- الإعلانات -

ڈیرہ غازی خان میں پولیو وائرس کا چوتھا کیس سامنے آگیا

ڈیرہ غازی خان: مبینہ طور پر ویکسین پینے والے ایک بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو رواں سال ڈیرہ غازی خان میں رپورٹ ہونے والا چوتھا کیس بن گیا ہے۔

نئے کیس میں خاخی گاؤں کے رہائشی 22 ماہ کے بچے ظفر اقبال میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق نے دعویٰ کیا کہ بچے کو ویکسین کی تمام خوراکیں دی گئی تھی اور اس میں والڈ پولیو وائرس کی تشخیص حیران کن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بچے کے نمونے 17 ستمبر کو حاصل کیے گئے تھے، اور وہ وائرس میں اضافے کی وجوہات پر غور کررہے ییں۔

اجلاس کا مقصد وائرس پھیلنے کی وجوہات کا اندازہ لگانا اور اس پر قابو پانے کی حکمت عملی تشکیل دینا تھا کیوں کہ یہ ملک کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ‘پولیومائلیٹِس’ یا ‘وائلڈ پولیو’ شدید متعدی بیماری ہے جو بچوں کی ریڑھ کی ہڈی پر حملہ کرکے انہیں زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیتی ہے۔

یہ 1950 کی دہائی میں ویکسین تیار ہونے تک دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی تھی، تاہم ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کے لیے یہ ویکسین پہنچ سے باہر تھی۔

1988 کے آخر میں ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں وائلڈ پولیو کے ساڑھے 3 لاکھ کیسز موجود تھے.

تاہم عالمی کوششوں اور 30 سال سے زائد عرصے سے جاری فنڈنگ کے باعث رواں سال اس بیماری کے کیسز صرف افغانستان اور پاکستان میں سامنے آئے ہیں۔

پولیو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری اور بعض اوقات موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس وائرس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔

تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

جس کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو سے متعلق سفری پابندیاں پاکستان پر برقرار ہیں جس کی وجہ سے 2014 سے ہر شخص کے لیے بیرون ملک سفر کے لیے پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