- الإعلانات -

اسمارٹ فون کے استعمال سے منفی اثرات تیزی سے سامنے آرہے ہیں.

لندن:  جیسے جیسے اسمارٹ فون کا استعمال بڑھ رہا ہے اس کے منفی اثرات بھی تیزی سے سامنے آرہے ہیں جس میں انسانی اخلاقیات سے لے کر جسمانی صحت تک سب ہی کچھ متاثرہورہا ہے اوراب ایک نئی تحقیق میں خبردارکیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کا زیادہ اورمسلسل استعمال انسانی دماغی کی صلاحیتوں کوتباہ کر رہا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر تیسرا شخص دن میں 25 بار اس کا استعمال کرتا ہے جب کہ ہر 10 میں سے ایک شخص سو کراٹھنے کے فوری بعد سب سے پہلے اسمارٹ فون کا استعمال کرتا ہے جو ہمارے ذہنوں کو تباہ کر رہا ہے اور توجہ اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیتوں کو ختم کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر تحقیق ’’انٹرنیٹ کس طرح ہمارے دماغ کوتبدیل کر رہا ہے‘‘ کے بانی نکولیس کرکا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ڈیوائسز مستقبل میں ہمارے ذہنوں میں بننے والی سوچوں کے پیٹرن کو تبدیل کر کے اس کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس دان اور ماہرین نفسیات خبردار کرچکے ہیں کہ سوچ کے پیٹرن کا تبدیل ہونا ہمارے سوچ کے زاویے تبدیل کردیتا ہے اور کسی چیز پر کچھ دیر تک توجہ اور گہرائی سے سوچنے کے عمل کو بالکل ہی کم کردیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب دن بھر اتنا کچھ مواد آرہا ہو تو پھر سوچ ایک چیز پر مستقل نہیں رہتی اور توجہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ نکولس کا انٹر نیٹ کے دماغ پر ہونے والے مزید منفی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ساتھ مستقل جڑے رہنے کے منفی اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنا لوگ سوچتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر آپ مستقل انٹرنیٹ سے جڑے رہیں اور نئی معلومات حاصل کرتے رہیں تو ابتدائی طور پر آپ ان معلومات کو اپنے دماغ اور شعور میں ڈالتے جاتے ہیں لیکن اسے دماغ اس طرح ہینڈل نہیں کرپاتا جس طرح ایک نارمل طریقے سے کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹرینڈ یوں ہی چلتا رہا تو وہ وقت آنے والا ہے کہ جب لوگ دن میں 200 بار اسمارٹ فون کا استعمال کریں گے۔