صحت

لمبی عمر چاہتے ہیں تو ایک آسان عادت اپنالیں

کیا آپ لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ تو ایک آسان عادت کو فوری اپنالیں جس کے لیے کسی خرچے کی ضرورت نہیں۔

جی ہاں بس تیز رفتاری سے چلنا اپنی عادت بنالینا لمبی زندگی کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لیسٹر یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 2006 سے 2016 کے درمیان اوسطاً 52 سال کی عمر کے 4 لاکھ 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ تیز رفتار سے چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی اوسط عمر 85 سے 88 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں سست رفتاری سے چلنے والے افراد کی اوسط عمر 64 سے 72 سال کے درمیان ہوتی ہیں وہ بھی اس صورت میں اگر وہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی نہ ہوں۔

تحقیق کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے والے چاہے موٹاپے کے شکار ہی کیوں نہ ہوں، ان میں لمبی عمر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مگر ایسا بھی نہیں کہ تیزرفتاری سے چلنے والے افراد کی عمر لمبی ہو مگر محققین کے مطابق چلنے کی رفتار سے کسی فرد کی عام صحت کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے مایو کلینک پروسیڈنگز میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ رمیانی عمر میں لوگ اگر تیز رفتاری سے چلنے کو عادت بنالیں تو وہ فالج یا ہارٹ اٹیک کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

15 سال تک چلنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے چلنے کی اوسط رفتار اگر 3 میل فی گھنٹہ ہو تو مختلف امراض سے موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

خصوصاً فالج یا ہارٹ اٹیک سے موت کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین نے یہ دریافت کیا کہ تیز رفتار سے چلنا ہر عمر کے افراد کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمر کے افراد کی اوسط رفتار 3 سے 4 میل فی گھنٹہ ہو تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ آہستگی سے چلنے والوں کے مقابلے میں 53 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح 2017 میں ایک برطانوی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں کی چلنے کی رفتار سست ہوتی ہے ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ تیز رفتاری یا متوازن رفتار سے چلنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

وہ وجوہات جو پانی کو ہمارے لیے لازمی ثابت کرتی ہیں

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ پانی پینا صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے مگر کیوں ضروری ہے؟

جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند عادات میں سے ایک ہے کیونکہ موسم چاہے سردی کا ہو یا گرمی کا مگر مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت جسم کو ہر وقت ہوتی ہے جس کی کمی کی صورت میں آپ کو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پانی کی بیشتر مقدار مشروبات یا پانی سے ہی حاصل ہوجاتی ہے مگر غذاﺅں کے ذریعے بھی کسی حد تک پانی جسم کو ملتا ہے۔

تو وہ وجوہات جان لیں جو ہمارے جسم کے لیے پانی کو ضروری بناتی ہیں۔

گردوں کے امراض سے تحفظ اور جسم سے کچرے کا اخراج

جسم کو پانی کی ضرورت پسینے، پیشاب اور آنتوں کے افعال کے لیے ہوتی ہے، پسینہ کا خراج جسمانی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ پیشاب کے راستے جسم میں موجود کچرے کا اخراج ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کو موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ گردے کے امراض سے بچاتا ہے۔ درحقیقت پانی کی کمی کے نتیجے میں گردوں کے فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے بچنا بہت آسان ہے یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا، مگر درمیانی عمر میں اکثر افراد پانی کم پینے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لعاب دہن بنانے میں مدد دیتا ہے

پانی لعاب دہن کا مرکزی جز ہوتا ہے، لعاب دہن میں الیکٹرو لائٹس، انزائمے اور دیگر کی کچھ مقدار بھی ہوتی ہے جو ٹھوس غذا کے ٹکڑے کرنے اور منہ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم عام طور پر اس وقت مناسب مقدار میں لعاب دہن بناتا ہے جب پانی کو پیا جائے، مگر کچھ ادویات یا علاج کے نتیجے میں اس کے بننے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔ اگر منہ معمول سے زیادہ خشک ہو اور پانی پینے سے بھی مدد نہ ملے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے

