- الإعلانات -

موٹاپے کے باعث کورونا وائرس سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ماہرین

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو موٹاپے اور زیادہ جسمانی وزن کے حامل افراد ہیں انہیں کووڈ 19 سے موت یا شدید بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 63 فیصد بالغ افراد موٹے ہیں یعنی ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) 25 سے 29.9 (زیادہ وزن) یا 30 سے زیادہ (موٹاپا) ہے۔

پی ایچ ای کی رپورٹ کے مطابق کورونا سے متاثرہ شخص کا بی ایم آئی 30 سے 35 ہے تو موت کا خطرہ 40 فیصد زیادہ ہے جبکہ وہ لوگ جن کا بی ایم آئی 40 سے زیادہ ہے ان میں وائرس سے موت کا خطرہ 90 فیصد ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ زیادہ وزن یا موٹاپا ہونے کی وجہ سے متاثرہ شخص کو انتہائی نگہداشت میں شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں 7.9 فیصد مریض 40 سے زائد بی ایم آئی والے ہیں۔

پی ایچ ای کے سربراہ ایلیسن ٹیڈ اسٹون نے کہا کہ موجودہ شواہد سے واضح ہے کہ زیادہ وزن یا موٹا ہونے کی وجہ سے آپ کو کووڈ 19 میں سنگین بیماری یا موت کے علاوہ دیگر بہت سی بیماریوں سے بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔

اس سے قبل بھی متعدد طبی محققین نے انکشاف کیا تھا کہ زیادہ وزن یا موٹاپے کے حامل افراد کو کورونا وائرس سے سنگین پیچیدگیوں یا موت کا خطرہ رہتا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اگلے کچھ دنوں میں فاسٹ فوڈ کے اشتہارات پر پابندیوں کا اعلان کریں گے تاکہ لوگوں کو وزن کم کرنے میں مدد ملے۔

اس سے قبل انہوں نے شوگر ٹیکس جیسے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رہے کہ بورس جانسن بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے تاہم وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا وزن کم ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ نئے کورونا وائرس کے بارے میں اب بھی بہت کچھ سائنسدان جان نہیں سکے ہیں اور ہر مہینے اس وبائی بیماری کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آرہی ہے، جو ماہرین کو دنگ کر دیتی ہے۔

حال ہی میں سائنسدانوں کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کورونا وائرس درحقیقت ہوا سے پھیلنے والا مرض ہے اور عالمی ادارہ صحت کو اس حوالے سے اپنی سفارشات میں تبدیلی لانی چاہیے۔

اس وبا کے آغاز سے ہی سائنسدان اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 مریض کی کھانسی یا چھینک کے علاوہ بولنے یا سانس لینے سے خارج ہونے والے ننھے ذرات کے ذریعے لوگوں میں منتقل ہوتی رہی ہے۔