہت کم میں اس کی شدت بڑھتی ہے یا علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں اس وائرس کے خلاف مزاحمت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام پہلے ہی عام نزلہ زکام سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

شاید بیشتر افراد کو معلوم نہ ہو مگر عام نزلہ زکام 4 مختلف اقسام کے کورونا وائرس کے نتیجے میں ہوتا ہے جو عام طور پر بے ضرر ہی ہوتا ہے، مگر بالغ افراد میں اگر یہ ایک سال میں اوسطاً 2 سے 4 دفعہ نظر آتا ہے تو اسکول جانے کی عمر کے بچوں میں یہ سالانہ اوسط 12 ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جان بیل نے برطانوی پارلیمانی کی سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی کو بتایا کہ اسی وجہ سے بچوں میں اس وائرس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے جو بالغ افراد میں نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا ‘یہ اس وقت حیران کن قیاس ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بیشتر نوجوان یا درماینی عمر کے افراد میں ایسے حفاظت کرنے والے خلیات یا ٹی سیلز ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی کورونا وائرس کا سامنا کرچکے ہوتے ہیں، جس سے انہیں وائرس سے کچھ تحفظ مل جاتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا ‘متعدد بچے سیزنل کورونا وائرسز سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ ہماری آبادیوں میں بہت عام ہے، جس کی وجہ سے بیشتر بچوں میں کورونا وائرسز کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا ہوجاتی ہے، ابھی یہ ثابت شدہ نہیں، مگر ٹی سیلز کے شواہد موجود ہیں، جن سے نئے کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے’۔

تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ 4 سال کی عمر میں 70 فیصد بچوں میں سیزنل کورونا وائرسز کے خلاف اینٹی باڈیز بن چکی ہوتی ہیں، جو انہیں اہم تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

پروفیسر جان بیل نے بتایا ‘اس سے سوال اٹھتا ہے کہ آبادی میں ہرڈ امیونٹی کتنی ہے، یہ بہت اہم نکتہ ہے اور اس پر کام کیا جانا چاہیے’۔

اس بارے میں کنگز کالج لندن کے امیونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ایڈریان ہے ڈے نے کہا کہ نوجوانوں کا مدافعتی نظام نئے وائرس کے خلاف ممکنہ طور پر زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا ‘ایسے تمام بالغ افراد جو 30 سے 35 سال کی عمر سے گزر چکے ہوتے ہیں، میں بتدریج ٹی سیلز کی قوت کمزور ہوچکی ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں بچے مکمل طور پر نئے وائرس کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ بہتر ہوتے ہیں’۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد کا مدافعتی نظام یا خلیات کمزور ہوچکے ہوتے ہیں جو متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

مگر پروفیسر جان بیل نے کہا کہ بیشتر افراد کے لیے کورونا وائرس سنگین بیماری کا باعث نہیں بنتا، جو لوگ بہت زیادہ بیمار ہوکر انتقال کرجاتے ہیں، ان میں اکثریت بزرگ افراد کی ہے اور پھر جب نوجوانوں کو اس کا سامنا ہوتا ہے، تو ان کو زیادہ شدت کا سامنا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف عمروں میں لوگوں کے مدافعتی نظام مختلف طرح کام کرتا ہے، 70 فیصد افراد جن کو وائرس کا سامنا ہوتا ہے، ان میں کبھی علامات نظر نہیں آتیں، تو ایک طرف تو یہ اتنا برا مرض نہیں، مگر دوسری جانب یہ دہشتناک ہے، درحقیقت اکثریتی لوگوں کو جب اس بیماری کا سامنا ہوتا ہے انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