صحت

ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچانے میں مددگار سنت نبوی

ایک سنت بنوی پر عمل کرکے آپ دل کی بیماریوں کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔

جی ہاں ہفتے میں ایک یا 2 بار قیلولہ یا دوپہر کی نیند صحت مند دل کا راز ہے۔

یہ بات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں ایک یا 2 بار دوپہر کی مختصر نیند سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں جان لیوا امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں ذہنی تناﺅ میں کمی آتی ہے جس سے خون کی شریانوں کے نظام کی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

لوزیانے یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں 35 سے 75 سال کی عمر کے 3 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ اوسطاً 5 سال تک لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں ایک یا 2 بار 5 منٹ سے ایک گھنٹے قیلولہ کرنے والے افراد میں ہارٹ اٹیک، فالج یا ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دوپہر کو نہ سونے والوں کے مقابلے میں 48 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

تاہم محققین کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ہفتے میں ایک یا 2 بار سے زیادہ قیلولہ کرنے والوں میں یہ خطرہ کم نہیں ہوتا بلکہ دوپہر کو زیادہ سونے کی عادت کسی قسم کے طبی مسائل کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

ہفتے میں ایک یا 2 بار قیلولے کی عادت سے ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچنے کا فائدہ ان افراد کو بھی حاصل ہوتا ہے جو اس کا باعث بننے والے عناصر جیسے تمباکو نوشی کے عادی ہوں۔

محققین کا کہنا تھا کہ قیلولے کے حوالے سے تحقیق چیلنجنگ تھی مگر یہ عوامی صحت کے اثرات کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت بھی ہے، مگر اب بھی جواب سے زیادہ سوالات ہیں، اور یہ وقت ہے جب قیلولے کی صحت مند دل کے لیے طاقت کو دریافت کیا جائے۔

کچھ عرصے قبل اس حوالے سے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو کچھ دیر سونے کی عادت بلڈ پریشر کو طویل المعیاد بنیادوں پر کنٹرول میں مدد دیتی ہے۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ہارٹ میں شائع ہوئے۔

روزانہ کتنی تعداد میں اخروٹ کھانا صحت کے لیے فائدہ مند؟

خشک میوے میں شمار کیا جانے والا اخروٹ ہمیشہ سے طبی لحاظ سے فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے اور اسے موٹاپے سے بچا? کے لیے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔

اخروٹ میں ایسے پروٹینز، وٹامنز، مرلز اور فیٹس ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس سے دل کے دورے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

اس کے فوائد تو آپ نیچے پڑھ ہی لیں گے مگر سوال یہ ہے کہ آخر روزانہ کتنے اخروٹ کھانا صحت کو فائدہ پہنچاتے ہیں؟

یہ جان لیں کہ زیادہ مقدار میں اخروٹ کھانے کے نتیجے میں پیٹ پھولنے یا بدہضمی جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تو ایک دن میں 7 اخروٹ سے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اتنی مقدار کھانا صحت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کافی ہے مگر اس سے زیادہ کھانے کے نتیجے میں فائدے کی بجائے نقصان ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ 10 گرام یا 7 اخروٹ کھانا سانس کے امراض، دماغی تنزلی اور ذیابیطس سے تحفظ کے ساتھ ساتھ کینسر سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔

یہاں یہاں اس کے مزید فوائد آپ کو اسے آزمانے پر مجبور کردیں گے۔

زیادہ کھانے سے روکے

گزشتہ دنوں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانا دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرسکتا ہے جو بے وقت کھانے یا بھوک کی خواہش کو کم کرتے ہیں۔آسان الفاظ میں روزانہ اخروٹ کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میوے کو کھانے کے بعد لوگوں کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے۔

کینسر اور معدے کے امراض کا خطرہ کم کرے

روزانہ آدھا کپ اخروٹ کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جس کی وجہ اس کو کھانے سے پرو بائیوٹک بیکٹریا کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ یہ میوہ دل اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ معدے کی صحت مجموعی جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے، اخروٹ کھانے کی عادت معدے میں مثبت تبدیلیاں لاتی ہے جبکہ یہ دل اور دماغ کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند عادت ہے۔

دماغی افعال بہتر کرے

بچوں کو مچھلی، سویا بین اور اخروٹ لڑکپن میں کھلانا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکپن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی کمی بچوں کو ذہنی بے چینی کا شکار بناتی ہے جس سے ان کی یاداشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اوپر درج کی گئی غذائیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہیں جو بچوں کے بالغ ہوتے دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں۔

