- الإعلانات -

مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں.نئی تحقیق

لاہور: ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔تقریبا ڈیرھ لاکھ افراد پر کی گئی 26 تحقیق کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد اپنی غذا میں مچھلی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ مچھلی میں موجود چربی کی ایک خاص قسم (فیٹی ایسڈ) کا ہونا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ذہنی صحت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے ، مائنڈ کے مطابق یہ تحقیق انسان کی غذا اوراس کے مزاج پر کی جانے والی دیگر تحقیق میں مدد دے گی۔وبائی امراض اور سماجی صحت کے جرنل میں چینی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کے استعمال اور ڈپریشن پر اس سے پہلے بھی بہت سی تحقیق کی جا چکی ہے، لیکن ان کے نتائج واضح نہیں تھے۔جب انھوں نے مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ مچھلی کھانے کے مثبت اثرات پر یورپ میں تو بہت تحقیق کی گئی ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں ابھی اس پر کام ہونا باقی ہے۔ اس پہلے سے کی گئی تحقیق سے کوئی ایک نتیجہ اخذ کرنا متنازعہ ہوسکتا تھا، اس لیے انھوں نے سنہ 2001 میں کی گئی ان تمام متعلقہ تحقیقات کے اعدادوشمار کو جمع کر کے کچھ نئے نتائج دریافت کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے حساب سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے استعمال اور ذہنی صحت کا ایک اہم تعلق ہے اور اس کے اثرات مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہوتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کی یہ نتائج ان اثرات کی وجہ سے حتمیٰ نہیں ہے، لیکن اس سے بہت سی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں کہ آخر کیوں مچھلی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے؟ایک ممکنہ توجیہ یہ ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری دماغ میں موجود دو ڈوپامائن اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادوں کی فعالیت میں اہم کردار اد کرتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ڈپریشن کے مرض سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