صحت

جوڑوں کے درد سے نجات کا آسان طریقہ

نیویارک: اگر آپ اپنے جوڑوں کے درد کی وجہ سے تکلیف میں ہیں یا صبح اٹھتے ہوئے آپ کو دردیں ہوتی ہیں تو پریشان ہونا چھوڑیں کیونکہ آج ہم آپ کو اس کا آسان نسخہ بتائیں گے۔یہ نسخہ لیموں کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔لیموں میں وٹامنز جیسے اے،بی ون،بی 6،فولک ایسڈ،فلیونائڈز،پوٹاشیم، میگنیشیم،فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ صرف لیموں ہماری صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ اس کے چھلکے بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔ جوڑوں کے درد کے لئے نسخہدو درمیانے سائز کے لیموں لے کر انہیں چھیل کر ان کے چھلکے گلاس کے جار میں ڈالیں۔اب اس جار کو مکمل طورپر زیتون کے تیل سے بھر دیں۔جار کو اچھی طرح بند کردیں اور اس میں ہوا بالکل بھی داخل نہ ہوسکے،اس جار 15دن تک پڑا رہنے دیں۔اب اس تیل کو متاثرہ حصہ پر لگانے سے درد میں بہت زیادہ کمی ہوجائے گی۔اگر رات کو سونے سے پہلے درد والی جگہ پراس کی ہلکی مالش کی جائے تو آپکو بہت زیادہ افاقہ ہوگا۔