مردوں کو بانجھ پن سے بچائے

ڈیل وئیر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت کے نتیجے میں جسم میں ایسے کیمیکلز کی کمی آتی ہے جو کہ خلیات کو نقصان پہنچا کر مردوں میں بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ میں فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ ان خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اخروٹ کھانا اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانا جاسکے کہ اخروٹ میں موجود کونسی چیز اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ذیابیطس سے بچائے

اخروٹ میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی یہ بہترین ہے تو اگر لوگ روزانہ اس کو کھائیں تو ان کا میٹابولک نظام بہتر حالت میں رہتا ہے۔ اخروٹ کھانے سے خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، یہ دونوں عناصر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

جلدی صحت کے لیے بہتر اور قبل از وقت سفید بالوں سے تحفظ

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ خون کی شریانوں کے نظام کے لیے انتہائی فائدہ مند جز ہے، روزانہ صرف 2 اخروٹ کھانا بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتا ہے جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو کہ دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔

بریسٹ کینسر سے بچائے

امریکن ایسوسی فار کینسر ریسرچ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ چند اخروٹ کھانے کی عادت خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے۔

ہڈیوں کے لیے بھی فائدہ مند

اخروٹ میں موجود ایک فیٹی ایسڈ الفا لائنولینک ایسڈ ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ورم کو کم کرتے ہیں جس سے بھی ہڈیا طویل المعیاد بنیادوں پر مضبوط ہوتی ہیں۔

نیند

اخروٹ میں میلاٹونین نامی جز موجود ہے جو کہ اچھی نیند میں مدد دیتا ہے، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے اور تناﺅ سے نجات دلاتے ہیں، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

گنج پن سے تحفظ

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اخروٹ کے تیل کا استعمال معمول بنانا گنج پن کے مسائل سے دور رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس تیل کے استعمال سے بالوں میں خشکی کا مسئلہ بھی سامنے نہیں آتا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کررہا ہے، عالمی ادارہ صحت

دنیا بھر میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے اور ہر سال اس وجہ سے کسی جنگ کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔

یہ بات عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں بتائی۔

انسدادِ خودکشی کے عالمی دن (10 ستمبر) کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پھانسی پر لٹک جانا، زہر کھانا اور بندوق کا استعمال خودکشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں۔

عالمی ادارے نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کریں اور لوگوں کو ذہنی تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں زور دیا گیا کہ کیڑے مار ادویات پر پابندی کے ذریعے لوگوں کی زہر تک رسائی کم کرکے خودکشیوں کی شرح کو 70 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے بتایا گیا کہ ‘خودکشیاں عالمی سطح پر عوامی صحت کا مسئلہ ہے، ہر عمر، جنس اور مذاہب کے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے’۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خودکشی 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں جذباتی مسائل کے باعث خودکشی کرنا دوسری بڑی وجہ ہے۔

اس عمر کے لڑکوں میں خودکشی سے اموات، ٹریفک حادثات اور باہمی جھگڑوں کے بعد تیسری بڑی وجہ ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہر سال 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور یہ تعداد ملیریا یا بریسٹ کینسر یا جنگ یا قتل وغیرہ سے زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر حالیہ برسوں میں خودکشیوں کی شرح میں 9.8 فیصد کمی آئی ہے مگر اس حوالے سے اعداد و شمار پیچیدہ ہیں کیونکہ اس عرصے میں امریکا میں خودکشیوں کی شرح میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خودکشی کے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے، بس حکومتوں کو اس حوالے سے حکمت عملی کو مرتب کرنا چاہیے اور انہیں نیشنل ہیلتھ اور تعلیمی پروگرامز میں شامل کرنا چاہیے۔

کچھ لوگوں کا دائیں کی بجائے بایاں ہاتھ کیوں بالادست ہوتا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ تو سیدھے ہاتھ یا رائٹ ہینڈر ہے مگر کچھ لوگوں اپنے بائیں ہاتھ کا زیادہ استعمال کیوں کرتے ہیں؟

ہوسکتا ہے آپ کو علم نہ ہو مگر ہر 20 ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوتا ہے جس کا بایاں ہاتھ بالادست ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں وہ لیفٹ ہینڈر یا کھبا ہوتا ہے۔

تو اس کی وجہ جینز میں چھپی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کا باعث بننے والے جینز کی شناخت میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر یہ ضرور معلوم کرلیا گیا ہے کہ انسانی جینوم کے کن مخصوص حصے اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کی وجہ ماں کے پیٹ میں دماغ کی نشوونما اور جسمانی مائیکرو ٹیوبلز ہوسکتی ہے۔

