- الإعلانات -

کورونا وائرس کی سب سے عام علامت کیسے مریض میں نمودار ہوتی ہے؟

عارضی طور پر سونگھنے کی حس سے محرومی نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی چند ابتدائی اور بہت عام علامات میں سے ایک ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس سے بخار یا کھانسی جیسی زیادہ معروف علامات کے مقابلے میں کووڈ 19 کی بہتر پیشگوئی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مگر اب تک طبی ماہرین یہ سمجھ نہیں سکے تھے کہ آخر کووڈ 19 کے مریض سونگھنے یا چکھنے کی حس سے کیوں محروم ہوجاتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا میکنزم ہے۔

اب امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول کے زیرتحت بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے ایک تحقیق اس کی وجہ دریافت کی ہے۔

انہوں نے سونگھنے میں مددگار خلیات کی ان اقسام کو شناخت کیا ہے جو نئے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

حیران کن طور پر سونگھنے کی حس کے سگنل دماغ تک پہنچانے والے سنسری نیورونز ان متاثرہ خلیات میں شامل نہیں۔

جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ سنسری نیورونز ایس 2 ریسیپٹر پروٹین سے رابطے میں نہیں ہوتے، جن کو کورونا وائرس انسانی خلیات میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس کے برعکس ایس 2 ان خلیات پر اثرانداز ہوتا ہے جو مخصوص اسٹیم سیلز اور خون کی شریانوں کے خلیات کے ساتھ سنسری نیورونز کے میٹابولک اور ساختی سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔

نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نان نیورونل خلیات کی اقسام پر اثرانداز ہوتی ہے جس سے مریض سونگھنے کی حس سے محروم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نیا کورونا وائرس سونگھنے کی حس میں تبدیلیاں براہ راست نیورونز کو متاثر کیے بغیر لاتا ہے اور یہ کام وہ معاون خلیات کے افعال کو متاثر کرکے کرتا ہے۔

نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اکثر کیسز میں کورونا وائرس سونگھنے کی حس کے نیورل سرکٹس کو مستقل نقصان نہیں پہنچاپاتا ورنہ مریضوں کو ہمیشہ کے لیے اس حس سے محرومی کا سامنا ہوتا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ اچھی خبر ہے کہ ایک بار جب بیماری کا خاتمہ ہوتا ہے تو نیورونز کو بدلنے یا تعمیر نو کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم اس حوالے سے مزید ڈیٹا کی ضرورت ہے تاکہ اس میکنزم کے بارے میں ہمارے نتائج کی تصدیق ہوسکے۔

کووڈ 19 کے بیشتر مریضوں کو کسی حد تک سونگھنے کی حس سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے جو اکثر عارضی ہوتا ہے یا کم از کم ابھی جو ڈیٹا دستیاب ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے۔

طبی ریکارڈ کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سونگھنے کی حس سے محرومی کا امکان 27 گنا زیادہ ہوتا ہے مگر یہ شرح بخار، کھانسی یا نظام تنفس کی مشکلات میں 2.2 سے 2.6 گنا ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کووڈ 19 میں سونگھنے کی حس سے محرومی دیگر وائرل انفیکشنز میں اس مسئلے کا سامنا کرنے والے افراد کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر کووڈ 19 میں یہ حس چند ہفتوں میں بحال ہوجاتی ہے جبکہ دیگر وائرل انفیکشنز میں یہ عرصہ کئی ماہ طویل بھی ہوسکتا ہے جو براہ راست سونگھنے کی حس میں مددگار نیورونز کو ہدف بناتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ہم ان تبدیلیوں کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے ہیں تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ ہمیں مخصوص خلیات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

نتائج سے کووڈ 19 سے جڑے اعصابی مسائل کا سراغ بھی ملتا ہے اور محققین کے خیال میں یہ وائرس دماغی افعال پر اعصابی نظام کے خلیات کو متاثر کرکے اثرانداز ہوتا ہے، اور اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ مارچ میں رائل کالج آف سرجنز آف انگلینڈ کی تحقیق میں کہا گیا کہ سونگھنے کی حس سے محرومی کو پہلے ہی وائرسز سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ ایسے 40 فیصد کیسز کسی وائرل انفیکشن کے بعد رپورٹ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق متعدد ممالک میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ڈیٹا میں اضافے سے یہ ٹھوس اشارہ ملتا ہے کہ بیشر مریضوں کو اس مرض کی علامات کے دوران سونگھنے کی حس سے محرومی کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