سنگھاڑے کے فائدے

سنگھاڑے کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن کم افراد کو ان کے بارے میں معلوم ہے۔ اکثریت اسے نظر انداز کردیتی ہے، حال آنکہ سنگھاڑا آسانی سے دستیاب ہوتاہے اور سستا ہوتاہے۔ اسے سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ٹھیلوں سے خریدا جاسکتاہے۔ یہ موسم سرمامیں ہی ملتا ہے۔ اس کی ناریل جیسی مٹھاس کی بنا پرکچھ افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ زیادہ تر افراد است نظر انداز کرتے ہیں۔ ان کے نظر انداز کرنے کی وجہ غالباََ یہ ہے کیہ انھیں سنگھاڑے کے فائدوں کاعلم ہی نہیں ہوتا۔
یہ ایشیا کے جنوب مشرق علاقوں میں پایاجاتا ہے۔ سنگھاڑا تقریباََ پانچ میٹر کی گہرائی میں کاشت کیا جاتا ہے۔ یہ تالابوں میں ہوتاہے اور اسے رواں پانی میں بھی کاشت کیاجاتا ہے۔ یہ یوریشیا اور افریقہ کے گرم ممالک میں کاشت کیاجاتاہے۔ چناں چہ اسے جاڑوں میں ہی کھایا جاتاہے۔
یہ رواں پانی میں کاشت کیاجاتا ہے، لہٰذا جب اسے تازہ فروخت کیا جاتا ہے تواس میں خفیف سے زہریلے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ کھانے سے پہلے اسے اچھی طرح سے دھولینا چاہیے۔ سنگھاڑے کوکئی طرح سے کھاسکتے ہیں، چاہے اُبالیں، تلیں یابھونیں، لیکن تقریباََ سات منٹ تک، اس سے زیادہ نہیں ورنہ خراب ہوسکتا ہے۔
اسے سلاد میں ڈالاجاسکتا ہے۔ اس کاسوپ بنایا جاسکتا ہے۔ اسے مرغی کے گوشت کے ساتھ پکایا جاسکتا ہے۔ پزا پربھی ڈالا جاسکتا ہے اور شوربے کاگاڑھا بنانے کے لیے بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ بعض افراد اسے کیک اور پڈنگ میں بھی ڈالتے ہیں۔ ہانڈی میں بچ جانے کی صورت میں اسے گرم کرکے کھایا جاسکتا ہے۔ اس کاذائقہ برقرار رہتا ہے۔
سنگھاڑے کوعموماََ کچی حالت میں کھایا جاتاہے۔ کچھ افراد اسے اُبال لیتے ہیں۔ خشک ہونے پر اسے پیس کر آٹا بنالیتے ہیں، جسے سنگھاڑے کاآٹاکہتے ہیں۔ تازہ سنگھاڑے میں نشاستہ (کاربوہائڈریٹ) لحمیات (پروٹینز)، فولاد اور آیوڈین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں میگنیزئیم، کیلسئیم، پوٹاشیئم، جست تانبا اور کثیرالحیاتین بھی ہوتی ہیں۔ ڈبوں کی نسبت تازہ حالت میں مذکورہ صحت بخش اجزا اس میں دگنی مقدار میں ہوتے ہیں۔
صحت مند زندگی کے لیے سنگھاڑا ایک عمدہ غذا ہے۔ نصف پیالی سنگھاڑوں میں 1ء 0گرام چکنائی، 8ء 14گرام نشاستہ اور 9ء 0گرام لحمیات ہوتی ہیں دودھ کے مقابلے میں اس میں 22فیصد معدنیات زیادہ ہوتی ہیں، جب کہ حراروں کی تعداد 60ہوتی ہے۔ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا۔ سنگھاڑے میں سوڈئیم بہت کم ہوتاہے۔ حیاتین ب 6اور ب 7(وٹامنزبی 6اور بی 7) 10فیصد ہوتی ہیں۔ جوقوت مدافعت بڑھاتی اور دماغ کوطاقت دیتی ہیں۔ اس میں تھایامن اور رائبوفلاون بھی ہوتے ہیں، جو غذا کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ چکنائی نہ ہونے کی بناپراسے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا۔
اس میں پانی فینولک اور فلیوونائڈز نامی مانع رتکسید اجزا ہوتے ہیں، اس لیے اس میں بیکٹیریا، وائرس اور سرطان کوختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جس سے تلی اور معدہ صحت مندرہتے ہیں۔ تلی کی خرابی سے بے خوابی گہری تھکن، ورم اور پیشاب میں تعدیہ(انفیکشن) جیسے امراض ہوجاتے ہیں۔
سنگھاڑے میں زہریلے اثرات کوختم کرنے والے اجزا کثرت سے ہوتے ہیں، اس لیے یہ ان افراد کے لیے بہت فائدہ مند ہے، جنھیں یرقان ہوجاتاہے۔ اس کوغذا میں شامل رکھنے سے غدہ درقیہ (تھائرائڈ گلینڈ) کی کارکردگی درست رہتی ہیں۔ یہ خاص طور پر پیاس کوبجھاتا، خون کوصاف رکھتا اور سوزش کوختم کرتا ہے۔ یہ توانائی میں اضافہ کرتاا ور تھکن ختم کرتاہے۔ یہ چوں کہ جسم میں سوڈیئم کاتوازن برقرار رکھتا ہے، اس لیے بلڈپریشر بھی متوازن رہتا ہے۔ سنگھاڑے کے بیجوں کارس نکال کر پینے سے خسرہ کے اثرات جاتے رہتے ہیں۔ یہ معدے کو درست رکھتا، بدہضمی کوختم کرتا اور پیچش اور دست کو روکتا ہے۔
سنگھاڑے کوپیس کرپکاکرکھانے سے حاملہ خواتین کے جریان خون کوروکا جاسکتا ہے۔ اس کے خشک بیج کھانے سے بھی خون کااخران رک جاتا ہے۔خواتین میں یہ دودھ کی مقدار کوبڑھاتا ہے۔ یہ آنتوں کی گرمی کو بھی ختم کرتا ہے۔
جسم کے کسی حصے میں سوجن ہونے پر اگر سنگھاڑے کے چھلکوں کوپیس کرلیپ بنالیا جائے اور متاثرہ مقام پر لگایا جائے توسوجن دور ہوجاتی ہے۔ اگر سنگھاڑے کے بیجوں کوپیس کراس میں لیموں کاعرق ملالیا جائے اور ایکززیما (Eczema) والی جگہوں پرلگایا جائے توایکزیما ختم ہوجاتاہے۔ سنگھاڑے سے بال مضبوط رہتے ہیں۔ سنگھاڑا آیورویدک ادویہ بنانے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتاہے۔
ان سب فوائد کے باجود سنگھاڑے کومناسب مقدار میں کھانا چاہیے، حال آنکہ یہ معدے کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن ایک صحت مند شخص کودس سے پندرہ گرام سنگھاڑوں سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ زیادہ کھانے کی صورت میں آپ کے معدے میں درد ہوسکتا ہے۔ جن افراد کوقبض رہتا ہو، انھیں سنگھاڑا نہیں کھانا چاہیے۔ اسے کھانے کے بعد نصف گھنٹے تک پانی نہ پییں۔ ذیابیطس کے مریضوں کوسنگھاڑا اعتدال کے ساتھ کھاناچاہیے، اس لیے کہ آلوکی طرح اس میں بھی نشاستہ ہوتاہے۔

