- الإعلانات -

‘اب اچار سے بے چینی دور’

اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سائنسدانوں نے ایک طریقہ دریافت کرلیا ہے جو ممکنہ طور پر بے چینی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

سائکیاٹری ریسرچ میں شائع ہونے والی 700 طالب علموں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اچار میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جس سے بے چینی ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تو پھر اچار اس سلسلے میں ہماری مدد کس طرح کرتا ہے؟ ریسرچ میں ہاضمے کے نظام اور بے چینی کے درمیان قریبی رابطہ پایا گیا ہے۔

ریسرچ میں پایا گیا کہ اچار کھانے سے سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ تناؤ پیدا کرنے والے ہورمونز کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اچار کھاتے ہی آپ کا تناؤ پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ یہ نسخہ ایک حد تک تو کام کرتا تاہم اگر علامات طویل عرصے تک جاری رہیں تو ماہر نفسیات سے رجوع کیا جائے۔

ریسچر میتھیو ہلیمائر نے بتایا کہ اچار کھانے سے بے چینی کم ہوتی ہے تاہم پوری طرح ختم نہیں ہوتی۔

اس آرٹیکل کی مصنف کہتی ہیں کہ اسے لکھنے کے دوران انہوں نے روزانہ اچار کھانا شروع کیا جس کے ان کے موڈ پر مثبت نتائج مرتب ہوئے۔