مائیکرو ٹیوبلز ایسے خلیات کا اسٹرکچر ہیں جو انسانی خلیات کا زیادہ تر بوجھ اٹھاتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ لیفٹ ہینڈڈ افراد کے دماغ کے بائیں اور دائیں جانب کے حصے زیادہ بہتر طریقے سے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مستقبل میں مزید تحقیق سے یہ علم ہوسکے گا کہ اس کا کتنا فائدہ لیفٹ ہینڈڈ افراد کو ہوتا ہے۔

ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت کیا گیا تھا کہ ہر 10 میں سے ایک لیفٹ ہینڈڈ فرد میں بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے کی وجہ جینز میں چھپی ہوتی ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل برین میں شائع ہوئے۔

دسمبر 2017 میں انٹرنیشنل اسکول فار ایڈانسڈ اسٹیڈیز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بچے بڑے ہونے پر بائیں ہاتھ کے استعمال کو زیادہ ترجیح دیں گے یا سیدھے ہاتھ کو، اس کا تعین ماں کے پیٹ میں ہی ہوجاتا ہے۔

حقیق میں بتایا گیا کہ دوران حمل 18 ہفتے بعد کیے جانے والے اسکین سے جانا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی میں دائیں یا بائیں کس ہاتھ کی بالادستی ہوگی۔

تحقیق کے دوران سو فیصد تک ہاتھ کی بالادستی کی درست پیشگوئی کی گئی یعنی بچہ لڑکپن میں رائٹ ہینڈڈ ہوگا یا لیفٹ ہینڈڈ۔

اس سے قبل کی جانے والی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ کے اثر کا تعلق دماغ کے مختلف حصوں کی نشوونما کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کسی فرد میں مختلف امراض جیسے ڈپریشن، شیزوفرنیا اور آٹزم کے خطرات کا تعین بھی کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 29 حاملہ خواتین کا تجزیہ حمل کے 18 سے 21 ہفتے تک کیا گیا۔

ان کے بچوں میں الٹراسا?نڈ اسکین کے ذریعے ہاتھ کی حرکات کا تعین کیا گیا اور پھر ان بچوں کو دس سال بعد دوبارہ دیکھا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حمل کے 18 ہفتے بعد جاننا ممکن ہے کہ بچہ رائٹ ہینڈڈ ہوگا یا لیفٹ ہینڈڈ۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

واضح رہے کہ ہر 20 ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوتا ہے جس کا بایاں ہاتھ بالادست ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں وہ لیفٹ ہینڈر یا کھبا ہوتا ہے۔

ماضی میں تو خیال کیا جاتا تھا کہ ایسے افراد درحقیقت شیطان کے سامنے کمزور اور انہیں اپنی اس عادت پر قابو پانا چاہیے۔

خوش قسمتی سے اب یہ توہم پرستی تو ختم ہوچکی مگر اب بھی لوگوں کے اندر یہ تجسس موجود ہے کہ آخر کچھ بچے سیدھے کی بجائے بائیں ہاتھ کو زیادہ استعمال کرتے ہوئے کیسے بڑھتے ہیں۔

درمیانی عمر میں توند کیوں نکل آتی ہے؟ وجہ سامنے آگئی

پیٹ کا باہر نکلنا اکثر درمیانی عمر کی پہلی علامت ثابت ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ وزن کیوں بڑھنے لگتا ہے، چاہے ورزش کرتے ہوں یا غذائی عادات میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔

یہ بات سوئیڈن اور فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیرولینسکا انسٹیٹوٹ، اپپسلا یونیورسٹی اور لیون یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں 54 بالغ افراد کا جائزہ 13 سال تک لیا گیا اور ان کے جسموں میں چربی کے ذخیرے کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ عمر بڑھنے سے جسم میں چربی کے خلیات کی جانب سے چربی کو گھلانے اور اسے ذخیرہ کرنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔

محققین کو توقع ہے کہ تحقیق کے نتائج سے ایسی نئی ادویات یا طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد ملے گی جو درمیانی عمر میں لوگوں کے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس سے پہلے تحقیقی رپورٹس میں عمر بڑھنے سے جسمانی وزن میں اضافے کی متعدد وجوہات کو دریافت کیا گیا تھا جیسے ہارمونز میں تبدیلی یا مسلز کا حجم گھٹ جانا۔

