- الإعلانات -

کورونا وائرس کی وبا کو قابو کرنے میں مددگار 3 آسان کام

نئے کورونا وائرس کے کیسز کی شرح میں پاکستان بھر میں کمی آرہی ہے، جس کو برقرار رکھنے کے لیے وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر کی جاانب سے عوام پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد جاری رکھیں۔

ویسے تو اس وائرس کی مکمل روک تھام کے لیے ایک ویکسین کی لازمی ضرورت ہوسکتی ہے مگر ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چند آسان کام کرکے بھی کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی شرح کو ڈرامائی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

طبی جریدے جرنل پلوس میڈیسین میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 3 آسان کاموں سے کووڈ 19 کی وبا کو ویکسین کے بغیر بھی سست یا روکنا ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ 3 کام بہت آسان ہیں یعنی ہاتھوں کو اکثر دھونا، سماجی دوری اور فیس ماسک کا استعمال۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسین کے بغیر بھی اگر اکثر افراد اوپر درج حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تو کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی شرح میں ڈرامائی کمی لائی جاسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق کسی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ان کاموں کو اپنالے تو اس وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اگر اکثر افراد کورونا وائرس اور اس کی روک تھام کے اقدامات کے موثر ہونے کے حوالے سے جان لیں تو اس کی مدد سے کیسز کی تعداد کو کم از کم رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ ایک کمپیوٹیشنل ماڈل کو استعمال کیا گیا تھا جو کہ اس بیماری کے حوالے سے دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر تیار کیا گیا اور پھر اس کی مدد سے احتیاطی تدابیر کے اثرات کی پیشگوئی کی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جانب سے خود اپنائی جانے والی احتیاطی تدابیر خصوصاً آبادی کے بڑے حصے کی جانب سے ان پر عملدرآمد اس وبا کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ویسے تو سماجی دوری، اکثر ہاتھ دھونا اور فیس ماسک پہننا الگ الگ بھی کسی حد تک کورونا وائرس سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، تاہم ان کا امتزاج کووڈ 19 کے خلاف 3 گنا زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

امریکا کے طبی ادارے سی ڈی سی کے مطابق سماجی دوری سے کیسز کی شرح میں تیزی سے کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

اسی ادارے نے یہ بھی تصدیق کی کہ ہاتھوں کو دھونا لوگوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ نظام تنفس کے امراض کو پھیلنے سے بھی روکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے مایو کلینک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فیس ماسکس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سست کیا جاسکتا ہے۔

یہ وائرس کسی متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینک یا بات کرنے کے دوران خارج ہونے والے ذرات سے دیگر میں منتقل ہوتا ہے، تو سرجیکل یا کپڑے کا ماسک ان ذرات کو روکتا ہے اور وائرس دیگر تک پہنچ نہیں پاتا۔

اپریل میں ایک تحقیق میں ثابت کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں فیس ماسک کا استعمال کورونا وائرس کی روک تھام یا اس کے پھیلاؤ کو سست کرنے کے لیے اہم ترین حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر کسی آبادی کے 80 فیصد افراد فیس ماسک کا استعمال کریں تو کورونا وائرس کی وبا کو بہت تیزی سے روکنا ممکن ہوسکتا ہے۔