- الإعلانات -

کوروناعلامات سے متعلق نیا انکشاف

طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ کوروناوائرس کے محض 13 سے 18 فیصد مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں جبکہ باقیوں میں وبا کی کوئی نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں۔

امریکا کی شکاگو یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کوروناوائرس کے شکار تیرہ سے اٹھارہ فیصد مریضوں کو علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس انکشاف نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیوں کہ کم علامات والے مریضوں سے وائرس کا زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ کا خطرہ رہتا ہے۔

کوئی نشانیاں ظاہر نہ ہونے پر مریض خود کو صحت مند سمجھتے ہیں لیکن یہ سوچ غیردانستہ طور پر کئی لوگوں تک وبا کے پھیلاؤ کی وجہ بنتی ہے جس کا اندازہ بعد میں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا کو شکست دینے والے افراد کو بڑے مسئلے نے آ گھیرا، عالمی ادارے کا انتباہ

نئی تحقیق کے مطابق بغیر علامات والے مریض توقعات سے بھی کئی گنا زیادہ ہوسکتے ہیں۔ اس مشاہدے کے دوران نیویارک میں مارچ سے اپریل 2020 تک کیے گئے اینٹی باڈی ٹیسٹوں کا جائزہ لیا گیا جس سے پتا چلا کہ کورونا 19 کے محض 13 سے 18 فیصد کیسز میں علامات سامنے آتی ہیں اور باقی بغیر علامات والے ہوتے ہیں۔

اس ریسرچ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک مریض آگے 2 سے 3 افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔ محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بغیر علامات والے مریض علامات والے مریض کی طرح کی وائرس پھیلاتے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں طب کی دنیا میں انکشاف ہوا تھا کہ بغیر علامات والے کورونا مریض 60 فیصد وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں، 60 میں 35 فیصد نئے کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو اس وائرس کو علامات ظاہر ہونے سے قبل دیگر تک منتقل کردیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں میں بھی کورونا وائرس ہلاکت خیز ہوسکتا ہے، تحقیق

مذکورہ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 24 فیصد ایسے افراد ہوتے ہیں جن میں کبھی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں اور یہ بھی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خاموشی سے پھیلانے والے افراد کی بھی روک تھام کی جائے، اس کے لیے ایس او پیز اہم ہیں۔