- الإعلانات -

غریب ممالک تک کورونا ویکسین کم قیمت میں فراہمی کے لیے بل گیٹس کا اہم اعلان

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے فلاحی ادارے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے دنیا کے سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے ادارے سے شراکت داری کی ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک تک کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین کو سستی قیمت میں فراہم کیا جاسکے۔

بل گیٹس نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ اور ان کا فلاحی ادارہ کورونا ویکسینز کو تقسیم کرنے کے لیے 15 کروڑ ڈالرز خرچ کرے گا۔

اس مقصد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن اور بھارت سے تعلق رکھنے والے سیرم انسٹیٹوٹ کے درمیان شراکت داری ہورہی ہے، جس کی جانب سے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں کورونا ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز 3 ڈالر (5 سو پاکستانی روپے سے زائد) فی ڈوز کے حساب سے تقسیم کیے جائیں گے۔

اس شراکت داری کے تحت جب بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کسی ویکسین کو تیار اور استعمال کی منظوری مل جائے گی، تو 2021 کی پہلی ششماہی میں اس کے ڈوز تیار کرنے کا کام شروع ہوجائے گا۔

یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب امیر ممالک جیسے امریکا اور برطانیہ کی جانب سے ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسینز کی پروڈکشن اور تقسیم کرنے کے حقوق خریدنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

گیٹس فاؤنڈیشن سیرم فاؤندیشن کے ساتھ کام کرکے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ کسی منظور شدہ ویکسین زیادہ قیمت کی وجہ سے غریب ممالک کی پہنچ سے دور نہ ہوجائے۔

ویسے تو اس حوالے سے ویکسینز ابھی تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں مگر ادویات ساز کمپنیوں نے ایک ڈوز کی قیمت کا عندیہ دیا ہے۔

جیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دنیا بھر میں اپنی ویکسین فی ڈوز 3 ڈالرز میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کے مقابلے میں امریکا کی کمپنی موڈرینا کی جانب سے 2 ڈوز پروگرام کی لاگت 74 ڈالرز (لگ بھگ ساڑھے 12 ہزار پاکستانی روپے) لگائی گئی ہے۔

گیٹس فاؤنڈیشن کے اس منصوبے میں ویکسین الائنس گاوی کو بھی شامل کیا گیا جو ترقی پذیر ممالک کو ویکسینز فراہم کرنے والا ادارہ ہے اور اس سے سیرم انسٹیٹوٹ کو پروڈکشن گنجائش بڑھانے میں مدد ملے گی۔

سیرم انسٹیٹوٹ اس سے قبل نووا ویکس اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسینز کی پروڈکشن کے لیے بھی معاہدے کرچکا ہے۔

بل گیٹس نے شراکت داری پر اپنے بیان میں کہا ‘محققین کی جانب سے کووڈ 19 کے خلاف محفوظ اور موثر ویکسینز کی تیاری کے لیے اچھی پیشرفت کی گئی ہے’۔

انہوں نے کہا مگر ہر ایک تک اس کی رسائی کو جلد از جلد یقینی بنانے کے لیے زبردست پروڈکشن گنجائش اور عالمی تقسیم کاری نیٹ ورک کی ضرورت ہے، اس شراکت داری سے دنیا کو یہ دونوں مل سکیں گے، یعنی سیرم انسٹیٹوٹ کا پروڈکشن سیکٹر اور گاوی کی سپلائی چین’۔

سیرم ویکسینز تیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ہر سال مختلف ویکسینز کے ڈیڑھ ارب ڈوز تیار کرتا ہے۔

اس سے پہلے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے حوالے سے بھی پیشگوئی کی تھی۔

ایک انٹرویو کے دوران بل گیٹس نے کہا ‘اس وائرس کے حوالے سے تشخیص، نئے طریقہ علاج اور ویکسین پر کام واقعی بہت متاثرکن ہے، اور اس کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ امیر ممالک میں ممکنہ طور پر 2021 کے آخر تک اس پر قابو پالیں گے جبکہ باقی دنیا میں اس کا خاتمہ 2022 کے آخر تک ہوگا’۔

ان کے مطابق اگر ان کی پیشگوئی درست ہوئی بھی تو اس سے متاثر ممالک اقتصادی ترقی اور مختلف امراض جیسے ملیریا، پولیو اور ایچ آئی وی کے حوالے سے پیشرفت کی بجائے کئی سال پیچھے چلے جائیں گے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایک ویکسین جلد تیار ہوجائے گی مگر بڑے پیمانے پر تیاری کے مسائل کے باعث اس وقت تیاری کے مراحل سے گزرنے والی کچھ ویکسینز ممکنہ طور پر صرف امیر ممالک کو ہی دستیاب ہوں گی۔

