- الإعلانات -

بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کو درپیش مشکلات.

عام طور پر لوگ دائیں ہاتھ سے تمام کام کرتے ہیں اور اس ہاتھ میں بائیں کے مقابلے میں طاقت بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن دنیا میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کا بایاں ہاتھ دائیں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور وہ ہر کام اسی سے کرتے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لکھنے میں مشکل: عام طور پر دائیں ہاتھ سے لکھنے والوں کو زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن جب انہیں لکھائی اسپائرل قسم کی کاپی پر کرنا پڑے تو انہیں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ انہیں اس پر لکھتے وقت اپنے ہاتھ کو اسٹیل اسپائرل پر رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کی لکھائی کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جو ٹیچرز بائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں وہ بورڈ کے دائیں جانب کھڑے ہوتے ہیں جس سے وہ طلبا پر نظر نہیں رکھ پاتا۔ گٹار بجانے میں مشکل: عام طور پر بنائے گئے گیٹار کی ساخت سیدھے ہاتھ والوں کے لیے مناسب ہوتی ہے لیکن جب بائیں ہاتھ والا یہی گٹار استعمال کرتا ہے تو اسے بایاں ہاتھ استعمال کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور مجبوری میں سیدھا ہاتھ استعمال کرتا ہے جس سے وہ جلدی تھک جاتا ہے۔ اشیا کا استعمال: عام طور پر بال پین، ناپنے والا ٹیپ، گھڑیاں اور یہاں تک کہ گیمز کھیلنے والا کونسول اپنی ساخت کے اعتبار سے صرف دائیں ہاتھ والوں کے لیے بنایا جاتا ہے اور جب بائیں ہاتھ والا اسے استعمال کرتا ہے تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بال پین اسی وقت زیادہ بہتر کام کرتا ہے جب اسے بائیں سے دائیں جانب لکھا جائے لیکن جب بائیں ہاتھ والا اسے استعمال کرتا ہے تو بال پین کی سیاہی کا فلو کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ناپنے والی ٹیپ بائیں ہاتھ والوں کے لیے اوپر سے نیچے کی جانب نظر آتی ہے جب کہ اینا لاگ گھڑیوں پر وقت دیکھنے میں بائیں ہاتھ والوں کو مشکل پیش آتی ہے۔ گیمزکونسول کی اکثر کیزدائیں جانب ہوتی ہیں جو بائیں ہاتھ والوں کومجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ہاتھ کو استعمال کریں۔ قینچی کا استعمال: قینچی کا بائیں ہاتھ سے استعمال انتہائی مشکل ہوتا ہے جب کہ اس کے دونوں بلیڈ اس طرح بنے ہوتے ہیں کہ اسے صرف دائیں ہاتھ والا ہی استعمال کرسکتا ہے۔ ٹن اوپنر: کسی ٹن کو کھولنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹین اوپنر کی ساخت بھی ایسی ہے کہ جو صرف دائیں ہاتھ والا ہی استعمال کرسکتا ہے جب کہ بائیں ہاتھ والا شخص سیدھا ہاتھ استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسکول میں ڈیسک: دنیا بھر کے کم و بیش سب ہی اسکولوں میں بنائے گئے ڈیسک کا بازو دائیں طرف ہوتا ہے جس پر کاپی رکھ کر دائیں ہاتھ والے بآسانی لکھ سکتے ہیں لیکن بائیں ہاتھ والوں کو ان پر کاپی ہر لکھنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی لیے ان کی لکھائی متاثر ہوتی ہے۔ سوشل اقدار کو ادا کرنے میں پریشانی: دنیا کے اکثر مذاہب میں کھانے اور ہاتھ ملانے کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بائیں ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں جنہیں معاشرے میں لوگ بری نظروں سے دیکھتے ہیں لیکن یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کی امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون دونوں ہی لیفٹی ہیں۔ بٹن لگانا: بٹن سیدھے ہاتھ سے لگائے جاتے ہیں اور جب یہی بٹن بائیں ہاتھ والا لگانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے