- الإعلانات -

کیا حاملہ خواتین کو کورونا ویکسین لگوانی چاہیے؟

کراچی : ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کورونا وبا کے دوران سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں، محدود پیمانے پر کی گئی تحقیق کے دوران کورونا متاثرہ حاملہ خواتین میں شرح اموات آٹھ فیصد ہے، ویکسین لگوانے سے بچے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا, ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کے زیراہتما م آگہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، جس میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے انفیکشن ڈیزیز کی پروفیسر اسما نسیم ، سول اسپتال کراچی گائنی وارڈ کی پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر ڈائریکٹر پروفیسر سارا قاضی نے شرکت کی۔

ماہرین صحت نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام آراگ آڈیٹوریم میں “کیا حاملہ خواتین کو کورونا ویکسین لگوانی چاہیے” کے عنوان سے آگہی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کورونا سے متاثرہ حاملہ خواتین میں شرح اموات کی مصدقہ معلومات ابھی دستیاب نہیں تاہم محدود پیمانے پر کی گئی تحقیق کے مطابق کورو ناکی پیچیدگیوں کے باعث حاملہ خواتین میں شرح اموات آٹھ فیصد ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی افواہوں کا شکار ہونے کے بجائے حاملہ خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر کورونا ویکسین لگائی جائے، اس سےجنم لینے والےبچے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا جب کہ دودھ پلانے والی ماؤں کے بچوں کے جسم میں دودھ کے ذریعے اینٹی باڈی منتقل ہو جائیں گے۔

آگہی پروگرام میں ماہرین کے پینل نے شرکاء کے سوالوں کے جواب بھی دیئے، پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ حمل کے دوران خواتین کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں نمونیہ اور انفلوئنزا سمیت مختلف بیماریاں حملہ آور ہو سکتی ہیں، کورونا سے پہلے بھی خواتین کو انفلوئنزا سمیت دیگر ویکسین لگائی جاتی تھیں ۔

آگہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اسماء نسیم نے کہا کہ کورونا پاکستان کی حاملہ خواتین میں بہت سے مسائل کو جنم دے رہا ہے، حمل کے دوران خواتین مختلف قسم کے خطرات میں گھری ہوتی ہیں، اس لئے لازم ہے کہ ویکسین لگوائی جائے۔

پروفیسر اسماء کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دستیاب تمام ویکسین عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ ہیں، اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں دستیاب تمام ویکسین کے بنانے کے طریقے کار اس کے مثبت اثرات اور تاثیر کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی۔

انھوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کورونا سے پہلے دنیا میں آر این اے ویکسین نہیں بنائی گئی، کورونا کے دوران دنیا میں پہلی مرتبہ آر این اے ویکسین بنائی گئی ہے، ابیولا کے وقت تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آر این اے ویکسین بنائی جا سکتی ہے۔

پروفیسر اسماء کا کہنا تھا کہ ان ایکٹیویٹڈ وائرس( یعنی وائرس کو غیر فعال کرنے) کےطریقے سے ویکسین بنانے کے لیے طویل تجربات سے گزرنا پڑتا ہے، اس لئے کسی بھی قسم کی افواہوں کا شکار ہوئے بغیرکورونا کی ویکسین لگوائی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے تمام ویکسین کے مؤثر ہونے کی شرح بھی بتائی ہے، اکثر ویکسین 50 فیصد سے زیادہ مؤثر ہیں بالفرض کوئی ویکسین پچاس فیصد بھی موثر ہے تو وہ لگوائی جاسکتی ہے کورونا سے کم از کم پچاس فیصد تو تحفظ کرے گی ایسی صورت میں جب حاملہ خواتین رسک پر ہو ں تو مزید رسک نہ لیا جائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نازلی حسین نے کہا کہ حاملہ خواتین میں کورونا کی شرح اموات کے حوالے سے پاکستان میں مصدقہ اعداد و شمار تودستیاب نہیں لیکن ایران میں اس موضوع پر تحقیق ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں واضح ہوا ہے کہ کورونا سے متاثرہ خواتین میں قبل از وقت بچوں کی پیدائش، ماں کے پیٹ کے اندر بچوں کی موت اور آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح بڑھ گئی ہے۔

نازلی حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں محدود پیمانے پر جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق زچگی کے دوران متاثرہ خواتین میں کورونا کی پیچیدگیوں کے باعث موت کی شرح آٹھ فیصد ہیں اسے روکنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گائنی وارڈز میں مریض کے ساتھ ڈاکٹر بھی سب سے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے پاس بہت کم وقت ہوتا ہے ، پی سی آر کی رپورٹ کا انتظار نہیں کیا جاسکتا ، ڈاکٹر کو فوری اپنے فرائض سرانجام دینے ہوتے ہیں ڈاکٹرز کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کورونا ویکسین لگوانے کے باوجود حفاظتی لباس اور احتیاط لازمی ہے۔

پروفیسر سارہ قاضی کا کہنا تھا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے آ گہی پروگرام کا مقصد لوگوں زندگی کے تحفظ کا شعور پیدا کرنا ہے۔