- الإعلانات -

خالی دماغ شیطان کا گھر نہیں ہوتا،نئی تحقیق

گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح کا تصور دوستوں ، ہمجولیوں یا پھر ان افراد کے ساتھ سے نتھی ہوتا ہے جن کی محفل میں ہم لطف اٹھاتے ہیں لیکن ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ کبھی کبھار تنہا وقت گزارنا بھی مفید ہوتا ہے۔ یہاں تنہا وقت گزارنے سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ جس وقت آپ فارغ ہوں تو اپنے کمرے کی کھڑکی سے تنہا کھڑے ہوکے باہر جھانکیں یا پھر چھٹی کا دن بستر میں تنہا کروٹیں بدلتے گزار دیں بلکہ اس سے مراد ان سرگرمیوں میں تنہا حصہ لینا ہے جن میں عام طور پر یہ سوچ کے حصہ نہیں لیا جاتا ہے کہ ان میں دوستوں کے بغیر کیسا مزہ؟ ”امپرفیکٹ سپریچوئیلٹی“ کی مصنفہ پولی کیمپبیل نے اس موضوع پر ایک تحقیق کی ہے اور پہلے سے دستیاب تحقیقات کے تجزئیے سے ثابت کیا ہے کہ دراصل تنہا وقت گزارنے میں کوئی ہرج نہیں ہے اور یہ انسان کے اندر کا خوف ہوتا ہے جو کہ اسے تنہا ہونے سے روک دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مارکیٹنگ کی پروفیسر ربیکا ریٹنر اور ربیکا ہملٹن نے ایک سروے میں یہ جانا تھا کہ لوگوں نے تنہا گھوم پھر کے زیادہ لطف اٹھایا تاہم ان کیلئے اصل مسئلہ یہ تھا کہ دوسرے ان کی جانب دیکھ کے کیا سوچتے ہوں گے۔ علم نفسیات اس خیال کو ”سپاٹ لائٹ افیکٹ“ کا نام دیتا ہے جس کی وجہ سے ہر فرد یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ دوسرے ہمیں دیکھ کے کیا سوچتے ہوں گے۔ یہ خیال ہماری حرکات و سکنات کو بھی متاثر کرتا ہے اور ہمارے افعال بھی اسی سوچ کے طابع ہوجاتے ہیں۔ اسی موضوع پر ٹامس گلووچ نے بھی ایک تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ سپاٹ لائٹ افیکٹ کی وجہ سے اکثریت تفریح کے وہ مواقع گنوادیتی ہے جن سے وہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، انسانی ذہن یہ مفروضہ باندھ لیتا ہے کہ دوسرے ہمیں تنہا تفریح کرتا دیکھ کے یہ سوچیں گے کہ شائد ہمارا ساتھ دینے کیلئے کوئی نہیں ہے، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، دوسروں کے پاس ہمارے بارے میں سوچنے کیلئے کوئی وقت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے لاشعور کی بنیاد پر خود کو تنہا کرنے سے مت گھبرائیں بلکہ جب بھی موقع ملے، اس تنہائی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور گھومیں پھریں، تفریح کریں، ان جگہوں پر جائیں جہاں آپ کبھی جایا کرتی تھیں اور وہ کھانے کھائیں جن کا لطف آج بھی آپ کے منہ میں پانی لے آتا ہے۔