- الإعلانات -

کانگو وائرس: علامات اور احتیاطی تدابیر

عید الاضحیٰ کی آمد قریب آتے ہی گانگو وائرس نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ اب تک کوئٹہ میں 2 افراد کانگو وائرس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رواں سال بلوچستان میں کانگو وائرس کے 56 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 13 مریض دم توڑ چکے ہیں۔

کانگو وائرس کوئی نئی بیماری نہیں۔ پاکستان میں سال 2002 میں کانگو وائرس سے ایک لیڈی ڈاکٹر اور 4 بچوں سمیت 7 افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کانگو نامی کیڑا بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد پر پایا جاتا ہے جو جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے انسان کو کٹ لگ جائے تو اس بات کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ یہ وائرس انسان میں منتقل ہوجائے۔

اس کیڑے کے کاٹنے کے بعد وائرس انسانی جسم میں داخل ہوکر تیزی سے سرایت کرجاتا ہے جس کے باعث متاثرہ شخص پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں۔ بعد ازاں جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مریض موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔

کانگو وائرس کی علامات:

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اسے سر درد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اور آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔

تیز بخار سے جسم میں سفید خلیوں کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ شخص کے جسم کے مختلف حصوں سے خون نکلنے لگتا ہے، جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر اس مرض کا بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ شخص صحت مند ہوسکتا ہے تاہم علاج کے لیے پابندی ضروری ہوگی۔

احتیاطی تدابیر:

کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑا مشکل ہے کیوں کہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے۔

کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں۔

مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔

مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔

لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں۔

مویشی منڈی میں بچوں کو نہ لے جایا جائے۔

مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلہ سے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہیں۔

کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستین والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کو کاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

جانوروں کی نقل و حمل کے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں۔ خصوصاً مذبح خانوں، قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں۔

مذبح خانوں میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشاندہی کر سکیں۔

مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