- الإعلانات -

ہومیو پیتھی طریقہ علاج فائدہ مند نہیں، تحقیق

دنیا کے بیشتر حصوں میں امراض کے علاج کے لیے لوگ ہومیو پیتھی طریقہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں مگر یہ بیماریوں سے نجات کے لیے موثر نہیں۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

لندن یونیورسٹی کے رائل ویٹرنری کالج کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہومیو پیتھی درحقیقت عطائی طریقہ علاج ہے جو ذہن کو دھوکا دینے پر انحصار کرتا ہے اور جانوروں پر ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہونے والی اہم طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ کسی بھی ریسرچ میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ہومیو پیتھی فائدہ مند ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ ہومیو پیتھی سے جسم پر کوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کوئی فائدہ ہوتا ہے بلکہ ان کی وجہ سے ادویات کا استعمال ترک کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہومیو پیتھی عطائی طریقہ علاج ہے اور اس کا طویل عرصے تک علاج امراض کو سنگین اور زندگی کو مختصر کرسکتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کی بونڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ طریقہ علاج 68 میں سے کسی بیماری کے علاج میں موثر ثابت نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق یہ ‘ متنازعہ’ طریقہ علاج فرسودہ ہوچکا ہے اور کسی بھی طرح امراض سے نجات کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے ہومیو پیتھی کے حوالے سے 176 ٹرائلز کا جائزہ لیا تاکہ جانا جاسکے کہ یہ 68 امراض میں سے کس کے خلاف فائدہ مند طریقہ علاج ہے۔

تحقیق کے مطابق نتائج میں ایسے شوائد سامنے نہیں آسکے جن سے معلوم ہو کہ یہ کسی بھی مرض کے خلاف ادویات جتنا موثر ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے قابل فہم قائل کردینے والے اثرات سامنے نہیں آسکے جن کو دیکھ کر تسلیم کیا جاسکے کہ انسانوں کے لیے ہومیو پیتھی مختلف امراض کے لیے فائدہ مند ہے۔

محققین کے مطابق اس طریقہ علاج سے مریض اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے خاص طور پر اگر وہ دیگر موثر تھراپیز پر ہومیو پیتھی کو ترجیح دے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ ادارے کا اس رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