کشش اور ذہانت کے درمیان تعلق

ایک پرانی کہاوت ہے کہ کسی بھی کتاب کا فیصلہ اس کے سرورق سے نہ کرو مگر ایسا نظر آتا ہے کہ اس سے بچنا لگ بھگ ہر کسی کے لیے ناممکن ہے۔

برطانیہ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مطابق خوبصورت افراد لوگوں کو زیادہ ذہین لگتے ہیں اور شخصی کشش کسی بھی فرد کے بارے میں لوگوں کی رائے کو متاثر کرتی ہے۔

تحقیق کے دوران کشش اور ذہانت کے درمیان تعلق کو جاننے کے لیے سو طالبعلموں کی تصاویر اجنبی افراد کو دکھائی گئیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پرکشش افراد لوگوں کو زیادہ ذہین نظر آئے اور کشش کا ایک ہالہ ان کے ذہنوں پر چھایا ہوا محسوس ہوا۔

اس تجربے کے دوران 4 الگ گروپس بناکر تصاویر کی مدد سے خوبصورتی، ذہانت، تدریسی کارکردگی وغیرہ کے بارے میں ریٹنگ کے لیے کہا گیا اور یہ معلوم ہوا کہ جو سب سے زیادہ پرکشش افراد تھے انہیں سب سے زیادہ ذہین قرار دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ جسمانی کشش کے اثرات کسی شخص بارے میں پہلے تاثر کے حوالے سے غلط رہنمائی کرتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج تعلیم اور ملازمتوں میں مرتب ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ شخصی کشش مسلسل ہمارے خیالات پر اثرانداز ہوتی ہے اور ہم سیاست، قیادت، قانون، بچوں کو سزا، ملازمت میں ترقی غرض ہر شعبے میں تعصبانہ فیصلے کرنے لگتے ہیں۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل پلوس ون میں شائع ہوئی۔

بڑھتے جسمانی وزن سے ںجات کا آسان ںسخہ

اگر تو آپ موٹاپے یا بڑھتے جسمانی وزن سے پریشان ہیں تو کھانا چھوڑنے کی بجائے کسی مشروب کی بجائے صرف پانی کو ترجیح دینا شروع کردیں۔

یہ بات ایک نئی امریکی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر کھانے کے فوری بعد میٹھی یا ڈائٹ کولڈ ڈرنک کی بجائے صرف پانی کو پیا جائے تو جسمانی وزن میں کمی آسکتی ہے۔

تحقیق کے دوران کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ موٹاپے کی شکار جن خواتین نے دوپہر کے کھانے کے بعد کولڈ ڈرنک کی جگہ صرف ایک گلاس پانی پیا، ان کے جسمانی وزن میں 6 ماہ کے دوران 14 فیصد کمی آئی۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ روزانہ ایک ڈائٹ کولڈ ڈرنک کا استعمال بھی پیٹ میں چربی کے بڑھنے یا توند کا باعث بنتا ہے۔

اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک کین ڈائٹ کولڈ ڈرنک کا روزانہ استعمال موٹاپے کا خطرہ 41 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

محققین کے خیال میں ڈائٹ مشروبات اشتہا کو بڑھا دیتے ہیں اور جسم کے اندر چینی کے استعمال کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے۔