جہاں تک اس بیماری کے شکار افراد کے علاج کی بات ہے تو بل گیٹس نے اینٹی وائرل دوا ریمیڈیسیور اور ڈیکسامیتھاسون کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا ‘دیگر اینٹی وائرلز 2 سے 3 مہینوں کی دوری پر ہیں، اینٹی باڈیز کی تیاری میں بھی 2 سے 3 ماہ کا عرصہ درکار ہوسکتا ہے، ہم اب تک 2 ادویات سے ہسپتال سے علاج میں بہتری کو دریافت کرچکے ہیں، جن میں ریمیڈیسیور اور ڈیکسامیتھاسون شامل ہیں’۔

جولائی کے شروع میں بل گیٹس نے ایک آن لائن خطاب کے دوران کہا تھا کہ ورونا وائرس کے علاج کے لیے ادویات اور مستقبل میں ویکسین زیادہ پپیسے دینے والوں کی بجائے وہاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا ‘اگر ہم ادویات اور ویکسینز کو زیادہ ضرورت مند افراد اور مقامات کی بجائے زیادہ بولی لگانے والوں کو دے دیں گے تو ہمیں زیادہ طویل، غیرمنصفانہ اور جان لیوا وبا کا سامنا ہوگا’۔

انہوں نے کہا ‘ہمیں ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو مساوانہ طریقے سے ادویات اور ویکسینز کی سپلائی کے مشکل فیصلہ کرسکیں’۔

بل گیٹس اپریل میں اربوں ڈالرز ویکسیین کی تیاری پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں.

بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرتحت تیار ہونے والے کووڈ 19 ویکسین کے لیے 75 کروڑ ڈالرز دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

بل گیٹس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کروڑوں ڈالرز ویکسین کی 30 کروڑ ڈوز کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ پہلی کھیپ 2020 کے آخر تک مختلف ممالک میں بھیجنے کے لیے تیار ہوگی۔

اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف تیار کی جانے والی 7 بہترین ویکسینز کے لیے فیکٹریوں کی تعمیر پر اربوں ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔

بل گیٹس نے کہا کہ تیاری کے مراحل سے گزرنے والی متعدد ویکسینز میں سے 7 بہترین کا انتخاب اور ان کی تیاری کے لیے فیکٹریاں تعمیر کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا ‘اگرچہ ہم آخر میں ان میں سے 2 کا ہی انتخاب کریں گے، مگر ہم تمام ویکسینز کے لیے الگ الگ فیکٹریوں کی تعمیر پر سرمایہ لگائیں گے، ہوسکتا ہے کہ اربوں ڈالرز ضائع ہوجائیں مگر آخر میں موثر ترین ویکسین کی فیکٹری کے لیے وقت ضرور بچ جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیاری اور فیکٹری کی بیک وقت تعمیر کرنا، ویکسین کو تیزی سے تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کئی ماہ ضائع ہونے سے بچالیں گے کیونکہ اس وقت ہر مہینہ قیمتی ہے۔

بل گیٹس نے ایک بلاگ پوسٹ میں ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے عمل پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے لکھا کہ ایک ویکسین کی تیاری میں 18 ماہ لگتے ہیں مگر ان کے خیال میں کورونا وائرس کے خلاف ویکسن جلد از جلد 9 ماہ یا زیادہ سے زیادہ 2 سال میں تیار ہوجائے گی۔

انہوں نے لکھا ‘ابھی 115 مختلف کووڈ 19 ویکسینز تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں، میرے میں ان میں سے 8 سے 10 زیادہ بہتر نظر آرہی ہیں اور ہمارا ادارہ ان سب پر نظر رکھے گا’۔

بل گیٹس نے کہا کہ بہترین ویکسینز کے لیے مختلف اقسام کی حکمت عملی پر عمل کیا جانا چاہیے تاکہ جسم کو کووڈ 19 کے خلاف تحفظ مل سکے۔

مگر کووڈ 19 کی ویکسین کے حوالے سے اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ آج تک کسی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار نہیں ہوئی۔

تاہم مائیکرو سافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ حالات اس وقت تک معمول پر نہیں آسکتے جب تک ایک ویکسین تیار نہیں ہوجاتی۔

انہوں نے کہا ‘انسانیت کے لیے اس سے زیادہ فوری کام کوئی اور نہیں ہوسکتا کہ کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کی جائ، اگر ہم معمول کی زندگی پر لوٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک محفوظ اور موثر ویکسین تیار کرنا ہوگی’۔