- الإعلانات -

جانئے، رنگوں سے علاج اور اس کے حیرت انگیز اثرات

کروموتھراپیایک قدیم قسم کی تھراپی ہے جو رنگوں کا استعمال جسم کی توانائی کو متوازن کرنے اور جسمانی ، جذباتی ، ذہنی اور روحانی تندرستی حاصل کرنے ، ان رنگوں کی تعدد کے مطابق ڈھالنے اور جسم کے کمپن کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ” گڈ مارننگ پاکستان” میں اس طریقہ علاج پر سیر حاصل گفتگو ہوئی، جہاں سید گل محمد کلر تھراپسٹ نے قدیمی طریقہ علاج کے استعمال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

کلر تھراپسٹ نے بتایا کہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کے لئے ہم ان کلر مارکر کا استعمال کرتے ہیں اور مریض کے جسم کے مختلف حصوں پر نشان لگاکر اس کا علاج کرتے ہیں۔

اس طریقہ علاج کا نتیجہ حیران کن ہے، بعض بیماریوں کا علاج منٹوں میں ہی ہوجاتا ہے یاپھر 50 فیصد بہتر ہوجاتا ہے، خاص طور پر کمردرد، شدید درد، انگلیوں اور ہاتھوں میں درد وغیرہ۔

سید گل محمد کلر تھراپسٹ نے انتہائی اہم نقطہ بیان کیا کہ جیسے ہمارے ماحول میں رینبو کلر (سات رنگ) موجود ہیں بالکل اسی طرح یہ رنگ ہمارے جسم میں بھی موجود ہوتے ہیں انہیں رنگوں کے ڈیفینشی کے باعث ہمیں بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، کلر تھراپی کا مقصد ان کو بیلنس کرنا ہے جس کے باعث چیزیں بہتر ہونے لگتی ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سید گل محمد نے بتایا کہ اگر کسی بھی شخص کو تیزابیت کی شکایت ہو تو اسے ہم گرین کلر سے ٹریٹ کرتے ہیں، اس میں ہارٹ برن کے مریض بھی شامل ہیں۔

طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اس اعضا پر گرین کلر کا استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث اس بیماری کی وجوہات کم ہوجاتی ہیں،ا سی طرح انہوں نے خواتین میں پائے جانے والے عام (ایڑیوں میں درد) سے متعلق بتایا کہ اس درد میں دو قسم کی کلر تھراپی کی جاتی ہے، کیونکہ اس کی دو بڑی وجہ ہے پہلی یہ کہ آپ کے گردے میں حرارت بڑھ گئی یا پھر گردے پر ٹھنڈ کا اثر ہوا ہے، حرارت بڑھنے پر گرین کلر سے تھراپی کی جاتی ہے۔

کیا بلڈ پریشر کے لئے کلر تھراپی معاون ہے؟

پروگرام کے میزبان نے سوال کیا کہ کلر تھراپی سی بلڈ پریشر کا علاج کیا جاسکتا ہے؟ جس پر سید گل محمد کا کہنا تھا کہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے کلر تھراپی کی مدد سے کچھ پوائنٹس بنائے جاتے ہیں جو اس موذی مرض کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

دوران گفتگو میزبان نے سید علی محمد کے ہاتھوں پر لگے سیاہ نشانات سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہاتھوں کے پچھلی جانب کالے نشانات لگانے سے آپ کو کوئی بھی وائرل انفکیشن متاثر نہیں کرتا ، انہوں نے بڑا دعویٰ کیا کہ اس طریقہ استعمال سے آپ کرونا وائرس سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