ڈی ہائیڈریشن سے بچنا جسمانی درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پسینے کے اخراج سے جسم پانی سے محروم ہوتا ہے یا گرم موسم میں ایسا ہوتا ہے۔ پسینہ جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے تاہم پانی کی کمی پوری نہ کرنے پر جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے کیونکہ جسم الیکٹرولائٹس اور پازما سے محروم ہوتا ہے۔

ٹشوز، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کو تحفظ

پانی پینے سے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی اور ٹشوز کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے جس سے جسمانی سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے جبکہ جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی کارکردگی بہتر ہوتی ہے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضرورت ہوتا ہے کیونکہ ہائیڈریشن جسمانی مضبوطی، طاقت اور کارکردگی پر اثرات مرتب کرتی ہے۔

قبض سے تحفظ

فائبر والی غذائیں ہی قبض سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پیا جائے کیوکہ تاکہ آنتوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے پانی مل سکے۔ مناسب مقدار میں پانی نہ پینا، میگنیشم اور فائبر کا کم استعمال قبض کا باعث بنتا ہے، اگر آپ قبض کے شکار ہیں تو پانی پینا اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

ہاضمے کے لیے مددگار

کچھ لوگوں کے خیال کے برعکس کھانے سے پہلے، درمیان یا بعد میں پانی پینا جسم کو غذا کو آسانی سے ٹکڑے کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے غذا کو زیادہ موثر طریقے سے جذب کیا جاسکتا ہے۔ ، اسی طرح اکثر پیٹ پھولنے کی شکایت کا سبب بھی پانی سے دوری ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق جو لوگ مناسب مقدار میں پانی پیتے ہیں، ان کی آنتوں کے افعال درست رہتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔

غذائی اجزا کو جذب کرنے کے لیے مددگار

غذا کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ساتھ پانی پینا وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے مددگار

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جسمانی چربی اور پانی پینے سے جسمانی وزن میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے، کھانے سے پہلے پانی کچھ ہفتوں میں جسمانی چربی گھلانے میں مدد دے سکتا ہے۔

بلڈ آکسیجن کی گردش میں بہتری

پانی پورے جسم میں آکسیجن اور ضروری اجزا کو پہنچانے میں مدد دیتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا اس گردش کو بہتر کرتا ہے جس سے مجموعی صحت پر مثبت اثر مرتب ہوتا ہے۔

امراض سے تحفظ

مناسب مقدار میں پانی پینا مخصوص امراض جیسے قبض، گردوں میں پتھری، دمہ، پیشاب کی نالی میں سوزش اور فشار خون سے بچاسکتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

جسم کے تمام خلیات کو اپنے افعال کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، پانی کی کمی کی صورت میں ان کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس سے ہارمونز اور غذائی اجزا کا بہاﺅ ہموار نہیں رہتا، جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی غائب ہوجاتی ہے جبکہ ہر وقت تھکاوٹ کا احساس باری رہتا ہے۔ ویسے کسی انسان کو کتنے گلاس پانی کی ضرورت ہوسکتی ہے، اس کا انحصار تو موسم اور اس کی ضرورت پر ہے مگر عام طور پر طبی ماہرین 6 سے 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

دماغی افعال بہتر کرے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی افعال کو بھی درست طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانی کم پینے سے توجہ مرکوز کرنے، ذہنی ہوشیاری اور مختصر المدت یاداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزاج خوشگوار بنائے

معمولی ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں سب سے پہلے ہمارے مزاج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چڑچڑا پن طاری ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں پانی پینا مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جلد کو جگمگانے میں مدد دے

مناسب مقدار میں پانی پینا جلد کی صحت کو بھی ٹھک رکھتا ہے، جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے جس کو نئے خلیات کے لیے پانی پر انحصار کرنا ہوتا ہے اور یہی سیال جلد کو جگمگانے میں بھی مدد دیتا ہے، اور جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے جلد کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی کمی کی صورت میں بڑھاپا جلد طاری ہوسکتا ہے۔

اس موسم میں یہ مزیدار جوس پینا عادت بنالیں

تربوز ایسا پھل ہے جو لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور اس میں کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز (اے اور سی)، پوٹاشیم جیسے فائدہ اجزا موجود ہوتے ہیں جبکہ چربی اور کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