یہ نئی تحقیق طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی۔

آنکھوں کی سوزش کا علاج

لندن: دنیا میں لاکھوں کروڑوں افراد سرخ، بہتی ہوئی اور سوزش والی آنکھوں کے شکار ہوتے ہیں اور اب ایک فنگس ( پھپھوند) سے بنے ڈراپس سے ان کا مؤثر علاج کیا جاسکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ناروے کی مٹی میں پائے جانے والے ایک اہم عنصر ’’سائیکلوسپورن‘‘ جسم کے امنیاتی نظام کو دباتے ہوئے آنکھوں کی جلن اورسوزش کو فوری طورپر دورکرتا ہے، یہ کیمیکل ایک طرح کی پھپھوند سے حاصل کیا گیا ہے۔ 1960 کے عشرے میں سائنسدانوں نے ناروے میں ہارڈینگرویڈا پہاڑ کی مٹی سے حاصل کیا گیا تھا جسے اس وقت ٹولی پوکلیڈئیم انفلیٹم کا نام دیا گیا ہے، مٹی میں موجود پھپھوند میں سے بننے والے اس پہلے آئی ڈراپ کو آئیکروِس کا نام دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آنکھوں سے نمی غائب ہونا ایک خطرناک عمل ہے جس سے نابینا ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ کیراٹائٹس کی وجہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ تجرباتی طور پر 246 مریضوں کی آنکھوں میں پھپھوند سے بنے قطرے ٹپکائے گئے اور ان کی آنکھوں میں بہت بہتری دیکھی گئی جب کہ ان کئ آنکھوں کے عدسے (قرنیہ) بھی متاثر نہیں ہوا۔

اس دوا کی افادیت دیکھتے ہوئے نیوکاسل یونیورسٹی کے ماہرِ چشم کا کہنا ہے کہ دوا سے مریضوں پرحقیقی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، پہلی مرتبہ آنکھوں کی خشکی اور کیراٹیٹیس کے مرض سے پریشان لوگوں کے لئے لائیسنس یافتہ دوا بننے سے دنیا بھر میں اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملی ہے۔

جسمانی وزن میں اضافے کی حیران کن وجہ

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اکثر لوگوں کی غذا یکساں ہوتی ہے، کام بھی ایک جیسا اور جسمانی سرگرمیاں بھی لگ بھگ ملتی جلتی مگر پھر بھی ان میں سے کچھ موٹاپے کے شکار اور کچھ فٹ ہوتے ہیں ؟

اگر ہاں تو اس کا جواب ایک چیز میں چھپا ہے جس پر عمل نہ کرنا آپ کو موٹاپے کا شکار کرسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے کے باوجود اگر نیند پوری نہ کی جائے تو انسان موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم نیند جسمانی وزن میں اضافے، جسمانی چوٹوں کا خطرہ بڑھانے اور جسمانی ہارمونز کی سطح میں کمی کا باعث بنتا ہے جس سے ڈپریشن اور ہڈیوں کی کمزوری کا امکان بھی ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ گہری نیند کے دوران جسمانی مسلز اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہیں، ٹشوز کی مرمت ہوتی ہے اور دماغ یاداشت کو تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ زہریلے مواد کو نکال باہر کرتا ہے۔

اس پراسیس کے بغیر آپ کی ورزش اور خوراک کا خیال رکھنا کسی کام کا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر افراد سوچتے ہیں کہ وہ جم جاکر مسلز بنارہے ہیں مگر یہ کام نیند کے دوران ہوتا ہے اور ٹوٹ جانے والے ٹشوز کی مرمت سے مسلز مضبوط ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ اچھی نیند کے دیگر متعدد فوائد بھی ہیں جیسے ملازمت میں آپ کی کارکردگی کو بہتر بنانا، زندگی کی معیاد بڑھانے میں مدد دینا، دوسروں میں زیادہ مقبول بنانا وغیرہ۔

بغلوں اور پسینے کی بدبو سے نجات

لندن:اگر آپ اپنی بغلوں اور پسینے کی بدبو سے تنگ ہیں تو ذیل میں بتائے گئے طریقے آزما کر اس ناگواربدبو سے نجات پاسکتے ہیں۔

