- الإعلانات -

ناقابلِ علاج سرطانی رسولیاں تباہ کرنے والا نیا مالیکیول دریافت

ٹیکساس: اگرچہ سرطان کی کئی اقسام ہیں جن میں سے کچھ اب بھی دائرہ علاج سے باہر ہیں۔ اب ڈیلاس میں واقع ٹیکساس یونیورسٹی سے وابستہ سائنسدانوں نے ایک بالکل نیا مالیکیول دریافت کیا ہے جو کئی طرح کے ایسے سرطان کا علاج کرسکتا ہے جو کسی طرح بھی دائرہ علاج میں نہیں آتے۔ نیچر کینسر میں شائع رپورٹ کے مطابق نیا سالمہ (مالیکیول) کئی طرح کی انتہائی لاعلاج سرطانی رسولیوں کو تیزی سے تلف کرتا ہے جن میں ٹرپل نگیٹیوو بریسٹ کینسر بھی شامل ہے۔ تاہم یہ تحقیق تجربہ گاہ میں رکھے انسانی سرطانی خلیات اور سرطان میں مبتلا چوہوں پر کی گئی ہے۔

شعبہ بایوکیمسٹری سے وابستہ ڈاکٹر جونگ مو آہن اور ان کے ساتھیوں نے کئی طرح کے مالیکیول ڈیزائن کرکے انہیں آزمایا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ’اسٹرکچر بیسڈ ریشنل ڈرگ ڈیزائن‘ کہلاتی ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر جونگ بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ کینسر تباہ کرنے والے مالیکیول بھی بنا چکے ہیں۔ اس مالیکیول کو ای آر ایکس 41 کا نام دیا گیا ہے جو بالخصوص بریسٹ کینسر کی ایک قسم ٹرپل نگیٹو چھاتی کے سرطان (ٹی این بی سی) کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ کمپاؤنڈ (مرکب) تندرست خلیات کو چھوڑ دیتا ہے بلکہ سرطانی خلیات کو صاف کرتا ہے خواہ وہ کسی بھی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹرپل نگیٹو بریسٹ کینسر کا بھی دشمن ہے۔

تجرباتی طور پر چوہوں اور چوہیوں میں انسانی سرطان متعارف کرایا گیا جس کے سرطانی پھوڑوں کو ای آر ایکس 41 کی بدولت چھوٹا ہوتے دیکھا گیا ہے اور اس کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔ اگلے مرحلے میں ای آر ایکس 41 کے مزید تجربات کیے جائیں گے۔