یہ گرمیوں میں موسم کی شدت سے نجات دلانے کے لیے بہترین پھل مانا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا جوس بھی کتنا فائدہ مند ہوتا ہے؟

تربوز میں پانی کی مقدار 95 فیصد ہوتی ہے اور الیکٹرلائٹس کے ساتھ ساتھ فائبر کی موجودگی بھی اسے صحت کے لیے فائدہ مند بناتی ہے۔

عام طور پر یہ پھل اسی موسم میں دستیاب ہوتا ہے اور اس کا جوس گھر میں بنانا بہت آسان ہوتا ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

دل کو صحت مند رکھے

تربوز میں لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو خون میں گردش کرنے والے مضر صحت فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتا ہے جس سے دل کے ٹشوز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین

چونکہ اس میں پانی اور منرلز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ فیٹ نہ ہونے کے برابر تو اس کا جوس جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین ہے، اس میں موجود الیکٹرلائٹس اور وٹامنز اس مقصد کے حصول میں مدد دیتے ہیں۔

ذہنی تناﺅ دور بھگائے

اس پھل میں وٹامن بی سکس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور جوس کی شکل میں اسے جزو بدن بنانا تھکاوٹ، تناﺅ اور ذہنی بے چینی سے نجات میں مدد دیتا ہے۔

بڑھتی عمر کے اثرات سست کرے

تربوز کے جوس کا ایک بڑا فائدہ عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کی رفتار کو سست کرنا ہے، اس میں موجود لائیکوپین جلد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور درمیانی عمر میں بھی جوانی کے تاثر کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی توانائی میں فوری اضافہ

تربوز کا جوس جسمانی توانائی کو فوری بڑھانے کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں الیکٹرولائٹس، پوٹاشیم، سوڈیم، منرلز اور کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی ہے جو کہ جسم کو ہائیڈریشن فراہم کرنے کے ساتھ توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔

فائبر سے بھرپور

جو پھل فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں وہ نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین ہوتے ہیں جبکہ اس میں موجود پانی کی مقدار زہریلے مواد کو خارج کرنے کے ساتھ قبض کو دور رکھتی ہے۔

جلدی مسائل سے نجات

یہ جوس جلد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور جلد میں موجود اضافی آئل کو خارج کرکے متعدد جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

چہرہ جگمگانے میں مدد دے

یہ جوس قدرتی موئسچرائزر کا کام کرتا ہے جس سے چہرے کی چمک بحال ہوتی ہے۔

جوڑوں کے امراض سے تحفظ

روزانہ ایک گلاس جوس پینے کی عادت مختلف امراض جیسے جوڑوں کے امراض اور دمہ وغیرہ کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

بلڈ پریشر مستحکم رکھے

اس میں موجود پوٹاشیم اور الیکٹرولائٹس بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور دوران خون کو معمول کے مطابق کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

شاخ گوبھی اب سرطان کے خلاف بھی مؤثر ثابت

بوسٹن: ایکسپریس نیوز کے انہی صفحات پر آپ شاخ گوبھی (بروکولی) کےلاتعداد فوائد کے متعلق پڑھ چکے ہیں اور اب اسی جادوئی سبزی میں ایک مرکب دریافت ہوا ہے جو کینسر کو روکنےمیں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

ہفت روزہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع رپورٹ میں بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر کے پروفیسر پیئر پاؤلو پینڈولفی نے ثابت کیا ہے کہ اگر بروکولی میں پائے جانے والے ایک مرکب سے ڈبلیو ڈبلیو پی ون جین کو ہدف بنایا جائے تو اس سے سرطانی رسولیوں کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے ۔ تجربہ گاہوں میں جب جانوروں پر اس کے تجربات کئے گئے تو اس سے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