اب طبی جریدے نیچر میڈیسین میں شائع تحقیق میں پہلی بار جسم میں اندرونی پراسیس کو دریافت کیا گیا جو درمیانی عمر میں جسم کو پھیلا دیتا ہے۔

محققین کے مطابق اس سے موٹاپے کے علاج کے نئے ذرائع کا راستہ کھل جائے گا، اس وقت موٹاپا اور اس سے جڑے امراض دنیا بھر کا مسئلہ بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لپڈ نامی حصہ چربی کے حجم کو ریگولیٹ کرتا ہے اور عمر بڑھنے سے تحقیق میں شامل ہر رضاکار میں لپڈ کے پراسیس کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی، چاہے ان کا وزن کم ہوا ہو یا بڑھ گیا ہو۔

اس تحقیق کے دورانیے کے دوران 15 افراد کا جسمانی وزن بڑھ گیا، 19 کا لگ بھگ پہلے جتنا رہا اور 20 کا وزن کم ہوا۔

تو جن افراد کا وزن کم ہوا یا جن کا ایک سطح پر رہا، ان میں بھی چربی گھلانے کی صلاحیت گھٹ گئی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی ایک یونیورسٹی میں دریافت کیا گیا تھا کہ قدرتی طور پر دبلے پتلے رہنے والے افراد کا وزن اس لیے معمول پر رہتا ہے کیونکہ ان کی چربی کے خلیات جینیاتی طور پر زیادہ موثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران محققین نے ایسے افراد کے گروپ کا جائزہ لیا جن کا جو دل کرتا کھاتے مگر ان کا وزن نہیں بڑھتا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے معدے میں موجود چربی کے خلیات ایسے افراد کے مقابلے میں حجم میں 50 فیصد کم اور زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جو اوسط جسمانی وزن کے حامل ہوتے ہیں۔

نتائج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ دبلے پتےل افراد کو جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے کے حوالے سے دیگر لوگوں کے مقابلے میں کچھ جینیاتی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ پہلی بار یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اپنے جسمانی وزن کو ہمیشہ ایک سطح پر رکھنے والے افراد کو وائٹ ڈپازٹ ٹشو سے فائدہ ہوتا ہے۔

معدے میں تیزابیت سے نجات کے لیے بہترین غذائیں

معدے میں تیزابیت کا مسئلہ کسی کو کسی بھی وقت لاحق ہوسکتا ہے جس کے دوران معدے میں گیس اور سینے میں جلن جیسی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جس میں سب سے عام کھانے کے اوقات میں بہت زیادہ وقفہ، بہت زیادہ مرچ مصالحے والی غذا یا چائے کو بہت زیادہ پینا وغیرہ ہیں۔

مگر کچھ غذائیں ایسی ہیں جو آسانی سے کچن میں دستیاب ہوتی ہیں اور تیزابیت سے فوری نجات میں مدد بھی دیتی ہیں۔

کیلے

کیلے معدے میں تیزابیت کے لیے قدرت کا بہترین تحفہ ہیں، پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ یہ پھل تیزابیت کے خلاف موثر ثابت ہوتا ہے، اگر آپ اکثر تیزابیت کا شکار رہتے ہیں تو روزانہ ایک کیلا کھانا عادت بنالیں، سینے میں جلن کا احساس ہو تو بھی اسے کھالیں۔

دارچینی

یہ مصالحہ معدے کی تیزابیت کے خلاف کام کرتا ہے اور معدے کی صحت ہاضمے اور غذا کو جذب کرنے میں مدد دے کر کرتا ہے۔ معدے میں تیزابیت کو دور کرنے کے لیے دار چینی کی چائے مفید ثابت ہوتی ہے۔

چھاچھ

چھاچھ کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو معدے میں تیزابیت کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتی ہے، زیادہ مرچ مصالحے والا کھانا یا بہت زیادہ مقدار میں کھانے کے بعد ایک گلاس چھاچھ میں کچھ مقدار میں کالی مرچ پاﺅڈر یا زیرے کا سفوف ملا کرپینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ناریل کا پانی

ناریل کا پانی جسم میں تیزابیت کی سطح کو معمول پر لانے کے ساتھ ساتھ معدے کو تیزابیت کے اثر سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

ٹھنڈا دودھ

ٹھنڈا دودھ معدے میں موجود سیال کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے، دودھ کیلشیئم سے بھرپور ہوتا ہے جو معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، یہ معدے میں تیزابیت سے نجات کی سب سے سادہ اور موثر طریقہ ہے، بس دودھ کا ٹھنڈا گلاس لیں اور پی لیں۔