لیموں

چونکہ پسینے میں تیزابیت ہوتی ہے لہذا لیموں میں موجودpHاس کے لئے بہت اچھی ہے۔لیموں کاٹ کر اسے اپنی بغلوں میں 15منٹ تک رکھیں اور بدبوسے نجات پائیں۔

سیب کاسرکہ

ہایک بوتل میں پانی ڈال کر اس میں سیب کا سرکہ اورلیموں کا رس شامل کریںاور ہرورز صبح سویرے اس محلول کابغلوں میں سپرے کرنے سے بدبو نہیں آئے گی۔آپ چاہیں تو دن میں دو یا تین بار یہ محلول استعمال کرسکتے ہیں۔

ہائیٹروجن پر آکسائیڈ

ہائیٹروجن پر آکسائیڈپانی یا عرق گلاب میں ہائیٹروجن پر آکسائیڈ ڈال کر اس محلول کو بغلوں میں لگانے سے بدبو ختم ہوجاتی ہے۔ بظاہر یہ عجیب لگتا ہے لیکن اگر آپ شیو کرنا کم کردیں گے تو بغلوں کے بالوں کی وجہ سے پسینہ ان میں جذب ہوجائے گا۔بار بار شیو کرنے سے جلد نازک ہوجاتی ہے اور مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔

ٹی ٹری آئل

یہ تیل جلد کے لئے بہت زیادہ مفید ہے اور اس کے استعمال سے نہ صرف جلد کی بیماریاں اور انفیکشن دور ہوتی ہے بلکہ یہ جسم کی بدبو کے لئے بھی مفید ہے۔چند قطرے ٹی ٹری آئل کوعرق گلاب میں شامل کریں اور اس محلول کاسپرے کریں۔جسم اور بغل کی بدبو ختم یا کم ہوجائے گی۔یہ نہ صرف کھانوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اسے بغلوں کی بدبو کے لئے استعمال کی جائے تو بھی یہ بہت مفید ہے۔

بیکنگ سوڈا

بیکنگ سوڈا اور کارن سٹارچ کو مکس کریں اور اسے بغلوں میں لگالیں،سارا دن آپ کو بہت کم پسینہ آئے گا۔ شیو کرنا چھوڑ دیں

نیچرل سوپ

کوشش کریں کہ قدرتی آئل سے بنے صابن کااستعمال کریں۔نہاتے ہوئے ایسے صابن سے نہ صرف آپ کی جلد نرم وملائم رہے گی بلکہ بو بھی نہیں آئے گی۔

ٹیلک

یہ قدرتی منرل بغلوں کی بو کے لئے بہت اچھا ہے۔نہانے کے بعد اسے بغلوں میں لگانے سے پسینہ بھی کم آئے گا اور بدبو بھی نہیں آئے گی

فالج کا خطرہ کم کرنے کا آسان ںسخہ

اگر تو آپ کو مالٹے کھانا پسند ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس طرح کے ترش یا کھٹے پھل فالج کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔

یہ بات فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

پونٹچالیو یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان ترش پھلوں میں موجود ایک جز ہیسپیریڈن دماغ سمیت پورے جسم میں دوران خون کو بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر ترش پھل جیسے مالٹے کے جوس کا استعمال کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور دوران خون میں اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کو مالٹے کا جوس پلایا گیا تو ان کا دوران خون بہتر ہوگیا اور جیسا سب کو معلوم ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ہی فالج کی ایک قسم برین ہیمرج (دماغی شریان کے پھٹنے)کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ترش پھلوں میں وٹامن سی بھی پایا جاتا ہے جو برین ہیمرج کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

وٹامن سی مختلف پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے جیسے مالٹے، لیموں، اسٹرابریز، پپیتا، مرچ وغیرہ۔

محققین کے مطابق نتائج سے معلوم ہوا کہ وٹامن سی کی کمی فالج کے لیے ہائی بلد پریشر، الکحل کے استعمال اور موٹاپے جیسے عناصر کی طرح بڑا خطرہ سمجھی جاسکتی ہے۔

Google Analytics Alternative