’ ہم نے کینسر کی تشکیل کا ایک پیچیدہ راستہ دریافت کیا ہے اور اس میں شاخ گوبھی اور دیگر سبزیوں کے ایک اہم مرکب سے نہ صرف رسولی کو ختم کرنے کا راستہ معلوم کیا ہے بلکہ وہ نازک مقام ڈھونڈا ہے جسے نشانہ بناکر کینسر کو لگام دی جاسکتی ہے،‘ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ۔

یہ مرکب جب انسانی کینسر کے خلیات اور چوہوں پر آزمایا گیا تو معلوم معلوم ہوا کہ کینسر پھیلانے میں مدد دینے والا ایک جین ڈبلیو ڈبلیو پی ون بہت چالاکی سے ایک خاص اینزائم خارج کرکے کینسر سے لڑنے والے ایک اور جین پ ٹی ای این کو بھی بے اثر کرتا ہے تاکہ وہ آرام سے کینسر کی تباہی پھیلاسکے۔ ماہرین نے دیکھا کہ بروکولی میں موجود انڈول تھری کاربینول (آئی تھری سی ) نہ صرف پی ٹی ای این کو اپنا کام کرنے دیتے ہیں بلکہ ڈبلیو ڈبلیو پی ون کو بھی لگام ڈالتے ہیں۔

جوانی میں بالوں کی سفیدی کی وجہ یہ تو نہیں؟

بالوں کا سفید ہونا یا بالوں کا قدرتی رنگ ختم ہوکر سفید ہوجانا ایک قدرتی عمل ہے جس کا سامنا عمر بڑھنے کے ساتھ ہر ایک کو ہوتا ہے۔

تاہم اگر بالوں کی رنگت جوانی میں سفید ہوجائے تو یہ جسم میں کسی قسم کی غذائی کمی کی علامت ہوسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر وٹامن بی 12 ہمارے جسم کے لیے ایک بہت ضروری وٹامن ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کو بنانے میں مدد دیتا ہے، ڈی این اے بناتا ہے اور اعصابی نظام کو صحت مند رکھتا ہے۔

اور بالوں میں اچانک نمودار ہونے والی سفیدی جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

اگر بالوں کی سفیدی کے ساتھ اکثر شدید سردرد، کھانے کی خواہش ختم ہوجانے یا ہر وقت تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے تو یہ وٹامن بی 12 کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

عمر کے ساتھ بالوں میں سفیدی بالوں کی جڑوں سے میلانن نامی پروٹین کی بتدریج کمی کا نتجہ ہوتا ہے۔

ویسے 30 سال کی عمر کے بعد بالوں کی سفیدی آنے کا امکان ہر دہائی کے بعد 10 سے 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دیگر وجوہات میں ہارمونز، مختلف کیمیکلز کا استعمال، ماحولیاتی آلودگی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

وٹامن بی 12 کی کمی نہ صرف بالوں کو سفید ہی نہیں کرتی بلکہ ان کا گھنا پن بھی کم کرتی ہے۔

اگر بالوں کی رنگت میں عمر کی تیسری دہائی میں تبدیلی آنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بی 12 کی کمی دنیا بھر میں بہت عام ہے مگر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے۔

اس وٹامن کی کمی کی چند علامات تو اوپر درج ہوچکی ہیں جبکہ دیگر علامات میں خون کی کمی، ذہنی مسائل جیسے دماغی دھند، دائمی درد قابل ذکر ہیں جبکہ الزائمر امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

ویسے وٹامن بی 12 کے ساتھ ساتھ وٹامن بی سکس، وٹامن ڈی یا وٹامن ای کی کمی بھی بالوں میں سفیدی کا باعث بن سکتی ہے۔

بالوں کی سفیدی روکنے میں مددگار ٹوٹکا

یقیناً بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے ہیئر کلر کو استعمال کیا جاسکتا ہے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر یہ بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جو روکھے پن اور بے جان کرسکتے ہیں۔

یہاں آپ لیموں کے عرق اور ناریل کے تیل کا ایک گھریلو ٹوٹکا جان سکیں گے جو بالوں پر جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ نہ صرف بالوں کو چمکدار اور نرم کرتا ہے بلکہ قبل از وقت سفیدی کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