سونف

اگر اکثر معدے میں تیزابیت کی شکایت رہتی ہے تو ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف کو کھالیں، سونف کی چائے بھی غذائی نالی کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

الائچی

الائچی کھانے کی عادت نظام ہاضمہ کو متحرک کرتی ہے اور پیٹ کے درد سے ریلیف بھی ملتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت کی اضافی مقدار کے نقصان دہ اثرات سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اگر تیزابیت کی شکایت ہو تو 2 الائچی لیں اور اسے کچل کر پانی میں ابال لیں، اسے ٹھنڈا کریں اور پی لیں، فوری ریلیف ملے گا۔

گڑ

گڑ میں میگنیشم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو آنتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے نظام ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد کچھ مقدار میں غر کھالینا معدے کو تیزابیت اور گرمی سے بچاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

لندن: آئے دن ہم یہ سنتے رہتے ہیں کہ گوشت نہیں کھانا چاہیے اور صرف سبزیوں، دالوں اور پھلوں پر ہی گزارا کرنا چاہیے۔ یہ سوچ دنیا بھر میں ایک تحریک کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے لیکن ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ’’سبزیجاتی غذا‘‘ (ویجی ٹیریئن) پر انحصار کرنے کا نتیجہ دماغی صحت کےلیے کچھ اچھا نہیں نکلتا۔

یہ تحقیق برطانوی ادارے ’’نیوٹریشنل انسائیٹ‘‘ سینئر تحقیق کارہ ڈاکٹر ایما ڈربی شائر کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے نیوٹریشن، پریوینشن اینڈ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سبزیجاتی غذا میں ایک اہم غذائی جزو ’’کولائن‘‘ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارا جگر بھی کولائن بناتا ہے لیکن اس کی مقدار ہماری جسمانی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہوتی ہے۔ یہ کمی صرف اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب غذا میں سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں گوشت بھی شامل رکھا جائے۔

پاکستانی زبان میں بات کریں تو بڑے اور چھوٹے کے گوشت کے علاوہ مرغی، مچھلی، انڈے، دودھ اور دہی کی بھی مناسب مقدار ہماری غذا میں شامل ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہر روز گوشت کھایا جائے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبزیجاتی غذا کے ساتھ ساتھ، ہفتے میں دو سے تین مرتبہ، گوشت پر مشتمل غذا کو بھی متوازن طور پر استعمال میں رکھنا چاہیے۔

دماغی نشوونما میں کولائن کی خصوصی اہمیت ہے، خصوصاً اُس وقت جب (دورانِ حمل) رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے۔ جگر کی کمزوری دور کرنے اور خون میں موجود چکنائی کو ختم کرنے کے علاوہ، کولائن ایسے آزاد اصلیوں (فری ریڈیکلز) کے خلاف بھی لڑتا ہے جو ہمارے جسمانی خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور متعدد بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ بہتر جسمانی و دماغی صحت کےلیے سبزیوں کے ساتھ ساتھ گوشت بھی ضروری ہے۔

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

پیرس: دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

اعدادوشمار کی بات کریں تو روزانہ دو یا دو سے زیادہ بوتل کولڈ ڈرنک پینے والے لوگوں کی اوسط عمر، مہینے میں ایک سے دو بار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں 16 سال تک کم ہوجاتی ہے جبکہ ان میں ناگہانی موت واقع ہونے کا خطرہ بھی غیرمعمولی طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ’’شوگر فری‘‘ یا ’’ڈائٹ‘‘ اور شکر والی کولڈ ڈرنک، دونوں کے اثرات میں بہت زیادہ فرق نہیں دیکھا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس کی وجہ شکر نہیں بلکہ وہ دوسرے اجزاء ہیں جو کولڈ ڈرنک کی تیاری میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں؛ البتہ ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ طویل عرصے تک زیادہ کولڈ ڈرنک پینے والے لوگ کولون کینسر اور پارکنسن کے علاوہ مختلف دماغی امراض کے باعث اپنی زندگی سے ہاتھ دھو سکتے ہیں؛ دل اور شریانوں کی کوئی بیماری ان کی جان لے سکتی ہے؛ جبکہ وہ پیٹ کی کسی جان لیوا بیماری کا شکار بھی بن سکتے ہیں۔ یعنی کسی بھی طبّی وجہ سے ان کی ناگہانی موت کے امکانات، کولڈ ڈرنک نہ پینے والے افراد کے مقابلے میں واقعی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کی تفصیلات میڈیکل ریسرچ جرنل ’’جاما انٹرنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Google Analytics Alternative