- الإعلانات -

خوشگوار اور طویل زندگی کے لئے چند آسان نسخے.

کراچی: چند اہم سماجی رویوں کو اپنا کر زندگی کو خوشگوار اور طویل بنایا جاسکتا ہے، ماہرین کے مطابق غذا اور ورزش سے ہٹ کر بھی بہت سے ایسے امور ہیں جو زندگی کو صحت بھرا رنگ دے کر طویل زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ شادی کا بندھن: نفسیات دانوں کے مطابق رشتہ اذدواج میں منسلک ہونے کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طویل عمر کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریکِ حیات کی مدد سے زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہےاور پھر اولاد کی وجہ سے عملی جدہوجہد کا ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں ڈیوک یونیورسٹی نے 4,802 افراد کے مطالعے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ شادی شدہ افراد میں وقت سے پہلے اموات کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور ان میں دل کے دورے اور اسٹروک کے امکانات بھی 20 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں ، اسی لیے جیون ساتھی کی ساتھ آپ کی طویل زندگی کی وجہ بن سکتا ہے۔ ذہنی تناؤ سے دور رہیں: 2015 میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، سان فرانسسکو کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو خواتین بات بات پراداسی اور ذہنی دباؤ کی شکار ہوتی ہیں ان میں کلوتھو ہارمون کی سطح کم ہوجاتی ہے جو دل و دماغ پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور بیماریوں کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اداس رہنے والے افراد میں دل کے دورے کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی لیے ذہنی تناؤ کو خیرباد کہہ کر نئی خوشیوں بھری زندگی شروع کیجئے ۔ دوست بنائیے اور خوش رہیے: حال ہی میں بِرگھم ینگ یونیورسٹی میں کئے گئے ایک سروے کے بعد انکشاف ہوا کہ دوستوں سے بات کرنے اور محفل میں بیٹھنے سے جسم پر ویسے ہی اثرات ہوتے ہیں جو درد دور کرنے والی دواؤں سے ہوتےہیں۔ الگ تھلگ رہنے والے افراد کو بیماریوں کا اتنا ہی خطرہ رہتا ہے جتنا بہت موٹے افراد کو ہوتا ہے، دوستوں میں بیٹھنے اور بات چیت کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں۔ سفید سلائس سے پرہیز: جو، رائی اور مکمل گندم کا استعمال جاری رکھیے اور سفید سلائس (روٹی) کے مقابلے میں ان کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس میں پولی فینولز اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو قبل ازوقت موت کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کرتے ہیں۔ اپنی غذا میں ان اشیا کا استعمال امراضِ قلب، ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔ باقاعدگی سے جاگنگ: امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے مطابق ہفتے میں 60 سے 144 منٹ تک دوڑنے سے دل اور صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے مطابق 12 سال تک 10 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا جو لوگ جتنی دیر تک دوڑے انہیں اتنا ہی فائدہ ہوا، دوڑنے سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور دل پر اس ک بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ زندگی کو بامقصد بنائیے: ذرا سوچیے کہ آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ اگر نہیں ہے تو اس مقصد کو تلاش کیجیے، تحقیقی جرنل لینسٹ کے مطابق 9 ہزار افراد کو شریک کرکے ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا،جن لوگوں کی زندگی بامعنی تھی وہ اوسط دوسرے لوگوں کے مقابلے میں 8 سال تک ذیادہ جیے۔ اس کی وجہ یہ ہے بامقصد زندگی آپ کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے اور اس کے دل و دماغ پر بہت مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر وقت پرامید رہنے والے افراد بھی طویل عمر پاتے ہیں۔ موٹاپے کو دور رکھیے موٹاپا کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ جن افراد کا باڈی ماس انڈیکس ( بی ایم آئی) 35 یا اس سے ذیادہ ہو ان میں دیگر کے مقابلے میں قبل ازوقت موت کا خدشہ 29 فیصد ذیادہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سینکڑوں مرتبہ تحقیق کی جاچکی ہے کہ فربہی بیماری کا دوسرا نام ہے۔ موٹاپا بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بنتا ہے۔ اپنی نیند پر نظر رکھیے: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان دیاگو اور امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق بہتر نیند طویل عمری کی ضمانت ہے۔ نیند کی کمی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تباہی کی وجہ بنتی ہے اور اسی لیے 7 گھنٹوں کی اوسط نیند نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح 8 گھنٹے سے زائد نیند بھی نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک ہفتے کی کم نیند بھی انسانی جسم اور دماغ کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔ غذا میں مچھلی کا استعمال: مچھلی میں دیگر اہم اجزا کے ساتھ ساتھ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی موجود ہوتے ہیں اوریہ زندگی کو طویل رکھتے ہیں، ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اومیگا تھری فیٹٰی ایسڈ کے استعمال سے قبل ازوقت اموات میں 27 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے یہاں تک کہ امراضِ قلب میں 35 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کھانے سے پورے جسم پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتےہیں۔