جیسا آپ کو معلوم ہوگا کہ ناریل کا تیل طاقتور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جس میں موجود دیگر اجزاءبالوں کی نشوونما اور مضبوطی میں مدد دیتے ہیں جبکہ اینٹی آکسائیڈنٹس پروٹین کی کمی کرکے بالوں کی سفیدی کو ریورس کرتے ہیں۔

اسی طرح لیموں وٹامن بی، سی اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے جو بالوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کہ طویل عرصے تک بالوں میں سفیدی کی روک تھام کرتا ہے۔

اجزا

تین چائے کے چمچ لیموں کا عرق

50 ملی لیٹر ناریل کا تیل

طریقہ کار

ان دونوں اجزاءکو اچھی طرح مکس کریں اور بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔

اس کے بعد دو سے تین منٹ تک سر کی مالش کریں اور اس مکسچر کو ایک گھنٹے کے لیے لگا رہنے دیں۔

اس کے بعد سر کو معمول کے مطابق شیمپو سے دھولیں۔

ہفتے میں ایک بار اس کو آزمائیں، اس کا نتیجہ آپ کو حیران کردے گا۔

بلڈپریشر کی خاموش علامات اور بچاؤ کی تدابیر

ہوسکتا ہے آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو مگر اس کا معلوم تک نہ ہو ؟

جی ہاں واقعی ہوسکتا ہے آپ اپنے بلڈ پریشر کو معمول پر سمجھ رہے ہو کیونکہ آپ خود کو ٹھیک سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے اس بیماری کے شکار ہونے والے اکثر افراد کو کسی قسم کی جسمانی علامات کا سامنا نہیں ہوتا۔؟

ہر سال اس موذی مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے 17 مئی کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔

درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کی ایسی کوئی علامات نہیں جن سے اس کا پتا چل سکے اور یہ اس وقت دریافت ہوتا ہے جب آپ کی صحت کو نقصان پہنچنا شروع ہوتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق تقریبا 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔

120/80 یا اس سے کم بلڈ پریشر معمول کا ہوتا ہے تاہم اگر یہ 140/90 یا زیادہ ہوتو آپ کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ ہر ایک اس کا شکار ہوسکتا ہے تاہم کچھ مخصوص افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم گزشتہ سال نومبر میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور امریکن کالج آف کارڈیالوجی نے بلڈپریشر ریڈنگ کے حوالے سے نئی گائیڈلائنز جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی انسان کے خون کا دباﺅ 129/79 سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جائے گا۔

یعنی اگر بلڈ پریشر اس نمبر سے زیادہ ہو مگر140/90 سے کم، تو بھی یہ فشار خون کی پہلی اسٹیج تصور کی جائے گی جس کے نتیجے میں طرز زندگی میں تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں جیسے زیادہ ورزش اور غذا میں تبدیلی۔

کس عمر میں بلڈ پریشر چیک کرانا شروع کردیں؟

طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا مرض کسی بھی عمر میں سامنے آسکتا ہے اور اگر کافی عرصے سے بلڈپریشر چیک نہیں کرایا تو ایسا کرلیں۔

یہ خیال کہ ابھی عمر کم ہے اور آپ بلڈپریشر سے محفوظ ہیں تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت موجودہ عہد میں فشار خون کے نوجوان مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور 18 سال کی عمر کے بعد سے ہی سال میں کم از کم ایک بار ضرور بلڈپریشر چیک کرانا عادت بنانا چاہئے۔

یہاں ایسی پانچ خاموش علامات کے بارے میں جانے جو لوگوں میں بلڈ پریشر کا خطرہ ظاہر کرتی ہیں۔

آپ درمیانی عمر یا بوڑھے ہوچکے ہیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

