- الإعلانات -

ڈیلٹا کرونا کے لیے ویکسین لگوانے والے اور نہ لگوانے والے دونوں برابر

کرونا وائرس کی قسم ڈیلٹا دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے اور اب ایک تحقیق نے اس کی مزید تصدیق کردی ہے۔ ویکسین استعمال کرنے کے بعد اگر کسی فرد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کے لیے بریک تھرو انفیکشن کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، اب امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد اگر بیماری کے شکار ہوتے ہیں تو ان کے جسم میں وائرس کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی ویکسنیشن نہ کرانے والے لوگوں میں ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ویکسین کے بعد بریک تھرو انفیکشن کے شکار افراد بھی وائرس کو آگے دیگر افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کی جانب سے جاری تحقیق میں کہا گیا کہ امریکا میں کرونا کی قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ میں تیزی اور نئے نتائج کو دیکھتے ہوئے ہی چار دیواری کے اندر ایک بار پھر فیس ماسک کے استعمال کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ویکسی نیشن کے بعد کرونا وائرس کی پرانی اقسام سے بیماری کے شکار افراد میں وائرل لوڈ بہت کم ہوتا ہے اور وہ اسے دیگر افراد تک منتقل نہیں کرسکتے، مگر نئے ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیلٹا قسم سے متاثر افراد میں ایسا نہیں ہوتا اور ان میں وائرل لوڈ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں امریکی ریاست میساچوسٹس میں مکمل ویکسین یشن کرانے والے افراد میں کووڈ کی تشخیص کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا تھا۔

میساچوسٹس کے سیاحتی مقام کیپ کوڈ میں 900 سے زیادہ کیسز سامنے آچکے ہیں، جن میں سے تین چوتھائی ایسے افراد تھے جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔ امریکا کی بیشتر ریاستوں کی طرح میساچوسٹس میں بھی مئی کے آخر میں کووڈ پابندیوں کو ختم کردیا گیا تھا۔ تحقیق کے نتائج اس وقت سامنے آئے جب سی ڈی سی کی ایک لیک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کورونا کی ڈیلٹا قسم چکن پاکس کی طرح تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سی ڈی سی کی مذکورہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈیلٹا کی قسم سب سے زیادہ متعدی ہے جو چکن پاکس یا خسرے کی طرح پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس سے متاثرہ شخص متعدد افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیلٹا قسم سے متاثر ہونے والے کوئی بھی شخص آرام سے دیگر 8 افراد کو متاثر کر سکتا ہے اور اس وائرس کی خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی علامات بھی تیز نہیں ہوتیں اور معمولی سے نزلے، زکام اور سردی سے بھی اس وائرس میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