درحقیقت بیشتر اوقات تو یہ سب سے پہلے نمودار ہونے والی علامات ہوسکتی ہیں، جس کے بارے میں ابھی کہا جاتا ہے کہ بخار سب سے پہلے اور عام ترین علامت ہے۔

شواہد میں مزید بتایا گیا کہ سونگھنے کے ساتھ ساتھ چکھنے کی حس سے محرومی بھی ایسے افراد میں نظر آئی جن میں کووڈ 19 کی دیگر علامات نظر نہیں آئیں مگر وائرس کی تشخیص ہوئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق سونگھنے یا چکھنے کی حس سے اچانک محرومی کا سامنا کرنے والے افراد میں کسی اور انفیکشن کے مقابلے میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا امکان 10 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے تاحال اپنی علامات کی فہرست کو اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے یعنی سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی اور ٹھنڈ لگنے کو ڈبلیو ایچ او نے اپ ڈیٹ نہیں کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بخار اس انفیکشن کی سب سے عام علامت ہے جو سب سے پہلے سامنے آتی ہے اور لگ بھگ 88 فیصد کیسز میں اسے دیکھا گیا (چین میں 55 ہزار کیسز کے تجزیے کے بعد یہ شرح بتائی گئی)، اس کے علاوہ خشک کھانسی، تھکاوٹ، گاڑھے بلغم کے ساتھ کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات وغیرہ۔

اسی طرح گزشتہ مہینے امریکا میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 پورے اعصابی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کی اعصابی علامات دیگر عام نشانیوں سے بھی پہلے نظر آسکتی ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر کووڈ 19 کی ابتدائی علامات اعصابی علامات کی شکل میں نظر آتی ہیں اور یہ بخار یا نظام تنفس کی دیگر علامات جیسے کھانسی سے بھی پہلے نمودار ہوسکتی ہیں۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ہسپتال میں زیرعلاج کووڈ 19 کے لگ بھگ 50 فیصد مریضوں میں اعصابی علامات بشمول سرچکرانے، سردرد، ذہنی الجھن، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، سونگھنے اور چکھنے سے محرومی، seizures، فالج، کمزوری اور پٹھوں میں درد قابل ذکر ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ عام افراد اور طبی ماہرین میں اس حوالے سے شعور اجاگر ہو، کیونکہ نئے نوول کورونا وائرس کا انفیکشن بخار، کھانسی یا نظام تنفس کے مسائل سے پہلے ممکنہ طور پر ابتدا میں اعصابی علامات کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

تحقیق میں ان مختلف اعصابی کیفیات کی وضاحت کی گئی جو کووڈ 19 کے مریضوں میں نظر آسکتی ہیں اور بتایا گیا کہ کس طرح تشخیص کی جائے۔

محققین نے بتایا کہ اس کا فہم مناسب طبی انتظام اور علاج کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بیماری پورے اعصابی نظام بشمول دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب کے ساتھ مسلز پر اثرانداز ہوسکتی ہے جبکہ ایسے متعدد مختلف ذرائع ہیں جس کے ذریعے کووڈ 19 اعصابی نظام کو غیرفعال کرسکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ وائرس براہ راست بھی دماغ اور مینینجز کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ بیماری کے خلاف مدافعتی نظام کا ردعمل بھی ورم کا باعث بن کر دماغ اور اعصاب کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے نارتھ ویسٹرن میڈیسین میں زیرعلاج تمام مریضوں کا تجزیہ کیا اور تعین کیا کہ ان میں کس قسم کی اعصابی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور ان کا دورانیہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ کووڈ 19 کے اعصاب پر طویل المعیاد بنیادوں پر کس حد تک مرتب ہوسکتے ہیں، تو کچھ مریضوں پر فالو اپ جاری رکھا جائے گا اور تعین کیا جائے گا کہ یہ اعصابی مسائل عارضی ہیں یا مستقل۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کس طرح تشخیص کی جائے اور کووڈ 19 کی اعصابی علامات کا کیسے علاج کیا جائے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل اینالز آف نیورولوجی میں شائع ہوئے۔