طبی ماہرین کے مطابق ویسے تو بلڈ پریشر کسی بھی عمر میں بڑھ سکتا ہے مگر اس کا خطرہ 40 سال کے بعد تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ آپ گھڑی کو تو پیچھے نہیں کرسکتے مگر اپنے بلڈ پریشر کے چیک اپ کو ضرور معمول بناسکتے ہیں۔ گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنے کا آلہ اب عام ہے اور اسے ضرور رکھنا چاہئے خاص طور پر اگر آپ ڈاکٹروں کا رخ کم کرتے ہو تو۔ اکثر بلڈ پریشر کے مریض ایسے ہوتے ہیں جو اس سے لاعلم ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے پاس جانا نہیں ہوتا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مختلف بیماریوں جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مخصوص طرز زندگی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور بہت زیادہ نمک والی غذا پسند کرتے ہیں تو آپ میں بلڈ پریشر کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ درحقیقت اوپر دیئے گئے تین طرز زندگی آپ کو بلند فشار خون کے سنگین خطرے سے دوچار کردیتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ہر ہفتے 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمیوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کی ملازمت ہی بیٹھ کر کی جانے والی ہے تو بھی کچھ دیر بعد تیز چہل قدمی کا وقفہ لیں۔ اپنی غذا میں نمک کا استعمال کم کردیں اور تمباکو نوشی سے گریز کرنے کی کوشش کریں۔

موٹاپے کے شکار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ موٹاپے کے شکار ہیں تو یہ ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کی توند نکلی ہوئی ہے تو یہ لگ بھگ سوفیصد یقینی ہوجاتا ہے۔ مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ اپنے وزن میں محض پانچ کلو تک کی بھی کمی لے آئے تو اس سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آجاتی ہے۔

خاندان میں بلڈ پریشر کی تاریخ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ کے خاندان میں کبھی کوئی ہائی بلڈ پریشر کا مریض رہ چکا ہے اور یہ آپ کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خاندان میں بلڈ پریشر کا مریض ہو یا کبھی رہا ہو تو یہ ضروری ہے کہ آپ اس کے لیے پہلے سے تیار شروع کردیں اور اپنا چیک اپ کراتے رہے تاکہ وہ زیادہ سنگین مسئلہ نہ بن سکے۔

مختلف امراض میں مبتلا ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ کے اندر کچھ مخصوص امراض جیسے ذیابیطس، گردوں کے امراض، ہائی کولیسٹرول یا تھائی رائیڈ کے امرض کی تشخیص ہوئی ہے تو ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ ان امراض کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات بلڈ پریشر بڑھانے کا بھی باعث بن سکتی ہیں۔

اس مرض کے شکار افراد کے لیے غذا بھی خاص ہوتی ہے خاص طور پر نمک سے گریز کیا جاتا ہے تاہم ایسی خوراک کی کمی نہیں جو منہ کا مزہ بھی برقرار رکھتی ہیں اور بلڈپریشر کو بھی قدرتی طور پر متوازن سطح پر رکھتی ہیں۔

ایسے ہی چند فوڈز کے بارے میں جاننا آپ کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کیلے

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

کیلے پوٹاشیم کے حصول کا قدرتی ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اور اس معدنیات کی کمی جسم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے خاص طور پر پٹھوں اور دل کی دھڑکن پر۔ کیلے نہ صرف پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ اس میں سوڈیم (نمکیات) کی شرح بھی کم ہوتی ہے جو اسے ہائی بلڈپریشر کے شکار افراد کے لیے ایک بہترین پھل یا غذا بناتا ہے۔

دہی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دہی کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے جس کی کمی ہائی بلڈپریشر کا خطرہ بڑھاسکتی ہے۔ دہی میں نمکیات کی مقدار بھی کم ہوتی ہے اور دن بھر میں تین بار کا چھ اونس استعمال فشار خون کی شرح کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس کا مزہ بھی ہر ایک کے دل کو بھاتا ہے۔

دارچینی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

دارچینی بلڈپریشر کو معمول پر لانے میں کرشماتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ کولیسٹرول لیول کو بھی کم کرتی ہے۔ اس مصالحے کو غذا کے ساتھ ساتھ میٹھی ڈشز اور مشروبات میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے بلکہ اپنے ہر کھانے میں اس کو شامل کرنا آپ کی صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

آلو

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

آلوﺅں میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ یہ معدنیاتی عنصر بلڈپریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، مزید یہ کہ آلوﺅں میں نمکیات کی مقدار کم، چربی سے پاک اور فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو اسے کسی بھی وقت کھانے کے لیے مثالی بناتا ہے خاص طور پر انہیں ابال یا پکا کر کھانا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔

