- الإعلانات -

پپیتہ قدرت کا انمول تحفہ

پپیتہ کو سنہرے درخت کا پھل کہا جاتاہے۔ یہ قدرت کا ایک ایسا انمول تحفہ ہے جس پر اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ 1977ءمیں لندن کے ایک اسپتال میں پپیتے کو ایک ایسا انفیکشن روکنے کے لیے استعمال کیا گیا جو گردوں کے آپریشن کے بعد لاحق ہوتا تھا۔ اس کے استعمال کے بعد انفیکشن اتنی تیزی سے دور ہوا کہ جیسے کسی جادو نے کمال دکھایا ہو۔ لندن کے تمام اخبارات نے اس کراماتی پھل کے متعلق شہ سرخیاں لگائیں۔ اس کے بعد ہی یورپی لوگوں کو پپیتے کی صحیح اہمیت کا اندازہ ہوا، لیکن برصغیر پاک و ہند میں یہ پھل صدیوں سے مختلف امراض کے خاتمے کے لیے معاون تسلیم کیا جاتا ہے۔ حکمت میں اس کے پھل، چھلکے، بیج اور پتوں سے درجنوں امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ صرف برصغیر پاک و ہند ہی نہیں دنیا کے دیگر خطوں میں بھی یہ پھل قدیم زمانے سے استعمال ہورہا ہے۔جنوبی افریقا کے قدیم باشندے پپیتے کا گودا السر اور زخموں کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مشہور سیاح مارکوپولو نے اسی پھل کی مدد سے اپنے ساتھی ماہی گیروں کی جانیں بچائی تھیں۔ اس کا قصہ کچھ یہ ہے کہ سمندری سفر کے دوران مارکوپولو اور اس کے ساتھ ملاح ایک خطرناک مرض میں مبتلا ہوگئے تھے جس کے سبب ان کو ہڈیوں اور دانتوں کی بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں۔ اس مرض کو دنیا نے بعد میں اسکروی کا نام دیا۔ اس مرض میں ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے اور دانتوں سے خون بہنا بند نہیں ہوتا۔ یہ ہی کچھ حال مارکوپولو کے ساتھیوں کا تھا۔ مارکوپولو نے انھیں کثرت سے پپیتا کھلایا تو وہ حیرت انگیز طور پر صحت یاب ہوگئے۔ بعدازاں تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ بیماری جسے اسکروی (Scurve) کہا جاتا ہے، وٹامن C کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے اور پپیتے میں وٹامنC وافر مقدار میں ہوتاہے۔ جب کرسٹوفر کولمبس نے امریکا دریافت کیا تو وہاں کے وحشیوں کو دیکھ کر اسے تعجب ہوا کیوں کہ وہ لوگ کھانے میں گوشت اور مچھلی زیادہ استعمال کرتے ہیں اس کے باوجود انھیں پیٹ کی کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ اس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ پپیتے کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ قدیم زمانے سے لوگ پپیتے کو زندگی بخشنے والا پھل کہتے ہیں۔واسکوڈی گاما نے اسے سنہرے درخت کا سنہرا پھل قرار دیا ہے۔ ایک تیار پپیتے میں وٹامنAاورC، فولاد، کیلشیم اور پوٹاشیم کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ بالوں اور جلد کو نکھانے کے لیے ازحد مفید، کھانے کے علاوہ اگر اسے چہرے پر لگایا جائے تو جِلد چمکنے لگتی ہے۔ پپیتے میں چند ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو گوشت انڈے اور دودھ کی پروٹین کو زود ہضم بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کچے پپیتے میں ایک مادہ ہوتا ہے جسے Papain کہا جاتا ہے۔ اس مادے کی مدد سے گوشت گلانے کے علاوہ ہاضمے کی دوائیں بنانے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ پپیتے کے بیج بھی دواو¿ں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔یہ پھل گرم آب و ہوا میں پیدا ہوتا ہے اور وافر مقدار میں بھی ہوتا ہے۔ اس لیے انتہائی سستا ہے اس پھل کا استعمال ہر کھانے کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ صحرائی علاقوں میں یہ پھل متعدد میٹھی ڈشز کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے کئی قسم کے فروٹ سلاد وغیرہ بنائے جاسکتے ہیں۔ اس پھل کی صرف ایک چھوٹی سی پھانک آپ کو متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے۔اس پھل میں قدرت نے اتنی غذائیت رکھی ہے کہ اگر انسان اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو ہمیشہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پھل میں چند خصوصیات ایسی ہیں جو انسان میں انوکھی طاقت پیدا کرسکتی ہیں۔ عمر میں اضافہ کرتی ہیں، اس لیے اسے زندگی کا پھل کہا جاتا ہے۔