- الإعلانات -

علم کسی کی میراث نہیں، ذہانت نے غربت کو ہرا دیا

ملتان میں درزی کی بیٹی نے تیسری پوزیشن ، گوجرانوالہ میں رکشہ ڈرائیور کی بیٹی نے دوسری پوزیشن جبکہ لاہور میں عظمی نے آرٹس گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اس کی والدہ گھروں میں کام کرتی ہیں

لاہور محنت نے غربت کو مات کر دیا ، وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی غریبوں کے بچوں کو لاہور بورڈ میٹرک امتحانات میں پوزیشنیں لینے سے نہ روک سکی ، بچوں نے ثابت کر دیا کہ ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے۔

میٹرک کے امتحانات میں دو لاکھ 14 ہزار 711 امیدواروں نے شرکت کی جس میں سے ایک لاکھ 53 ہزار 478 نے کامیابی حاصل کی ۔ تعلیمی میدان میں سب سے اہم سنگ میل عبور کرنے والوں میں عظمی وارث نے اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ گردوں کے مرض میں مبتلا وارث مسیح اور گھروں میں محنت مزدوری کرنے والی مجیداں کی عظمی نے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان میں شامل ہو کر ایک ہزار 45 نمبر حاصل کر کے آرٹس گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ عظمی کی محنت کش ماں کو بیٹی کی کامیابی پر ناز ہے ۔

نین سکھ کے رہایشی اللہ دتہ نے لڑکوں کے آّرٹس گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور اپنے ریڑھی بان والد کو اچھے مستقبل کی نوید دی ۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بیٹے کی کامیابی پر اللہ دتہ کے والد کا سر بھی فخر سے بلند ہوا ۔

لاہور بورڈ کےمیٹرک امتحانات میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن رانا عمر فرمان دوسری محمد شایان جبکہ تیسری پوزیشن سید مومن علی اور حسنین مشتاق نے حاصل کی ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے پوزیشن ہولڈرز کو لیپ ٹاپ ، میڈلز اور سرٹیفکیٹ ملے ۔ جبکہ عظمی وارث کے بیمار والد کے علاج کا بھی اعلان کیا گیا ۔

ملتان بورڈ آرٹس گروپ میں سمیعہ فیض نے 1022 نمبروں کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ سمعیہ کے والد درزی کا کام کرتے ہیں ۔

گوجرانوالہ میں آرٹس گروپ میں سدرہ نور نے دوسری پوزیشن لی ، سدرہ نور کے والد چنگ چی رکشہ چلاتے ہیں ۔

ذہین طلبا نے اپنے عزم سے غربت کو چاروں شانے چت کر کے سب کو محنت میں عظمت کا پیغام دے دیا