مچھلی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مچھلی پروٹین اور وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے اور یہ دونوں بلڈپریشر کی شرح کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ مچھلی میں صحت بخش اومیگا فیٹی ایسڈز بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ دوران خون کولیسٹرول کی شرح کو کم رکھنے کے لیے فائدہ مند عنصر ہے۔

جو کا دلیہ

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جو کا دلیہ بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے ایک مثالی اور مزیدار انتخاب ہے، یہ غذا فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ بلڈپریشر کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، اسے مختلف تازہ پھلوں کے ساتھ بھی استعمال کرکے منہ کا ذائقہ دوبالا کیا جاسکتا ہے۔

لوبیا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

لوبیے کے بیج بھی فشار خون کے مریضوں کے لیے بہترین انتخاب ہے، یہ بیج پروٹین، فائبر اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور انہیں ابال کر بھی تیار کیا جاسکتا ہے، ابالنے کے بعد جب یہ نرم ہوجائیں تو انہیں دیگر سبزیوں میں ڈال کر مزیدار پکوان تیار کیے جاسکتے ہیں جو کہ طبی لحاظ سے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

پالک

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

پالک آئرن، فائبر، وٹامن اے اور سی سے بھرپور سبزی ہے، یہ کیلشیئم کے حصول کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ بلڈپریشر کی شرح کم کرنے والی غذا کے لیے ایک اہم جز ہے۔ اس سبزی سے مختلف طریقوں سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے یعنی اسٹیو، سلاد یا پاستا وغیرہ کے ذریعے بھی۔

چقندر

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نائٹریٹ آکسائیڈ سے بھرپور یہ سبزی خون کی شریانوں کو کشادہ کرکے بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے۔ چقندر بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، اسے آپ مختلف طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں جیسے جوس کی شکل میں، پکا کر یا کچی کھا کر جیسا آپ کو بہتر لگے۔

بادام

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

باداموں کے فوائد بتانے کی ضرورت نہیں، پروٹین، فائبر اور میگنیشم سے بھرپور یہ گری بلڈ پریشر کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ غذا میں میگنیشم کی کمی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے، روزانہ تھوڑے سے بادام کھانے کی عادت صحت مند سطح پر بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیا فروٹ جوسز صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں؟

اگر آپ کو فروٹ جوس پینا بہت پسند ہے تو جان لیں کہ صحت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ یہ سافٹ ڈرنکس سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایموری یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چینی ملے فروٹ جوسز کو بہت زیادہ پینا کسی بھی وجہ مرض کے نتیجے میں جلد موت کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں پہلی بار چینی ملے فروٹ جوسز کا موازنہ سافٹ ڈرنکس سے کیا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ دونوں اقسام کے میٹھے مشروبات جلد موت کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ صرف ایک گلاس اس طرح کے جوس کا پینا تو خطرہ نہیں بڑھاتا مگر اس سے زیادہ مقدار ضرور جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 13 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو دونوں اقسام کے مشروبات پینے کے عادی تھے۔

6 برس تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران 11 سو سے زائد اموات ہوئیں،

محققین نے مختلف عناصر جیسے موٹاپے کو مدنظر رکھ دریافت کیا کہ فروٹ جوسز کا شوق کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 11 فیصد تک بڑھا دیتا ہے بلکہ کچھ افراد میں یہ خطرہ 24 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ میٹھے مشروبات جیسے فروٹ جوسز کا استعمال موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میٹھے مشروبات کے استعمال سے موت کا خطرہ بڑھنے کے پیچھے چند وجوہات ہیں جن میں سے موٹاپا تو بنیادی عنصر ثابت ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ انسولین کی مزاحمت کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

اسی طرح جسمانی ورم اور بلڈ پریشر بھی بڑھتا ہے جبکہ بلڈ شوگر بڑھنے سے ذیابیطس کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ جوسز سے جسم کو وٹامنز اور کچھ فائبر ملتا ہے مگر اس سے زیادہ صحت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لوگ انہیں سافٹ ڈرنکس کا صحت بخش متبادل سمجھتے ہیں مگر ان میں اکثر زیادہ چینی شامل ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔

