- الإعلانات -

ذیابیطس، بڑھاپے اور ذہنی کمزوری کو بڑھاوا دیتی ہے

نیویارک: ای لائف نامی تحقیقی جرنل میں کہا گیا ہے کہ ذیابیطس کا مرض نہ صرف بڑھاپے کو تیز رفتار کرتا ہے بلکہ دماغی عمر رسیدگی کو بھی پر لگا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے حملے کو با آسانی روکا جاسکتا ہے اور یوں کئی جسمانی امراض سے بچنا بھی ممکن ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس عمر رسیدگی سے ہونے والے بڑھاپے کی کیفیت کو 26 فیصد تک بڑھا سکتی ہے یا اس عمل کو تیز کرسکتی ہے۔

ہمارا دماغ غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہے، اس میں عملی یادداش، سیکھنے، اکتساتب، خود پر قابو، اور لچکدار فکر جیسی خاصیت ہوتی ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ ساتھ ان تمام افعال میں زوال آتا ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں میں دماغی پروسیسنگ اور دیگر امور میں 7 سے 13 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کئی طرح کے دماغی انحطاط بڑھا سکتی ہے۔ اس کے بعد ماہرین نے تندرست اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کے دماغی ایم آر آئی اسکین لیے اور ان پر غور کیا۔ معلوم ہوا کہ دماغ میں سوچ اور فکر سے وابستہ گرے میٹر ذیابیطس کے شکار مریضوں میں دیگر افراد کے مقابلے میں 13 فیصد تک کم ہوا۔ اس تحقیق میں صحت مند اور بیمار دونوں افراد کی عمریں یکساں تھیں۔

یوں اعصابی زوال (نیوروڈی جنریشن) اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان ایک واضح تعلق سامنے آیا ہے۔ پھر یہ مریض جتنا پرانا ہوگا اس کا اثر بھی اتنا ہی ہوگا۔ مجموعی طور پر ذیابیطس دماغی بڑھاپے کو 26 فیصد تیز کر دیتی ہے۔ یہ تحقیق اسٹونی بروک یونیورسٹی کی ڈاکٹر لیلیان موجیکا پاروڈی اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذیابیطس دماغ کو طبعی اور ساختی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے قبل کی تحقیقات بھی یہی کچھ ثابت کرتی ہیں اور اب اس کے مزید ثبوت ملے ہیں۔

ماہرین نے اگلے مرحلے میں مزید بایومارکر پر غور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں معالجاتی طریقہ کار وضع کرنا ہوں گے۔