سندھ کے گاؤں وسایو میں ایڈز کے مرض سے خوف کی فضا قائم

رتوڈیرو: سندھ کے گاؤں وسایو میں سیکڑوں بچوں کے والدین ایچ آئی وی /ایڈز میں مبتلا ہونے کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔

صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کے مضافات میں واقع گاؤں وسایو میں گزشتہ ماہ سے 5 مختلف اسکریننگ رومز میں سے ایک میں موجود خاندان افرا تفری کا شکار تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صحت حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں 400 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی جن میں بچوں کی کثیر تعداد شامل ہے۔

ماہرین نے اکثر اتائی ڈاکٹروں کی جانب سے مضرِ صحت آلات کے استعمال سے ملک بھر میں ایڈز کے شکار مریضوں کی شرح میں خطرناک اضافے سے خبردار کیا ہے ۔

عارضی کلینک میں موجود ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ‘ مریض درجنوں کی تعداد میں آرہے ہیں،مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے علاج کے لیے عملہ اور آلات کی کمی ہیں’۔

اس وبا کا بدترین شکار گاؤں کے غریب افراد غم و غصے میں مبتلا ہیں جسے حکام کی جانب سے مقامی بچوں کے ڈاکٹر کی جانب سے غفلت یا مذموم مقاصد قرار دیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں ایچ آئی وی کے 20 ہزار کیسز سامنے آئے تھے اور اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کی تیزی سے بڑھتی شرح والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی دہائیوں سے طبی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے غریب طبقہ اور دیہاتی علاقے نااہل معالجین کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔

یواین ایڈز کے بیان کے مطابق ‘ بعض سرکاری رپورٹس کے مطابق ملک میں 6 لاکھ اور سندھ میں 2 لاکھ 70 ہزار اتائی ڈاکٹر کام کررہے ہیں۔

صوبائی طبی حکام کے مطابق ایسے کلینکس میں مریضوں کو مختلف وائرس اور بیماریوں لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں بنیادی علاج کے طور پر اکثر انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی مینیجر سکندر میمن نے کہا کہ ‘ پیسے بچانے کی خاطر اتائی ڈاکٹر کئی مریضوں کو ایک ہی سرنج لگاتے ہیں، جو ایچ آئی وی مرض پھیلنے کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے’۔

کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں ماہر صحت بشرہ جمیل نے کہا کہ ناقابل ڈاکٹروں کی بڑی تعداد، سرنج کا دوبارہ استعمال، خون کی غیر محفوظ منتقلی اور دیگر غیر محفوط طبی معمولات کی وجہ سے حالیہ چند سالوں میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی موثر نگرانی کے بغیر بے قابو ہوتا علاج کا غلط طریقہ کار پاکستان میں بار بار ایسے مسائل کی وجہ بن ر ہا ہے۔

سندھ میں اس وبا کے بے قابو ہونے سے متعلق تحقیق کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ جس ڈاکٹر پر الزام عائد کیا گیا تھا ان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔

رتو ڈیرو کی جیل میں قید ڈاکٹر نے دانستہ طور پر مریضوں کو ایچ آئی وی کا شکار بنانے کے الزامات کو مسترد کیا جبکہ عادی مجرموں کے ساتھ رکھے جانے سے متعلق شکایت بھی کی۔

تاہم جن بچوں میں حال ہی میں اس مرض کا انکشاف کیا گیا ہے ان کے لیے یہ تحقیق کوئی معنی نہیں رکھتی اگر وہ اس وائرس کو ختم کرنے میں مددگار ضروری ادویہ اور بہتر معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

حال ہی میں ایچ آئی وی کے مرض کا شکار ہونے والی بچی کی والدہ نے کہا کہ ‘ ہم بے بس ہیں، مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے باقی بچوں کو بھی یہ بیماری نہ لگ جائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ ہمارے بچوں کے لیے کچھ دوائیاں بھیجیں تاکہ ان کا علاج ہوسکے، اگر نہیں تو ہم سب کے بچے مرجائیں گے’۔

Google Analytics Alternative